سوچ بچار

طبقاتی سماج کی عید

لال خان

یہ عید کے دن ہیں۔ محروم، بیگانہ اور ستم رسیدہ معاشرے میں اس دن سے منسوب خوشیوں کا احساس ایسے پھیل جاتا ہے جس طرح کسی خشک تپتے صحرا میں بارش ہوتی ہے۔ نخلستانوں میں تو یہ بارش مزید ہریالی اور شادابی لاتی ہیں۔ لیکن صحرا میں یہ پھوار ایسے غائب ہوجاتی ہیں جیسے کبھی برستے بادلوں کا گزر ہوا ہی نہیں تھا۔

ایسے تہواروں کو ہر معاشرے کی رائج الوقت قدریں اور رحجانات خوشیوں کی امیدوں سے لبریز کر دیتے ہیں۔ لیکن طبقاتی معاشروں میں یہ خوشیاں ایسے ہی آتی ہیں جیسے کسی کالے بادلوں کے جھرمٹ کا صحرا کے اوپر سے گزر ہو۔

بچوں کی عید اس لئے زیادہ پرمسرت ہوتی ہے کہ ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے والدین اور عزیز و اقارب عیدیاں بھی دیتے ہیں۔ خود پیار کے ترسے ہو ئے یہ بزرگ ان کو زیادہ شدتِ جذبات سے پیار کرتے ہیں۔ ان کی باتیں مانی جاتی ہیں۔ غریب طبقات کے لوگ قرض لے کر نئے کپڑے اور کھلونے اپنے بچوں کو دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن عید کے روز لاکھوں کروڑوں بچے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ راحت اور خوشی کے تہوار والے دن بھی مشقت سے چھٹکارا حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

عید کے دن بھکاریوں کی خصوصی تیاری بھی ہوتی ہے۔ شہروں میں منظم بھیک مانگنے والے گروہوں میں پہلے سے مختلف عید گاہوں، میلوں، چوراہوں اور ایسے مقامات جہاں لوگوں کے اجتماع ہوتے ہیں، کی بندر بانٹ ہوچکی ہوتی ہے۔

عید کے خطبوں میں انسانیت کا احساس جگانے کے درس دیے جاتے ہیں۔ ہمدردی اور رحم کرنے کے ثواب بیان کیے جاتے ہیں۔ سخاوت کے بدلے جنت میں انعامات کے قصے سنائے جاتے ہیں اور فطرانوں کو غریبوں، ناداروں اور محروموں میں باٹنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے۔

فطرانے کے ریٹ مقرر ہوتے ہیں۔ اس روز بالادست اور درمیانے طبقے کی بالائی پرتوں میں فیاضی کے جذبے کچھ زیادہ ہی مچل اٹھتے ہیں۔ یہ شاید کفارہ ادا کر کے مصنوعی تسکین کے حصول کی کوشش ہوتی ہے۔

عید کی سیاسی معاشیات کی بنیاد خیرات ہے۔ ایک طبقاتی سماج میں استحصالی نظام چلانے کے لئے جہاں محنت کش طبقات سے نظام کو تسلیم اور برداشت کروانے کے دوسرے سینکڑوں ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں وہاں خیرات خصوصاً چند دہائیوں سے جاری بحران اور عدم اصلاحات کی وجہ سے زیادہ اہمیت کا اوزار بن کر ابھری ہے۔ عید کے دن اس کا زیادہ واضح اظہار اس لئے بھی ہوتا ہے کہ کیونکہ ہر خیراتی شخصیت و ادارہ اس کو اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس تشہیر کا مقصد نیک نامی کا حصول، مخیر ہونے کا تاثر اور دریادلی کا اظہار ہوتا ہے۔

لیکن عید والے دن بھی اس عدم مساوات اور محنت پر سرمائے کی ستم گری کے نظام کے بنیادی ضوابط نہیں بدلتے۔ ایک ہاتھ جیب سے پیسے نکال کر دیتا ہے۔ دوسرا ہاتھ اس خیرات کو وصول کرتا ہے۔ دینے والا ہاتھ بھی انسان ہی کا ہوتا ہے اور لینے والے کو بھی انسان گردانا جاتا ہے۔ لیکن یہ مقدر نہیں ہے بلکہ آدمی کے بنائے ہوئے نظام کو تقدیر بنا کر مسلط کیا گیا ہے۔ ظاہری طور پر تو دونوں کا تعلق نسل انسان سے ہے۔ لیکن نظام زر اس نسل کو مالدار اور محروم کی تفریق میں چیر دیتا ہے۔

ہر پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت تو محض انسان ہی ہوتا ہے۔ بعد میں وہ مذہبی، نسلی اور قومی پہچان میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ اچھا یا برا ہونے کے معیار ہر معاشرے اور تاریخ کے عہد میں مختلف ہوتے ہیں۔ انسان کی شخصیت ان حالات و واقعات کی پیداوار ہوتی ہے جن میں وہ پروان چڑھتا ہے۔

طبقاتی پس منظر زندگی کے معیار اور مواقع کے حصول کا تعین کرتا ہے۔ یہی وہ تفریق ہے جس سے اس سرمایہ دارانہ معاشرے کی خوبیاں اور مرتبے دولت مند اور بالادست طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے پلڑے میں یہ اقتصادی اور سماجی نظام ڈال دیتا ہے۔

لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو ہاتھ کسی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر خیرات دھرتا ہے اس کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوگی اور جو نہ مانگنے کے باوجود بھی دل میں مانگنے کی مجبوری لیے تڑپ رہے ہیں ان کے ہیجان کا کیا عالم ہوگا؟ دونوں اگر ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں تو پھر ایک طرف محرومی کا احساس نفسیات میں یاس و ناامیدی سے لے کے نفرت اور بغاوت تک کے درمیان کیوں ہچکولے کھاتا رہتا ہے۔ جبکہ دینے والا جس نفسیات کا شکار ہے وہ اس ”نیکی“ سے اپنی عاقبت بھی سنوار لیتا ہے اور آج کی دنیا میں عزت اور نیک نامی کا بھی دعویدار بن جاتا ہے۔

لیکن محروم خاندان اور افراد خیرات کے پیسے سے عید کا پورا دن بھی نہیں گزارپاتے۔ شام ڈھلتے ہی خوشیوں کے احساس غائب ہو جاتے ہیں۔ بھوک پھر تڑپانے لگتی ہے۔ بچے پھر بلکنے لگتے ہیں۔ ناتواں بزرگ کراہنے لگتے ہیں اور محرومی ومفلسی پھر عود کر آتی ہے۔

وہ خوشیاں جو آ کر پلٹ جائیں روح اور احساس کو زیادہ مجروح کر دیتی ہیں۔ اندھیروں میں کام کرنے والوں کی آنکھیں دیاسلائی کے شعلے سے بھی چندھیا جاتی ہیں۔ لیکن پھر دیاسلائی نے تو بجھ جانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی بینائی حاصل کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔

خیرات بھی اس دیاسلائی کی روشنی کی طرح ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں کھر ب پتی سرمایہ داروں، فلمی اداکاروں، کھلاڑیوں اور بڑے بڑے سیٹھوں تک کو بھاری خیرات سے جو مسیحائی کا روپ کارپوریٹ میڈیا نے دلوایا ہوا ہے اس کی پیروی یہاں کی سیاست، ریاست، دانش اور مذہبی پیشوائیت بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اب ہر حکومت ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز پر جو شرمناک حد تک قلیل رقوم غریبوں کی ایک نہایت ہی محدود آبادی کو دے رہی ہے اس کے عوض ریاست کا غربت کے خاتمے سے لے کر تعلیم‘ علاج‘ نکاس‘پانی‘ صحت‘ ٹرانسپورٹ اور دوسری بنیادی سہولیات کی فراہمی کا فریضہ یکسر ختم کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف، سامراجی قوتوں، سرمایہ دار طبقات اور ریاستی مشینری کی لوٹ مار اتنی بڑھ گئی ہے کہ مہنگائی کے ذریعے وہ عوام سے روٹی تو چھین ہی رہے ہیں‘ ساتھ میں بھیک کے پروگراموں کے ذریعے ان کی نفسیات کو بھی زہر آلود کر رہے ہیں۔ معاشرے کا انفراسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کر بکھر رہا ہے۔ غلاظت اور بدبو سے شہروں اور دیہاتوں میں تعفن پھیل گیا ہے۔ فضا آلودہ ہوگئی ہے۔ لیکن ساتھ میں مخیر خواتین و حضرات کی لوٹ مار کا کھلواڑ جاری ہے۔

اس طبقاتی نظام کو بدل کر ہی بھیک لینے اور دینے والوں کی تفریق ختم ہوسکتی ہے۔ محرومی اور بہتات کی تقسیم مٹائی جاسکتی ہے۔ ایک انقلابی تحریک کے ذریعے یہاں کے نوجوان اور محنت کش وہ نظام استوار کرسکتے ہیں جس میں عید والے دن کوئی محتاج نہ ہو۔ سبھی ایک دوسرے کو سچے جذبوں اور پیار سے گلے ملیں۔ محبتوں اور نیک تمناؤں کی ’عیدیوں‘ کے تبالے ہوسکیں!

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری ہیں اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔