خبریں/تبصرے

ساہیوال میں نومولود بچوں کی قاتل حکومت ہے!

عمران کامیانہ

اِس ملک میں دلخراش واقعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایسا ایک اور واقعہ کل ضلع ساہیوال کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پیش آیا ہے جہاں حکام نے سرکاری طورپر تصدیق کی ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب چند گھنٹوں کے اندر آٹھ نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ”کم از کم تین نومولود بچے اس وقت موت کے منہ میں چلے گئے جب انتہائی حساس نرسری وارڈ کا ایئر کنڈیشنر خراب ہوا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق کچھ والدین کا دعویٰ تھا کہ یہ تعداد تین سے زیادہ ہے… ان کا کہنا تھا کہ ہماری موجودگی کے دوران ہی بچوں کے وارڈ کا ایئر کنڈیشنگ سسٹم کئی مرتبہ خراب ہوتا رہتا تھا۔ مگر ہفتہ کی شام صورتحال اس وقت انتہائی گھمبیر ہو گئی جب ایئر کنڈیشن کئی گھنٹوں کے لئے خراب ہو گیا اور نومولود بچوں کی اموات واقع ہونے لگیں۔“

اطلاعات کے مطابق بچوں کی مسلسل اموات پر لوگوں نے شور شرابہ کیا لیکن ہسپتال انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی بلکہ کہا کہ یہ ایئرکنڈیشنر تو ایک ماہ سے خراب ہے۔

اب حکومت حسب روایت نوٹس لے کے ”کاروائی“ کر رہی ہے جس میں یقینا سارا ملبہ نیچے کے کسی اہلکار یا معمولی ملازمین وغیرہ پر ڈال دیا جائے گا۔ وقت کے ساتھ یہ خبر بھی ایسی کئی خبروں کی طرح بے شمار ایشوز اور نان ایشوز کے ملبے تلے دب جائے گی اور معاملہ ٹھپ ہو جائے گا۔

’لوگوں نے شور شرابہ کیا لیکن ہسپتال انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی‘

لیکن ایک منٹ کے لئے غور کریں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اِس ملک میں غریب انسانوں کے بچے ایسے مر رہے ہیں جیسے کیڑے مکوڑے ہوں۔ میڈیا پر ایسے اندوہناک واقعات کی وجہ اکثر حکومت یا حکام کی ”غفلت“ کو قرار دیا جاتا ہے۔

اِس طرح سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ باقی سب کچھ ٹھیک ہے‘ بس ”غفلت“ ہو گئی جس کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا ملنی چاہئے۔ یوں افراد (وہ بھی بالعموم نچلے درجے کے ملازمین) کو ذمہ دار ٹھہرا کے نظام پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی جاتی۔

ایسے واقعات کی وجوہات میں غفلت کا عنصر شامل ہو سکتا ہے لیکن اس سے کہیں بڑی وجہ یہ نظام ہے جو ہر طرح کے مسائل کو پیدا کرتا ہے۔ جن میں بدعنوانی اور غفلت بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں صحت پر حکومت کے اخراجات جی ڈی پی کے 0.4 سے 0.8 فیصد ہیں۔ یوں پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو صحت کے سرکاری بجٹ کے لحاظ سے فہرست میں سب سے آخر پہ آتے ہیں۔ یہ ”غفلت“ نہیں اِس غیر انسانی نظام اور اس کے رکھوالوں کی بے حسی ہے۔

تعلیم کی طرح صحت کا انفراسٹرکچر بھی انتہائی زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ کسی موذی مرض میں مبتلا مریض آدھا تو اسی وقت مر جاتا ہے جب اسے سرکاری ہسپتالوں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ علاج کے ہر مرحلے اور ہر شعبے میں تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ مجبوراً اپنی جمع پونجی لُٹا کے نجی شعبے سے علاج خریدنے پر مجبور ہے۔ اس وقت علاج کا کاروبار منافع بخش ترین کاروباروں میں سرفہرست ہے جس میں لوگوں کی مجبوریوں اور تکالیف کا فائدہ اٹھا کے دولت کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے تعلیم اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے بھی شاید اس کے بعد آتے ہیں۔

لیکن موجودہ حکومت نے ظلم اور بے حسی کی انتہا کر دی ہے۔ یہ حکومت سارے سرکاری شعبہ صحت کی نجکاری پہ تُلی ہوئی ہے۔ جس سے غریبوں کو جو تھوڑا بہت علاج یا ادویات میسر آ جاتی ہیں اس سے بھی جاتے رہیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ اس قدر ظالم لوگ ہیں کہ انہیں جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کا بھی عام لوگوں پہ خرچ ہونا برداشت نہیں ہو رہا ہے۔

مختلف ناموں سے متعارف کروائے جانے والے ہیلتھ کارڈ سراسر دھوکہ ہیں جن کا مقصد ایک طرف نجی شعبے کو سرکاری پیسے سے نوازنا اور دوسری طرف نجکاری کے معاملے میں فوری تنقید سے بچنا ہے۔

صحت کے شعبے میں معمولی بہتری کے لئے بھی اس کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ درکار ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو جی ڈی پی کا کم از کم 5 فیصد صحت پر خرچ کرنا چاہئے۔ اس معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اور جو آئی ایم ایف کے تحت آنے والے دنوں میں ہونے والی ہے اس کے پیش نظر موجودہ نظام میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

ساہیوال میں نومولود بچے ہلاک نہیں قتل ہوئے ہیں۔ ان کا قاتل موجودہ حکومت سمیت ہر وہ ادارہ اور انسان ہے جو اِس سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنا چاہتا ہے جس میں پیسے اور منافعے انسانی زندگیوں پر مقدم ہیں۔ اس نظام کے رکھوالوں کو کبھی نہ کبھی غریبوں کے بچوں کے اس قتل عام کا حساب ضرور دینا پڑے گا۔

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔