خبریں/تبصرے

واشنگٹن ڈی سی: امریکہ اور ترکی کے درمیان اختلافات کی بازگشت

قیصر عباس

امریکہ اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب میں بدھ کو نیٹو کے سابق کمانڈر‘ امریکی ریٹائرڈ جنرل ویلسلی کلارک اور ترکی کی التنباس یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر کیگری ارحان کے درمیان ایک مذاکرہ ہوا۔

اس مذاکرے میں د نیا کے طاقتور ملکوں کی چھوٹے ممالک کو جدید اسلحہ کی فروخت اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کے استحصال کے پہلوبھی کھل کرسامنے آئے۔ امریکہ، ترکی اورنیٹو کے عنوان پر ہونے والے اس مذاکرے میں ڈاکٹر ارحان نے کہا کہ ترکی نے پہلے امریکہ سے پیٹریاٹ میزائل کا دفاعی نظام خریدنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا جس کا خا طر خواہ جواب نہ ملنے پر روس کے ایس 400 سسٹم خریدنے کے انتظامات شروع کیے گئے۔

جنرل کلارک کے بیان کے مطابق روس سے خریدے جانے والے میزائل سسٹم کی خریداری نیٹو (جس کا ترکی رکن ہے) کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے امریکہ اپنے کسی دشمن سے اسلحہ خریدنے کی کوشش کرے۔ ترکی کی حکومت نے دونوں ملکوں کے درمیان اس مسئلے پر کمیشن قائم کرنے کی تجویزبھی پیش کی ہے اور اس مسئلے پرترکی کے صدر اردگان اورامریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اگلے ماہ بات چیت بھی ہونے والی ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے اس معاہدے کے خلاف اپنے سخت موقف میں تر کی پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔اسی دوران ترکی کو امریکی جیٹ طیارے ایف 35 کی فراہمی روکنے کا ارادہ بھی ظاہر کیاگیا۔

ڈاکٹر ارحان نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ تاریخی طورپر ترکی نے ہمیشہ امریکہ کاساتھ دیاہے اور ان کے ملک نے افغانستان اور عراق میں امریکی حملے کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ روسی میزائل صرف دفاعی نظام کا حصہ ہیں جس سے نیٹو کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔

جنرل کلارک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن یونین ابھی تک اس مسئلے پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

یہ مذاکرہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے اس پس منظر میں ہو رہا تھا جس میں ترکی نے امریکہ کی بجائے روس اور چین کے ساتھ اتحاد کے بڑھتے ہوئے رشتوں کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ترکی یہ بھی سمجھتا ہے کہ شام میں امریکی حکمت عملی سے اس کے مفادات پر براہ راست منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس موقع پرامریکہ میں ترکی کے سفیر کے علاوہ عالمی ذرائع ابلاغ کی بڑی تعداد بھی موجودتھی۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔