پاکستان

پی ڈی ایم کے ایجنڈے اور عوامی مطالبات میں گہری خلیج حائل ہے

امان اللہ کاکڑ

پاکستان میں پی ٹی آئی کی کٹھ پتلی حکومت کو اقتدار سے پہلے عوام کے ساتھ کئے وعدوں میں بلاشبہ ایک بھی وعدہ نبھانے میں کامیابی نہیں ملی۔ پچھلے دو سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کی کنٹرولڈ حکومت پچھلی دیگر حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے جال میں پھنسی ہے اور مزید گہرائی میں دھکیلنے کے اثرات نظر آتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں میں جکڑی ریاست کوئی بھی حکومت نہیں چلا سکتی ہے۔ پچھلی سات دہائیوں سے غربت، ہسپتال کی کمی، بے روزگاری، ناانصافی اور بدامنی وغیرہ میں ڈوبی ہوئی عوام کو نہ تحریک انصاف اس حالت سے نکال سکتی ہے اور نہ عمران خان۔

سات دہائیوں سے جما ہوا گرد و غبار۔ اس نے سماج کا حلیہ بدل دیا ہے۔ آمرانہ اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ایک تسلسل کے ساتھ اپنے اپنے دور میں عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ تمام جمہوری حکومتوں نے آئین اور عوام کے ساتھ وہ کیا جو کچھ آمرانہ حکومتیں کر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ نام نہاد جمہوریت بے معنی اور بے مقصد بن گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی اس تسلسل کی کڑی ہے۔ اس کنٹرولڈ حکومت سے کوئی توقع نہ پہلے تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ یہ حکومت بھی سات دہائیوں سے عوام پر حکمرانی کرنے والی دیگر حکومتوں کی طرح عوام کا خون چوس رہی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مالیاتی اداروں سے قرضے لے رہی ہے اور ہر طرح اور ہر حوالے سے مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں فرقہ پرستی کو بھی خوب ابھارا گیا جس کی مثال فرقہ پرستوں کی ریلیاں اور اجتماعات ہیں۔

سماج کے اندر موجود عوامی غصہ بھی سات دہائیوں سے حکمرانی کرنے والی حکومتوں کے خلاف پیدا ہونے والا غصہ ہے۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ مزید عوام میں جانے کا ان لوگوں کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ سب لوگ ننگا ہوچکے ہیں، عوام پہچان چکی ہے اور ان کا کردار واضح ہو چکا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ لوگ ایک دوسرے کو اگرچہ بظاہر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں مگر عوامی غصے سے بچنے کیلئے ایک دوسرے کا اندرون خانہ ساتھ بھی دیتے ہیں۔

اس وقت اس نظام کی بی ٹیم، یعنی اپوزیشن بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ تمام پارٹیاں بظاہر تو ایک ہوگئیں مگر اندرونی طور پر وہ انفرادی لڑائی لڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اندر کھاتے ہر پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی وفاداری کا ثبوت دینے میں مصروف ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو اس سماج میں بسنے والے بہتر جانتے ہیں۔ ان سے شاید مزید عوام دھوکہ کھانے والے نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کی سیاست نے سیاسی روایات اتنی پامال کی کہ نواز شریف اور فضل الرحمان کو بھی بہت موقع ملا کہ وہ خود کو مظلوم ثابت کر کے عوامی حمایت حاصل کریں۔

اس کے باوجودنواز شریف کی جمہوریت کے چرچے وقتی طور پر تو سیاست میں سیاست سے لاتعلق لوگوں دغا دے سکتے ہیں لیکن دراصل حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نہ نواز شریف یہاں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر کچھ کر سکتا ہے نہ بیرونی طاقتوں کی مرضی کے بغیر کچھ کر سکتا ہے اور نہ پہلے کچھ کیا تھا۔ عارضی طور پر سیاسی فضا گرد آلود بنانے کیلئے اور اپنا کھویا ہوا حصہ پانے کیلئے ان کی غیر حقیقی تقریریں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ فضل الرحمان کی رجعتی سیاست کسی مرض کی دوا تو دور کی بات، التا زہر کے مترادف ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت فضل الرحمان کو سونپنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اتحاد کس دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ عوامی مطالبات اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مطالبات میں بڑا فرق ہے۔ عوام اپنے مسائل کا حل، روزگار، غربت کا خاتمہ، امن و امان، صحت، تعلیم، طبقاتی نظام کا خاتمہ اور تمام تر ضروریات و سہولیات زندگی چاہتی ہے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اقتدار، حصہ داری، چاپلوسی اور اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

Aman Ullah Kakar

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔