دنیا

عرب ملکوں میں ایشیائی محنت کش یا اکیسویں صدی کے نئے غلام؟

قیصر عباس

عرب اور خلیجی ریاستوں کی ترقی کا دارومدارغیرملکی کار کنوں پر ہے جن کی بیشتر تعداد غیرتعلیم یافتہ اور غریب محنت کشوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چھ عرب ملکوں میں تقریباً 23 ملین غیر ملکی مزدور ہیں اور وہ جس کسمپرسی کے عالم میں وہاں کام کرتے ہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی مجبوریوں کے تحت بڑی کمپینیوں کے عملاً غلام ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اکژچھوٹی مگر طاقتور خلیجی ریاستوں میں دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مزدوروں کی تعداد ان ملکوں کے شہریوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد قطر میں ہے جہاں آبادی کا 95 فیصد حصہ دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ تناسب اسی فیصد اور اومان اور سعودی عرب میں تیس فیصدہے۔ ان ملکوں کے علاوہ بحرین اور کویت میں بھی آبادی کی ایک بڑی تعداد غیر ملکی کارکنوں کی ہے۔

عرب ممالک میں کام کرنے والے مزدوروں میں اگرچہ افریقہ اور مشرق ِوسطیٰ کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن زیادہ تر کارکن ایشیائی ہیں جن کا ایک بڑا حصہ جنوبی ایشیا سے آتاہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف قطر میں کام کرنے والے زیادہ تر کارکنوں کا تعلق انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، مصر، فلپائین، پاکستان، سری لنکا اور سوڈان سے ہے۔

قطر میں تقریباً ایک ملین سے زیادہ غیرملکی کارکن ہیں جن میں بیشتر کا تعلق تعمیراتی شعبوں سے ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ”ان غیرملکی کارکنوں کے بنیادی حقوق پا مال کئے جارہے ہیں۔ ان مزدوروں کی شکایات کے مطابق تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر روزمرہ کا معمول ہے اوراکژانہیں بلا معاوضہ کام پر مجبور بھی کیا جاتاہے۔“

گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی ریاستوں میں اکژمحنت کشوں کواپنی تنخواہ کی وصولی کے لئے تگ ودو کرنا پڑتی ہے اور اوور ٹائم کی عدم ادائیگی سمیت تنخواہ میں یک طرفہ طورپر کٹوتی، ادائیگی میں تاخیر اور معاوضے کے بغیر کام کرنا مزدوروں کے مسلسل استحصال کی صرف چند مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ رہائش، صحت، ٹرانسپورٹ اور دوسری سہولتوں نہ ہونے کے برابرہیں جس کے نتیجے میں یہ مزدو ر گندے اور غیرصحت مند ماحول میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

سعودی عرب اور قطرمیں ان بے ضابطگیوں اور استحصال کی روک تھام کے لئے اگرچہ کچھ اقدامات کئے گئے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اومان اور کویت میں نئے قوانین کے تحت غیر ملکیوں پر کچھ مخصوص شعبوں میں ملازمت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا مقصد اپنے شہریوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس طرح کے کئی اور اقدامات اور قانونی موشگافیوں کے سہارے نہ صرف تعمیراتی شعبوں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی تعلیم یافتہ افراد کے لئے ملازمتوں کے لئے دروازے بندہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب نے اقتصادی مشکلات او رتیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی ملازمت ختم کرکے انہیں گھر واپس بھجوادیاہے۔

ڈاکٹر زہرہ بابر جارج ٹاون یونیورسٹی دوحہ (قطر) میں تحقیقی شعبے کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیں اورغیر ملکی کارکنوں کے مسائل اور ان کے حقوق پرکام کررہی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ”ان قوانین پر عملدرآمد کی راہ میں جو دشواریاں ہیں ان کی وجوہات ان کے مسا ئل حل کرنے میں نااہلیت یا غیر سنجیدگی بھی ہو سکتی ہے لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں کارکنوں کی زندگی پر کمپنیوں کو پور اختیار حاصل ہے اور یہی ان کے استحصال کی جڑ ہے۔“

یہ طاقتور کمپنیاں مزدوروں کو ان کے ملکوں سے ایک معاہدے کے تحت یہاں لاتی ہیں جو انہیں ملازمت تبدیل کرنے، واپس جانے یا نوکری چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا اور ان کے معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار اوراس کا تعین مکمل طور پر ان کمپنیوں کے مرہونِ منت ہے۔ یہ معاہدے دراصل اکیسویں صدی میں غلامی کی جدید شکل ہیں۔

عرب ملکوں میں کام کرنے والے کارکن اپنے ملکوں کے لئے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہوتے ہیں او ر ان میں سے کئی ملکوں کے لئے یہ آمدنی بہت اہم ہے۔ پاکستان بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جس کی اقتصادی ترقی کا انحصار، بین الاقوامی قرضوں کے علاہ، تارکین وطن کارکنوں پر ہے جن میں غیر تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے دونوں قسم کے افراد شامل ہیں۔

انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستانی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں کام کرتی ہے۔ گزشتہ سال 2019ء میں گیارہ ملین پاکستانی دنیا کے پچاس ملکوں میں قانونی طور پرگئے تھے جن میں زیادہ تر مشر قِ وسطیٰ میں کام کررہے ہیں۔ اسی سال پاکستانی محنت کشو ں نے 21.84 بلین ڈالرز کی خطیر رقم ان ملکوں سے پاکستان میں خاندانی کفالت یا دوسرے منصوبوں کے لئے بھجوائی تھی۔

مشرق ِوسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانی ملکی ترقی کا نہ صرف بیش قیمت اثاثہ ہیں بلکہ ملک کے باوقار شہریوں کی حیثیت سے بہتر سلوک کے مستحق بھی ہیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود ارباب اقتدار نے رسمی لب کشائی کے علاوہ کبھی ان کارکنوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ضرورت ہے کہ اب ان محنت کشوں کو صرف ز رِ مبادلہ کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ملک کا باوقار شہری اور انسان بھی سمجھا جائے اور میزبان ملکوں سے ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے مذاکرات کئے جائیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔