پاکستان

ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کو سماجی تصادم کا رنگ دے دیا

قیصر عباس

امریکہ میں ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے میں صدر ٹرمپ نے انتخاب کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک نیا اور ملکی امن کے لئے انتہائی خطرناک رخ دے دیا ہے جسے جمہوریت کے لئے ایک بڑے خطرے کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔

ڈ یموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ہونے والے پہلے مباحثے میں ٹرمپ نے نہ صرف اس موقع کو ذاتی حملوں کے لئے استعمال کیا بلکہ سفیدفام نسلی برتری کی پر تشدد تحریکوں کی مذمت کے بجائے انہیں انتخاب میں ہوشیار اور تیار رہنے کاپیغام دیا۔

ایک سوال کے جواب میں صدر نے ان گروپس کو انتخاب پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی جسے ملک میں سول نافرمانی اور نسلی فسادات کے عندئیے کے طورپر دیکھاجا رہا ہے۔ مبصرین ایک عرصے سے اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ اپنی شکست کی صورت میں صدر ملک میں افراتفری اور فسادات پھیلا سکتے ہیں۔ ان تعصب پسند گروہوں کی مذمت نہ کرکے صدر نے ان تمام خدشوں کی تصدیق کردی ہے۔

ادھر ملک کے سیاسی حلقوں، رہنماؤں اور خود صدر کی اپنی سیاسی جماعت کے لیڈروں نے صدر کے ان حربوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جمہوری روایات کو قائم رکھتے ہوئے ملک میں پرامن طور پر انتقال اقتدار کو مکمل ہونے دیا جا ئے گا خواہ اس میں صدر ٹرمپ کی شکست ہی کیوں نہ ہو۔

صدر کی پارٹی کے اہم لیڈر اور سینٹ میں اکثریت کے قائد مچ مکانل (Mitch McConnell) نے کہاہے کہ جنوری میں انتخاب کے نتائج کو پرامن طور پر قبو ل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ”تین نومبرکو ہونے والے الیکشن میں جیتنے والے کسی بھی امیدوار کا انتقالِ اقتدار ممکن بنا یا جائے گا ا ور بیس جنوری کو نیا صد رہر صورت میں حلف اٹھائے گا۔“

ان کی پارٹی کے دوسرے اہم رہنماؤں نے بھی ان ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹر مپ کے رویوں کی مذمت کی ہے اگرچہ انہوں نے براہ راست ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔ ان میں مارکو روبیو، مٹ رومنی، اسٹیو اسٹورزاور سابق نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی لز چینی بھی شامل ہیں۔

پورے مباحثے میں ٹرمپ نے اپنے مخالف امیدوار اور ان کے خاندان پر ذاتی حملے جاری رکھے اور مباحثے کے ناظم فوکس ٹی وی کے سینئرصحافی کرس والس کی متعددیادہانیوں کے باوجود، اپنے مخالف امیدوار کو بمشکل بولنے کا موقع فراہم کیا اور ان کی تقریر میں مسلسل مداخلت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کالج میں اپنی کلاس میں سب سے پیچھے تھے اور وہ ذہنی طور پر سمارٹ نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے جوبائیڈن کے بیٹے پر بین الاقوامی سطح پر مالی ہیرا پھیری کے الزامات بھی لگائے۔ ان کا یہ رویہ ایک مقام پر جوبائیڈن کے لئے اتنا ناقابل برداشت تھا کہ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک ’جوکر‘ ہیں۔

اگرچہ پورے مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر ذاتی حملے جاری رکھے لیکن مقابلتاً جو بائیڈن کی تقریر ملک کے مسائل اور ان کے حل کے لئے اپنے منصوبوں کا احاطہ کئے ہوئے تھی جس میں انہوں نے استدلال اور اعدادوشمار کے ذ ریعے اپنے موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ اپنی نااہلی کی وجہ سے کرونا وائرس کی روک تھا م میں ناکام رہے ہیں اور ان کے پاس اس موذی وبا سے نبرد آزما ہونے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو ان 200,000 امریکیوں کی موت کا ذمہ دار قرار دیا جو اس وبا میں مبتلا ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ”جب صدر ٹرمپ کو اس صورت حال سے آگاہ کیاگیا تو ان کاجواب تھا کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل عوام نہیں خود صدر ٹرمپ گھبر ا ئے ہوئے تھے۔“

صدر ٹرمپ نے اپنے اس مو قف کو دہرایا کہ نسلی تعصب پر احتجاج کو امن وامان قائم رکھنے والے اداروں کے ذریعے ختم کیا جاسکتاہے۔ ان سے جب سوال کیاگیا کہاانہوں نے نسلی امتیاز کے بارے میں پولیس کی ٹریننگ کوکن وجوہات کی بنا پرروکا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”لوگوں کو اس تربیت کے ذریعے ایک دوسرے سے نفرت کا سبق پڑھایا جارہا تھا اور میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔“

مباحثے میں شامل سوالات کا تعلق ملک کے سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری، سماجی انصاف، امیروں پر ٹیکس، کرونا وائرس، نسلی امتیازکے خاتمے، افریقی النسل امریکوں سے امتیازی سلوک، اقتصادی ترقی، ووٹروں کا صدارتی امیدواروں پر اعتماد اور دوسرے اہم مسائل سے تھا۔ ایک طرف جوبائیڈن نے موجودہ صدر کو نااہل اور نسلی طور پر متعصب قرار دیا جب کہ صدر ٹرمپ نے انہیں سوشلست امیدوار ثابت کرنے کی کوشش کی۔

سی این این ٹی وی کے ایک سروے کے مطابق اس مباحثے کے ساٹھ فیصد ناظرین نے جوبائیڈن کو مباحثے کا فاتح قراردیا ہے جب کہ اٹھائیس فیصدنے ٹرمپ کو۔ اس کے علاوہ پینسٹھ فیصد ناظرین جو بائیڈن کو سچا سمجھتے ہیں ا ور اٹھائیس فیصد ٹرمپ کو۔ سی بی ایس ٹی وی کے ایک اور سروے میں اڑتالیس فیصد ناظرین نے جوبائیڈن کو اوراکتالیس فیصد نے ٹرمپ کو ڈبیٹ کا فاتح قراردیا ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں امریکی انتخابات کی گہماگہمی اپنے عروج پر ہوگی۔ صدارتی امیدواروں کے دو اور مباحثے پندرہ اور اکیس اکتوبرکو ہوں گے اور نا ئب صدر کے امیدواروں کے درمیان ایک مباحثہ سات اکتوبرکو ہوگا۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔