خبریں/تبصرے

ایک دن، چار واقعات

عمار علی جان

دو روز قبل، ایک دن میں چار واقعات ایسے ہوئے جو ہمارے معاشرے کے سماجی و اخلاقی زوال کی علامت ہیں۔

اؤل، ایک ہی دن میں 49 صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس پر مقدمے بنا کر حکومت نے ایک زبردست ہلہ بولا۔ ان افراد پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے گئے۔

دوم، حکومت نے دوائیوں کی قیمتوں میں 262 فیصد کا ہوشربا اضافہ کر دیا۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ملک ایک وبا کا شکار ہے اور معیشت میں گراوٹ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سرمایہ داروں کے نزدیک منافع انسانی زندگی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

سوم، سی سی پی او لاہور کی ارکان پارلیمنٹ سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ پر غلط کام کرنے کا الزام لگایا۔ یہ وہی سی سی پی او ہے جس نے سانحہ موٹر وے کے بعد ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی مورد الزام ٹہرایا تھا۔ اس سی سی پی او کے غرور کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کچھ سرکاری لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ سی سی پی او کے لئے اپنے آئی جی کو بھی قربان کر سکتے ہیں۔

چہارم، ایک ڈرامے کا ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں مہاجروں اور پشتونوں کے خلاف افسوسناک سٹیریو ٹائپس کو دہرایا گیا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ آپ اچھے مہاجر یا پشتون تب ہی ہو سکتے ہیں اگر آپ ریاست پر تنقید نہ کریں۔

ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام عوام کی ضرورتیں پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظام کے پاس مسائل کا حل یہ ہے کہ جبر میں اضافہ کر دو، آوازیں دبا دو، فرقہ واریت کو ہوا دو۔

ضروری ہے کہ مختلف سماجی تحریکیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر ایک متبادل معاشرے کا منصوبہ پیش کریں اور اس نفرت کی سیاست کو شکست دیں۔ اگر ہم عام شہری متحد رہیں، صبر اور جرات سے کام لیں تو ہم نفرت کا کاروبار کرنے والوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔