پاکستان

’نیا پاکستان‘ کسی روشن مستقبل کی کرن نہیں

امان اللہ کاکڑ

’نیا پاکستان‘ پرانے پاکستان سے بھی زیادہ ناکام اور بدترین ملک بن گیا ہے۔ پرانے پاکستان میں زندگی بسر کرنے کیلئے موجود گنجائش نئے پاکستان میں مکمل طور پر ناپید ہونے کو ہے۔ خطر ناک ترین بات یہ ہے کہ سماجی گھٹن قابل برداشت حد سے تجاوز کر گئی ہے اور اب ہر کسی کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کے قریب ہے۔

اس سماج میں وجود رکھنے والے حقیقی مسائل سے ہٹ کر غیر حقیقی موضوعات پر بحث…پوری ریاستی مشینری کے توسط سے اور حکمرانوں کی منشا سے…چھیڑے رکھنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ ایک طرف سماج کی زیریں پرت میں موجود مسائل اتنے تلخ اور ناقابل حل ہو گئے ہیں کہ لوگوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ محرومی کا شکار عوام ہر طرح کا احساس ملکیت کھو بیٹھی ہے اور بیگانگی کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر لوگوں کے دلوں اور ذہنوں سے ہمدردی، اپنائیت، وفاداری، خلوص اور انسانی جذبہ ختم ہونے کی مثالیں نظر آتی ہیں تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ہر کوئی اپنی ذات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انفرادیت کا بازار گرم کیا گیا ہے۔ اجتماعیت اور اجتماعی سوچ ایک عجوبہ بن کر رہ گئی ہے۔

وجہ واضح ہے: انتہا درجے کی غربت کا راج ہے۔ نوجوان بیروزگار ہیں۔ ملازمتوں کا شدید فقدان ہے۔ بازاروں میں کمائی سے گھروں کے چولہے نہیں جلتے۔ ڈیلی ویجرز دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔ علاج معالجے کی سہولیات کی عدم موجودگی سے آبادی کا بڑا حصہ غیر سائنسی علاج کرانے پر مجبور ہے یا پھر غریب لوگ بغیر علاج کے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ صحت کا نظام اتنی غیر معیاری حالت میں ہے کہ علاج کرانے کے بعد تندرست ہونے سے زیادہ مزید بیمار ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ دوا ساز کمپنیوں کے مالکان مرض کے دارو بنانے کی بجائے اپنی منافع خوری پر توجہ دیتے ہیں۔ زیادہ تر ہسپتالوں، میڈیکل اسٹورز اور لیبارٹریاں قابل اطمینان نہیں ہیں۔

تعلیم بیوپار بنا دیا گیا ہے۔ حصول تعلیم تک عام آدمی کی رسائی مشکل کی بجائے ناممکن ہو گئی ہے۔ موجودہ نظام تعلیم و شعور، تربیت، روشنی اور آگاہی دینے کی بجائے مزید جہالت، جنونیت اور تاریکی میں دھکیل رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی شدید قلت ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے ہر قسم کی سہولیات سے محروم ہیں۔ طلبہ بعض اوقات نیلے آسمان تلے یا پھر ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حال عمارتوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ یہی حالت ان اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کی ہے۔ ماہرین پیدا کرنے سے زیادہ نفسیاتی مریضوں کو پیدا کیا جا رہا ہے۔

انفراسٹرکچر کا مسئلہ اتنا گھمبیر ہوتا جا رہا ہے کہ آئے روز حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گرد و غبار اور دھواں ایک صحت مند زندگی کو بیمار زندگی بنا رہا ہے۔ بدامنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسہ جاری و ساری ہے۔ لاپتہ ہونا، ٹارکٹ کلنگ، بم دھماکے، اغوا، چوری کی وارداتیں، سٹریٹ کرائم اور جنسی تشدد وغیرہ ایک معمول بن گئے ہیں۔

اس زیریں پرت میں موجود مسائل کی ایک نہ ختم والی فہرست تیار کی جا سکتی ہے اور یہ حقیقی اور معروضی مسائل اور حالات ہیں جس سے یہاں کے حکمرانوں کا کوسوں دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادھر بالائی پرت سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے کرتوت کیا ہیں؟ وہ ہرقسم کا جبر کرنے اور دباؤ ڈالنے سے کبھی گریز نہیں کرتے۔ جعلی دشمنیوں پر عوام کا پیسہ دھڑا دھڑ اور بے دریغ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ بیرونی جعلی جنگوں اور دشمنیوں کا ڈرامہ بھی اپنے شہریوں کے ذہنوں میں گھسیٹردیتے ہیں۔

جنگ، فرقہ پرستی اور بیرونی جعلی دشمنیاں ان لوگوں کا کاروبار ہے۔ اب عمران خان جو ملائیت اور جنونیت کا کلین شیو اظہار ہے، نے اپنی حکومت کی ناکامی کو چھپانے کیلئے فرقہ پرست سرگرمیوں کو شہ دی ہے۔ ایک دوسرے کو دھمکیاں، فتوے اور الزامات کا بھی پھر سے ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ باقاعدہ طور پر ٹارگٹ کلنگ بھی شروع ہے۔ اس عمل کے جاری ہونے کے بعد عنقریب بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

یہ ’نیا پاکستان‘ کسی روشن مستقبل کی کرن نہیں ہے۔

Aman Ullah Kakar

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔