خبریں/تبصرے

بابا جان کی رہائی کیلئے غیر معینہ دھرنے کا 5 واں دن: ہزاروں لوگ 24 گھنٹے موجود

نازنین نیاز ہنزائی

جمعے کے روز بابا جان اور ان کے تیرہ ساتھیوں کی رہائی کے لئے جاری دھرنا احتجاج کے پانچویں دن میں داخل ہو گیا۔ چوتھے اور پانچویں دن لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ در حقیقت ہر آنے والے دن کے ساتھ دھرنے کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گذشتہ دو دن سے رات کے دوران بھی دھرنے کے شرکا کی تعداد میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مقامی سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا احتجاج ہنزہ کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ہنزہ میں شروع ہونے والا یہ احتجاج اب پورے گلگت میں پھیل گیا ہے۔ گذشتہ روز بھی دیامر اور فنڈر سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔ اس کے علاوہ دیگر قصبوں سے پر امن مظاہرین ریلیوں کی شکل میں علی آباد پہنچے اور دھرنے میں شرکت کی۔

اس دھرنے کو ابتدائی دو دن تک مین سٹریم میڈیا میں کوئی کوریج نہیں ملی لیکن دو دن سے اب نہ صرف ملک کے بڑے اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور عالمی میڈیا بھی کوریج دے رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے البتہ ابھی تک کسی نے دھرنے کے منتظمین سے رابطہ نہیں کیا۔ مقامی انتظامیہ اس کوشش میں ہے کہ دھرنا ختم کرا دیا جائے البتہ مظاہرین اس عہد کے ساتھ بیٹھے ہیں کہ قیدیوں کی رہائی تک دھرنا جاری رہے گا۔ ’ہمارے بھائی باہر آئیں گے یا ہم بھی اندر جائیں گے‘ ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے۔

دھرنے کے چوتھے روز معروف قوم پرست رہنما اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے رکن نواز ناجی نے بھی شرکت کی۔

Nazneen Niaz Hunzai

نازنین نیاز ہنزائی عوامی ورکرز پارٹی کی رکن ہیں اور ہنزہ سے تعلق رکھتی ہیں۔