نقطہ نظر

وزیر خانم: پدر سری معاشرے کا صنفی استعارہ

قیصر عباس

”اس روشن خوش گوار کمرے کی نرم کرنیں وزیر خانم کے بدن کے چاروں طرف رقص کناں لگتی تھیں اور رات کا متبسم آسمانی رنگ اس طرح اس کے سارے وجود سے جھلک رہا تھاگویا وہ لڑکی کے بجائے کوئی غیر زمینی وجود ہے۔ اس کا قد متوسط سے کچھ نکلتا ہوا تھا لیکن نہایت متناسب اور ہر قدم آہستہ تھا لیکن اس سے جھجھک یا غیر تیقن کی جگہ اعتماد و استقلال ٹپکتا پڑ تا تھا۔ اس کی چال میں لطیف روانی تھی جیسے جمنا میں رات کی ہلکی لہروں پر بجرا آپ سے آپ چلا جارہاہو۔“

یہ اس دوشیزہ کاسراپاہے جوغدر سے کچھ پہلے کے دور میں اپنی بے مثال خوبصورتی اور ذاتی قابلیت کے سہارے دارلسلطنت دہلی کے شرفا کے دلوں پر راج کرتی تھی۔

اردو کے معروف تنقید نگار، ناول نویس اور افسانہ نگار شمس الرحمن فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرِآسماں‘ مغلیہ دورکے آخری عشروں میں مسلم سماج کی داستان ہے۔ اس کے تمام کردار تاریخی اور حقیقی ہیں جنہیں مصنف نے زبان وبیان کی مہارت سے واقعات کی لڑیوں میں پرو کر ناول کی صورت دی ہے۔ خود مصنف کے بقول ”اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان مکمل اہتمام کیاہے، لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔“ کہا جاسکتا ہے کہ تصنیف کے کردار اور اس کا پلاٹ تو تاریخی ہیں لیکن اس میں شامل کہانیاں، واقعات ،ماحول، زبان اور مکالمے مصنف کی اپنی تخلیق ہیں۔

ناول کی کہانی ایک خوبصورت حسینہ وزیر خانم کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ذہانت، بذلہ سنجی اور ادبی ذوق میں کوئی ثانی نہیں رکھتی اور سماجی بندھنوں سے بغاوت کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ناول اپنے عہد کاایک صنفی استعارہ ہے جو مغلیہ دور کے آخری چند عشروں کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر میں مسلم معاشرے میں عورت کے مقام کی تصویر پیش کرتا ہے۔

وزیر خانم اپنی دو بڑی بہنوں انوری اور عمدہ خانم میں سب سے چھوٹی اور سب سے حسین ہے۔ اس کے والدیوسف کا سلسہ نسب کشن گڑھ کے مصور مخصوص اللہ سے ملتاہے جنہیں ایک ایسی حسینہ کی تصویر بنانے کی پاداش میں ریاست چھوڑنا پڑی تھی جو مہاراجہ کی بیٹی من موہنی سے حیرت انگیز طورپرمشاہبت رکھتی تھی۔ اس زمانے کی روایات کے مطابق لڑکیوں اور خاص طور پر شہزادیوں کو سات پردوں میں رکھا جاتا تھا۔ اس بدقسمت شہزادی کی گردن صرف اس لئے اڑادی جاتی ہے کہ مصور کی تصویر اس سے اتفاقاً مشابہت رکھتی تھی۔

وزیر کی بڑی بہن کی شادی مولوی نظیر سے ہوجاتی ہے اور منجھلی بہن عمدہ خانم دہلی کے نواب سید یوسف علی خان کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے لیکن بغیر نکاح کئے۔ وزیر خانم اپنی سوچ اور اٹھان میں اپنی دو بہنوں سے بہت مختلف ہے جو اپنی زندگی دوسروں کے نہیں اپنے اصولوں کے مطابق گزارنا چاہتی ہے اور بہنوں کے سمجھانے کاباوجود شادی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

اس کی بڑی بہن جب اسے شادی پر رضا مند کرنے کے لئے کہتی ہے کہ عورت کے لئے دو راستے ہیں، شریفوں کی طرح گھر بسائے یا رزیلوں کی طرح بدنام ہو تو وزیر کا جواب ملتاہے:

وزیر: ”بس بھی کرو یہ شریفوں رزالوں کی باتیں۔ مرد کچھ بھی کرتے پھریں انہیں کوئی کچھ نہ کہے اورہم عورتیں ذرا اونچے بھی سر میں بول دیں تو خیلا چھتیسی کہلائیں۔ اللہ یہ کہاں کا انصاف ہے۔“

باجی: ”بس یہی دستور ہے، یہی انصاف ہے۔ عورت ذات کو اللہ نے شرم حیامامتا رحم دلی اور قربانی کا پتلا بنا یا ہے۔“

وزیر: ”میں نہیں بنتی کسی کی پتلا پتلی۔ میری صورت اچھی ہے میرا ذہن تیز ہے۔ میرے ہاتھ پاوں صحیح ہیں۔ میں کس مرد سے کم ہوں؟ جس اللہ نے مجھ میں یہ سب چیزیں جمع کی ہیں اس کو کب گوارہ ہو گا کہ میں اپنی اہلیت سے کام نہ لوں بس چپ چاپ مردوں کی ہوس کی ہوس پربھینٹ چڑھا دی جاوں۔“

تصنیف ابتدا سے اس نظریہ حیات کو فروغ دیتی نظر آتی ہے جہاں عورت کی حیثیت کا تعین مردوں کے حوالے ہی سے کیا جاتا ہے اور جس کا فیصلہ بھی خود مرد کرتے ہیں۔ یہاں ناول کا مرکزی کردار اس نظریہ حیات کو ماننے سے انکاری ہے کہ عورت معاشرے میں ایک ثانوی درجہ رکھتی ہے۔

وزیر خانم کی ملا قات حادثاتی طور پرانگریز افسر بلیک مارسٹن سے ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کر لیتے ہیں اور ساتھ رہنے لگتے ہیں شادی کے بندھن میں گرفتار ہوئے بغیر۔ ان دونوں کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور وزیر کی زندگی عیش و آرام سے گزر رہی ہے۔

بلیک کا خیال ہے کہ وہ ایک مہم سے واپسی پر وزیر کو شادی کے مضبوط بندھن میں باندھ لے گا۔ لیکن بد قسمتی سے وہ ایک بلوے میں مارا جاتاہے۔ دونوں کی اولاد کو بلیک کے خاندان والے اپنا لیتے ہیں کہ وہ انہیں عیسائی بناناپسند کرتے ہیں۔ وزیر کی زندگی کا پہلا باب اس طرح ختم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال و اسباب کے ساتھ دہلی منتقل ہو جاتی ہے جہاں اس کی بہنیں اور والد بھی موجود ہیں۔

یہاں اس کے بہنوئی کے ذریعے وزیر کا تعارف ایک انگریزافسر ولیم فریزر اور دہلی کے نواب شمس الدین سے ہوتا ہے جو الور اور فیروز پور جھرکہ کی ریاستوں کے نواب احمد بخش مرحوم کے بیٹے ہیں۔ یہ الور کے وہی نواب ہیں جو مرزا غالب کے عزیز ہیں اور جنہوں نے ان کا وظیفہ بھی مقرر کیا تھا جسے بعد میں انگریز سرکار نے موقوف کردیاتھا۔

فریزر کے گھر پر ہونے والی ایک محفل میں دہلی شہر کے اکابرین، وزیر اور کچھ انگریز خواتین بھی موجود ہیں۔ مرزا غالب اس محفل کی جان ہیں جو ایک فارسی غزل سنا کر داد وصول کر رہے ہیں۔ ان کا سراپا مصنف نے کچھ اس طرح بیان کیاہے:

”مرزا صاحب کا قد نہائت بلندو بالاقامت، پیشانی اونچی، آنکھیں روشن اور متبسم، سینہ فراق، کلائیاں چوڑی اور گردن بلند تھی۔ ان کی رفتار تمکنت اور اعتماد سے بھری ہوئی لیکن عجب یا نخوت سے بیگانہ تھی۔ نہائت گورا سنہرا رنگ، جسے میدہ شباب کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ چہرہ داڑھی سے بے نیاز، لیکن بڑی خوبصورت نوکدار مونچھیں، تورانی وضع کی، گھنی بھوئیں، لمبی پلکیں، نازک نازک ہونٹوں پہ ہلکا سا تبسم ان چیزوں نے مل کر چہرے کو اس قدر دیدہ زیب بنا دیا تھادیکھتے رہئے۔“

وزیر خانم اس محفل میں نواب شمس الدین اور ولیم فریزر دونوں کی توجہ کا مرکز ہے جو بعد میں دونوں کی رقابت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ نواب شمس الدین اور وزیر خانم کے درمیان چاہتوں کے سلسلے بڑھ کر یکسوئی میں بدل جاتے ہیں اور دونوں ایک ساتھ زندگی کا آغاز کرتے ہیں مگر بن بیا ہے۔ ان کا بیٹا نواب مرزا نوابی ٹھاٹھ میں پرورش پا رہا ہے۔

ادھر ولیم فریزر اور نواب کی رقابت دشمنی میں بدلتی ہے اور فریز رسرکاری کاروائی کے ذریعے نواب صاحب کو ان کی ایک ریاست ملکیت سے بے دخل کر کے ان کے سوتیلے بھائی کو دے دیتا ہے۔ اسی دوران خبر ملتی ہے کہ فریزر قتل کر دیا گیاہے۔ نواب پر مقدمہ چلا کر فریزر کے قتل کے الزام میں پھانسی دے دی جاتی ہے۔ اس طرح وزیر دوسری مرتبہ بن بیاہی بیوہ ہو جاتی ہے۔

ان دونوں کا ایک بیٹا نواب مرز ا اب داغ دہلوی کے نام سے شہر کے مشاعروں کی زینت ہے۔ وزیر خانم کی تیسری شادی رامپور کے نواب محمد سعید خان کے دربار سے وابستہ آغا مرزا تراب علی سے ہو جاتی ہے اور ان سے بھی ایک بیٹا ہوتاہے۔ ادھر وزیر کی قسمت ایک بار پھر ایک تاریک موڑ لیتی ہے اور مرزا تراب علی کاقافلہ ریاستی امور کے سلسلے میں ایک سفر کے دوران ٹھگوں کے ہتھے چڑ جاتا ہے۔ اب خانم ایک بار پھر بیوہ بن جاتی ہے اور اس کی قسمت اب پھر اسے دہلی واپس پہنچادیتی ہے۔

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے تیسرے ولی عہدمرزا سلطان فتح الملک شاہ بہادر عرف فخرالدین وزیر بیگم کی ایک تصویر دیکھ کر اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور رشتہ بھجواتے ہیں ۔ وزیر کو چوتھی بار کسی مرد سے وابستہ رہنے کا خیال اتنا دلفریب نہیں لگتا لیکن مرزا نواب اور وزیر کی بڑی بہن اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ یہ رشتہ قبول کر لے۔ بیٹا جب اس سے سوال کرتا ہے کہ وزیر نے مستقبل کا کیا سوچا ہے تو چڑھ کر کہتی ہے:

”مرد ذات سمجھتی ہے کہ ساری دنیا کے اسرار اور تمام دلوں کے نہاں گوشے اس پر منکشف ہیں، یا اگر نہیں بھی ہیں تو نہ صحیح، لیکن وہ سب کے لئے فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ مردخیال کرتاہے کہ عورتیں اسی نہج اور مزاج کی ہوتی ہیں جیسااس نے اپنے دل میں اپنی فہم و فراست کے بل پر گمان کر رکھاہے۔ اور اگر عورتیں اس نہج اور مزاج کی نہیں بھی ہیں تو یہ سہو مرد ذات کا نہیں عورت ذات کا ہے کہ وہ ایسی کیوں نہ ہوئی جیسی کہ مرد چاہتا یا سمجھتا ہے۔“

جب بیٹا ماں کو قائل کرنے کے لئے کہتا ہے ”لیکنلیکن شریعت بھی تو یہی کہتی ہے کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے“ تو خانم اسے جواب دیتی ہے ”آپ کی کتابوں کے مصنف سب مرد، آپ کے قاضی مفتی بزرگ بھی کون، سب کے سب مرد۔ میں شرعی حیثیت نہیں جانتی، لیکن مجھے بابا فرید صاحب کی بات یاد ہے کہ جب جنگل میں شیر نمودار ہوتا ہے تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ شیر ہے یا شیرنی۔ آخر رابعہ بصری بھی توعورت تھیں۔“

ماں بیٹے کے اس مکالمے کے ذریعے مصنف سماج کی اس سوچ کو مزید مستحکم کر رہاہے کہ مذہبی اور اخلاقی طورپر مرد کا درجہ عورت سے برتر ہے اور اسے ہی عورت کے تمام امور کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن وزیر خانم مصر ہے کہ عورت کی اپنی حیثیت ہے جو مرد سے کمتر نہیں ہے۔ پورے ناول میں ان ہی دو رویوں کو وزیر کی انفرادی زندگی کے حوالے سے جاری رکھا گیا ہے۔

بہنوں اوربیٹے کے سمجھانے پر آخر کارخانم مغلیہ شہزادے سے شادی پر راضی ہو جاتی ہے۔ وزیر خانم اور داغ دہلوی اب پورے لوازمات کے ساتھ شاہی محل میں قیام پذیر ہیں اور درباری سیاست کا حصہ بھی ہیں۔

ملکہ دوراں زینت محل کے بڑے بیٹے بادشاہ کے پہلے ولی عہد ہیں لیکن اقتدارکا اصل منبہ انگریزی سرکار ہے۔ شہزادہ فخرالدین انگریزی سرکار سے سازباز کرکے خود کو بادشاہ کا جانشینِ اول قرار دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن وہ ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہوکر جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور اس طرح وزیر خانم پرچوتھی مرتبہ بیوگی داغ پھر لگ جاتا ہے۔ ملکہ زینت محل نہ صرف اسے شاہی مراعات سے بیدخل کر دیتی ہیں بلکہ وزیر کے احتجاج کے باوجود اسے محل چھورنے کا حکم بھی جاری کرتی ہیں۔

ناول کا اختتام کچھ اس طرح ہوتا ہے:

”اگلے دن مغرب کے بعد قلعہ مبارک کے لاہوری دروازے سے ایک چھوٹا سے قافلہ باہرنکلا۔ ایک پالکی میں وزیر، ایک بہل پراس کا اثاث البیت اور پالکی کے دائیں بائیں گھوڑوں پر نواب مرزا خان اور خورشید مرزا۔ان کے چہرے ہر طرح کے تاثر سے عاری تھے لیکن پالکی کے بھاری پردوں کے پیچھے چادر میں لپٹی ہوئی وزیر خانم کو کچھ نظر نہ آتا تھا۔“

کسے معلوم تھا کہ کچھ ہی عرصے میں یہ پوری بساط ہی پلٹ جائے گی اور غدر کے بعد ہندوستان کی بادشاہت کو بھی اپنے تمام طمطراق کے ساتھ اس محل اور طاقت سے بیدخل ہونا پڑے گا۔ وزیر خانم یہاں اس زوال پذیر معاشرے کی نشانی ہے جس کا انجام بھی ایک المیے پر ہوتاہے۔

بیشتر مبصرین نے ناول کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے اپنے عہد یا پھر دہلی شہر کا المیہ قرار دیاہے جو ایک طرح سے درست بھی ہے۔ خود مصنف کے نزدیک“ اسے اٹھارویں، انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب اور انسانی اور تہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہو گا۔“

830 صفحات پر پھیلا ہوا یہ ضخیم ناول مغلیہ دور کے آخری عشروں کاعکاس ہے جس میں مسلمانوں کے تنزل کو ایک انفرادی نقطہ نظرسے دیکھا گیاہے۔ تصنیف اپنے دور کی وہ آواز ہے جو اپنی تہذیب، صنفی تفریق، سماجی خلفشار، سیاسی کدورتوں اور نوآبادیاتی نظام کی سفاکیوں کی منہ بولتی تصویر بھی ہے۔

لیکن میرے نزدیک اس ناول کا سب سے اہم پہلو اس معاشرے میں عورت کے مقام کا تعین ہے۔ یہاں عورت کو ایک پدر سری معاشرے کے ایک باغی کردار کے طورپر دیکھا گیا ہے جو ہر طرح سے ناکامی سے دوچار ہے کیونکہ وہ سماج کے لگے بندھے اصولوں پر کاربند نہیں ہے۔ وزیر خانم کی اسی آزادانہ روش کو جس کے تحت وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی اور معاشرے کے مروجہ اصولوں کو ماننے سے صریحاً انکار کرتی ہے، مصنف نے تنقیدانہ نظرسے دیکھنے کی کوشش میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس قسم کی عورتوں کا انجام یہی ہوتاہے۔

اس طرح اپنی بد قسمتی اور ناکامی کی ذمہ داروہ خود ہے صرف اس لئے کہ اس نے سماج کی نیک پروین بننے سے انکار کیاہے۔

ملکہ دوراں زینت محل آخری ملاقات میں وزیر سے طنزیہ لہجے میں کچھ اس طرح مخاطب ہوتی ہیں:

”چھوٹی بیگم ہمیں تمہاری بیوگی پر افسوس ہےلیکن تم تو ایسے سانحوں کی عادی ہو چکی ہو اسے بھی سہہ جاو گی۔ انواسی کا کلیجہ مضبوط ہوتاہے لوگ کہتے ہیں۔“

ناول کا سب سے اہم سبق یہ ہے اگر عورت سماجی دھارے سے آزاد اور خود مختار ہونے کی کوشش کرے اور اس میں ناکام ہو جائے تو وہ خود اس طرز عمل کی ذمہ دار ہے معاشرہ نہیں۔ اس نقطہ نظر سے ایک سماجی ڈھانچے کی ناانصافیوں کو انفرادی غلطیوں کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ناول میں جا بجا اس قسم کے اشارے دئے گئے ہیں کہ مرد کی فرماںبرداری کے بغیر عورت نامکمل ہے ا س لئے ضروری ہے کہ وہ شادی کرے، ماں بنے اور خاندان کی خدمت کرے۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کا مقدر اس کا گھر اور شوہر ہے وزیر ہر گام پر کبھی معاشرے اور کبھی حادثاتی واقعات کی بنا پر ناکام رہتی ہے پھر بھی وہ معاشرے سے شکست قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ وہ ہر بار ناکام ہو کر دوبارہ سماجی بندھنوں کو چیلنج کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

لیکن اسی معاشرے میں اگر مرد کئی شادیاں کرے یا شادی کے بغیر بھی عورتوں کو رکھیل کی طرح استعمال کرے تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور مصنف کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ اگر عورت یہی انداز اپنانے کی کوشش بھی کرے تو وہ معاشرے کے لئے بدنما داغ بن جاتی ہے اور اسے طوائف اور بدچلن جیسے القابات سے نوازا جاتاہے۔ ناول میں اس معاشرتی تضادکو کہانی کے ہر موڑ پر نظر انداز کیاگیاہے۔

ناول کے ذریعے مصنف نے ان پردہ دار اور’ شریف ‘ عورتوں کے سماجی عکس کو نہ صر ف کامیاب زندگی کا معیار قرار دیا ہے، جن کا مقصد حیات مردوں کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا اور شوہر کی اطاعت کرناہے، بلکہ وزیر خانم کی زندگی کو ان خواتین کے لئے باعث عبرت قرار دینے کی کوشش کی بھی کی ہے جو اس سماجی استحصال کو چیلنج کرنے کی جرات کرتی ہیں۔

میرے نقطہ نظر کے مطابق شمس الرحمن کی یہ تصنیف ایک پدر سری معاشرے کا صنفی استعارہ ہے جس میں سماجی نا انصافیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک عورت کے انفرادی رویے کو غلط ثابت کیا گیا ہے جو بذات خود ان سماجی ناانصافیوں کا شکار ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔