نقطہ نظر

ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں: خلیل جھشان

قیصر عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اندرونی طور پر سیاسی اور اقتصادی مسائل میں گرفتار ہیں اور ان کے کرونا وائرس سے متعلق ناقص اقدامات پرسخت تنقید بھی جاری ہے۔ کیا یہ دونوں رہنما اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے مشرق وسطیٰ میں تصادم کی نئی پالیسویوں کو فروغ دے سکتے ہیں؟

عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خلیل جھشان کے مطابق ایسا عین ممکن ہے اور دونوں رہنما ایران کے خلاف کوئی انتہائی قدم اٹھاکر ملک میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

خلیل فلسطینی نژاد امریکی ہیں جو پیپرڈین یونیورسٹی واشنگٹن میں لسانیات اور بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرر رہ چکے ہیں۔ وہ امریکہ عرب تعلقات کی کئی تنطیموں کے سربراہ رہے ہیں اور Amrican Arab Anti-Discemiantion Committee (ADC) کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔

خلیل جھشان نے’روزنامہ جدوجہد‘سے ایک خصوصی انٹرویو میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان حالیہ معاہدوں، مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تصادم کے علاوہ مسئلہ فلسطین، عرب اسرائیلی تعلقات، مشرق وسطیٰ کی سیاسیات اور دوسرے اہم موضوعات پر گفتگو کی ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں دو خلیجی ریاستوں متحدہ عرب امارات اور بحرین سے معاہدوں کے ذریعے سفارتی تعلقات استوار کئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جن کی وساطت سے یہ معاہدے طے پائے، اپنی صدارتی مہم میں جوبائیڈن سے بہت پیچھے جا رہے ہیں اور ان کے لئے ان بین الاقوامی کامیابیوں کا اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا۔ کیا آپ کے خیال میں وہ کر ونا وائرس، غیر مقبولیت اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے توجہ ہٹانے کے لئے بیرونی مہم جوئی کرسکتے ہیں؟

صدرٹرمپ کی پوری توجہ صرف اس بات پر ہے کہ وہ دوسری مرتبہ کس طرح صدر منتخب سکتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کسی بھی مہم جوئی کی ابتدا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی تمام فیصلہ سازی بھی اس مقصدکے تحت ہو رہی ہے۔ وہ اب سیاسی طورپر کمزور نظر آ رہے ہیں اور مجھے کوئی تعجب نہیں ہو گا اگر وہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی غیر معمولی قدم اٹھائیں۔ وہ نہ صرف الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہیں بلکہ ایران کے خلاف کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم کو بھی اندرونی طورپر مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور سیاسی طور پر ان کی مقبولیت اتنی مستحکم نہیں رہی۔ کیا آپ کے خیال میں عرب ملکوں کے ساتھ نئے معاہدوں سے انہیں اندرونی طورپر فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟

ٹرمپ کی طرح نیتن یاہو کو بھی اندرونی مشکلات کا سامناہے۔ ملک میں کرونا وائرس کی روک تھام میں ناکامی کے خلاف تحریک، اقتصادی مسائل اور مالی بدعنوانی کے الزامات میں ان کے خلاف مقدمات، ان سب مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ وہ اپنی مکیاولی چالوں میں مہارت رکھتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ اگر سیاسی طور پرکنارے لگا دئے جائیں تو انتہائی خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

وہ ٹرمپ کی جانب سے اس بلا قیمت مدد کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی غلطیوں اور کرپشن سے توجہ ہٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی تک تو وہ اپنے ووٹ بینک کی حمائت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے موجودہ سیاسی اتحاد کو ختم کر کے چوتھے انتخابات کے ذریعے اپنی سیاسی زندگی میں ایک نئی روح پھونکنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

کیا یہ معاہدے علاقے میں کسی بڑی تبدیلی کا محرک ثابت ہو سکتے ہیں اورکیا ان سے عرب ملکوں کی سیکورٹی کی ضمانت مل سکتی ہے؟

امارات اور بحرین کے اسرائیل سے حالیہ معاہدے علاقے میں کچھ تبدیلیاں تو ضرور لا سکتے ہیں لیکن یہ مشکل ہے کہ ان کے ذریعے علاقے کے امن اور سکیورٹی کو استحکام ملے گا۔ ان معاہدوں کا مقصد بھی عرب اسرائیل امن اور فلسطین کے مسائل حل کرنا نہیں ہے۔ ان کا بنیادی مقصد موجودہ صورت حال میں ایران اور ترکی سے علاقے کو لاحق سکیورٹی کے مبینہ خطرات کو کم کرنا ہے۔ در اصل یہ معاہدے اسرائیل اور فلسطینی لوگوں کے درمیان دوررس امن کی راہ میں رکاوٹ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

عرب ممالک تو پہلے ہی مغربی ملکوں کے اسلحے سے پوری طرح لیس ہیں اور ان ملکوں سے دفاعی معاہدے بھی موجود ہیں۔ مغربی ممالک ایران کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں اور جہاں حکوت تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے آزما رہے ہیں اور پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ نئے معاہدے مشرق وسطیٰ میں کوئی بڑی تبدیلی کے محرک ہوسکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ماضی میں سعودی عرب میں ڈرون حملوں کے بعد امریکہ یا اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی اور یہ دونوں طاقتیں عرب ریاستوں کے دفاع میں ایران سے براہ راست ٹکراؤ کا خطرہ مول نہیں لیں گی۔

سعودی عرب ابھی تک خلیجی ریاستوں میں اہمیت کا حامل تھا لیکن ان معاہدوں کے بعد یہ ریاستیں اب براہ راست امریکہ اور اسرائیل سے رابطے میں ہیں اور امریکہ سے اسلحہ بھی خرید رہی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں خلیج میں سعودی عرب کی اہمیت کم ہو رہی ہے؟

خلیجی ریاستوں میں اسلحہ کی درآمد سے یقیناً علاقے کے سیاسی توازن میں فرق پڑنے کی امید ہے خصوصاً جب امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان ممالک کو امریکی اسلحہ کی فروخت دگنی ہو گئی ہے۔ سعودی عرب نے 2016-19ء کے درمیان ایک سو بیس بلین ڈالر کی مالیت کا امریکی اسلحہ خریدا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کیااسلحہ کے حصول سے خلیجی ریاستیں سکیورٹی حاصل کر سکیں گی؟ میرے خیال میں یہ صرف ایک خیال خام ہے کہ وہ جدید ہتھیاروں کی مدد سے اپنی سکیورٹی مضبوط کر سکیں گی۔

ان معاہدوں سے اسرائیل اور عرب ملکوں نے اگرچہ ایران کے خلاف سکیورٹی مستحکم کی ہے لیکن فلسطینی باشندوں کے حقوق، ان کا حق خود ارادیت او ر ان کے دیگر مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

پہلے تو یہ کہ ان معاہدوں سے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کو استحکام نہیں ملا ہے اور انہیں ایران کی کسی کارووائی سے تحفظ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس کے برعکس اس سے ایران کی جانب سے عرب ممالک کے خلاف اپنے موقف میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ امارات کا یہ دعویٰ کہ ان کا معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے درست نظر نہیں آتا۔

میں آپ سے متفق ہوں کہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیاہے بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ مستقبل میں ان مسائل پر کسی بھی گفت و شنید کی راہ میں مزید مشکلات حائل ہو گئی ہیں۔ امارات اور بحرین کے یہ دعوے کہ یہ معاہدے فلسطین کے مسائل کے حل کی جانب ایک قدم ہیں ناقابل یقین ہیں۔ ان کے نتیجے میں اسرائیل علاقے میں دیر پا امن کی کوششوں کو ناکام بنائے گا، فلسطین کے خلاف سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا اور علاقے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ایک لمبے عرصے سے التوا کا شکار ہے جب کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں اپنی تجاوزات میں مسلسل اضافہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ آپ کے خیال میں یہاں امن کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں اور فلسطین کی ریاست کی تشکیل میں کیا دشواریاں حائل ہیں؟

اولاً یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امن کی راہ میں کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے اور اسرائیل کی رجعت پسند حکومت کو آج بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کوئی فوائدحاصل ہونے کی امید بھی نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ امن کے لئے سنجیدہ ہو۔ خود نیتن یاہو بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے لئے یہ معاہدے کرنازیادہ ضروری ہیں خصوصاً اس وقت جب عرب ملکوں نے اسرائیل سے فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہونے کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا۔

فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں موجودہ حالات کے پیش نظر ایک قدم پیچھے ہٹ کر نئے سرے سے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک ان کی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے ابھی راہ ہموار نہیں ہے۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے موجود ہوتے ہوئے انہیں امن کی راہ میں کسی پیش رفت کی خوش فہمی بھی نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہاہے کہ دوسری اسلامی ریاستیں بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے جا رہی ہیں۔ آپ کے خیال میں وہ کون سے ملک ہیں؟ کیا سعودی عرب بھی عنقریب اسرائیل سے تعلقات قائم کرلے گا؟

میرے خیال میں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ابوظہبی اورمنامہ کے ان معاہدوں کی کامیابی سے بے حد پرامیدہے۔ ان کے خیال میں چھ یا نو مزید عرب ممالک بھی اسی طرز پر معاہدے کر سکتے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق نہ صرف اومان، سوڈان، موریطانیہ، مراکش، جبوتی اور کویت بلکہ سعودی عرب بھی اس صف میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ فلسطین میں امن کے بغیر پورے خطے میں امن کا قیام ناممکن ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔