پاکستان

بلوچ طلبہ کے کوٹے میں کمی کے خلاف لانگ مارچ

عمار علی جان

بلوچستان عوامی تخیل میں سب سے زیادہ محکوم اورپسا ہوا خطہ ہے۔ جیسا کہ محکوم لوگوں سے جڑی ہر علامت کا معاملہ ہوتا ہے، معاشرے کے اجتماعی شعور میں بھی بلوچ خوف اور تشدد کی علامت بن کر ہی ابھرتے ہیں۔

ایک بات جو ہم بھول جاتے ہیں یہ ہے کہ بلوچستان نے باقی ملک میں ہونے والی ترقی کو اپنے قدرتی وسائل سے سبسیڈائز کیا ہے مگر خود یہ صوبہ سب سے زیادہ پس ماندہ اور ملٹرائزڈ صوبہ ہے۔

چند سال پہلے صوبہ پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کو وظائف دینے کا ایک اقدام اٹھایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کوئی خیرات نہیں تھا۔ یہ فیصلہ اس بات کا اعتراف تھا کہ بلوچ نوجوان عرصہ دراز سے نا انصافی اور محرومی کا شکار ہیں اور یہ قدم ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کی جانب ایک قدم تھا۔

یہ بات سمجھنا انتہائی اہم ہے: جب کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے تو یہ کوئی احسان نہیں ہوتا بلکہ اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ ملک (اور دنیا) کے مختلف حصوں کے مابین ماضی کی حکومتوں کی مسلسل پالیسیوں کی وجہ سے خلیج قائم ہو گئی ہے۔

اس کے باوجود موجودہ حکومت نے بلوچستان اور سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے کوٹے میں کمی کر دی ہے۔ کیا ریاست کو پچھڑے ہوئے خطوں کی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی؟ یا ریاست کا خیال ہے کہ تاریخی طور پر ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہو چکا؟ کس بنیاد پر پنجاب کی جامعات کے دروازے بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلبہ پر بند کئے جا رہے ہیں۔

بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پڑھنے والے بلوچ طلبہ نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا ہے۔ پچھلے دو ہفتے سے جامعہ پنجاب میں بلوچ اور پشتون طلبہ دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ وہ ایک نالائق حکومت کے ہاتھوں اپنے مستقبل پر پڑنے والے ڈاکے کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

حکومت ہمیں نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے پنجاب کے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بلوچ اور پشتون بہن بھایؤں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہمارے ہم شہریوں کی زندگیاں برائے فروخت نہیں اور ہم نسلی، مذہبی اور جینڈر کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہر طالب علم کے وقار کے لئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے۔

ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔