سوچ بچار

کرکٹ کی افیون

لال خان

قدیم روم کے شہنشاہوں کا وتیرہ تھا کہ جب سماج میں بھوک بڑھ جاتی تھی تو عوام کو اناج دینے کی بجائے کلازیم میں بھوکے شیروں کے سامنے غلاموں کو پھینک کر تماشا کروایا جاتا تھا۔ آج کرکٹ کا کردار بھی اس تماشے سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

آج اس سماج میں بیروزگاری، مہنگائی، غذائی قلت اور عصمت فروشی معمول بن چکی ہے۔ لیکن حکومتیں کھیل تماشے کروانے میں مصروف ہیں۔ بڑی عیاری سے انہوں نے ایک نازک وقت میں درمیانے طبقے کے لا ابالی پن کو استعمال کرتے ہوئے پوری ”قوم“ کو کرکٹ کے دھندے پر لگا دیا ہے۔

پاکستان میں کرکٹ کا سیاسی و سفارتی استعمال ضیاالحق کے دور میں شروع ہوا تھا۔ ضیاآمریت کے خلاف عوام کی نفرت مختلف سطحوں پر چھوٹی بڑی بغاوتوں کی شکل میں مسلسل اپنا اظہار کرتی رہی۔ عوام کے غصے اور توجہ کا رخ موڑنے کے لئے ضیاالحق کے گھاگ مشیر‘ جرنل مجیب الرحمان نے کرکٹ کے سیاسی استعمال کی پالیسی وضع کی تھی۔ مذہب، قوم پرستی اور لسانی تعصبات کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کا جنون طاری رکھنے کے لئے کرکٹ کا استعمال آج تک جاری ہے۔

سماجی گھٹن، ثقافتی گراوٹ اور معاشی تنگدستی نے ایک ایک کر کے عوام سے صحت مندانہ تفریح کے تمام ذرائع چھین لئے ہیں۔ لوگ صرف مساجد، درگاہوں یا جنازوں میں ہی اکٹھے ہوپاتے ہیں۔ وہاں بھی بم دھماکوں اور دہشت گردی کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ مذہب کے علاوہ ہر دوسری ثقافتی یا تہذیبی سرگرمی صرف بالادست یا بالائی درمیانے طبقے کو ہی میسر ہے۔

فلم انڈسٹری برباد اور سینما کلچر ختم ہوگیا ہے۔ میوزک، ادب اور دوسرے فنون لطیفہ مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مسخ اور بھدے ہوگئے ہیں۔ ان میں نہ تو دلکشی اور کشش باقی رہی ہے نہ ہی لوگوں کی جیب میں ان تک رسائی کے پیسے ہیں۔ ایسے میں لے دے کے کرکٹ ہی بچی ہے جسے میڈیا نے زندگی موت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

ہر پروگرام، ہر ہیڈلائن میں کرکٹ ہی کرکٹ ہے۔ ایک جنگ کا سا سماں پیدا کر دیا جاتا ہے۔ ایک ہاتھ میں تسبیح، دوسرے میں ریمورٹ کنٹرول اور زبان پر گالیوں کے مناظر ہر گھر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ بیماری درمیانے طبقے سے کسی حد تک محنت کش طبقے میں بھی سرائیت کرگئی ہے کیونکہ جمود کے وقتوں میں محنت کشوں پر بھی درمیانے طبقے کی نفسیات مسلط رہتی ہے۔

جہاں کرکٹ کے ذریعے عوام کا نفسیاتی بلادکار کیا جارہا ہے وہاں اس کھیل کے ساتھ بھی پچھلی پانچ دہائیوں میں بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ 1970ء کی دہائی تک کرکٹ کی اپنی ثقافت اور معیار تھے۔ یہ کھیل تماشائیوں کو ذہنی تناؤ اور بلند فشار خون کی بجائے سکون اور آسودگی دیتا تھا۔ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ اکثر ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوجایا کرتے تھے لیکن اس وقت شاید ہار جیت کچھ زیادہ معنی بھی نہیں رکھتی تھی۔ کرکٹ کو جنگ و جدل کی بجائے ایک نفیس کھیل سمجھا جاتا تھا۔ شائقین کھلاڑیوں کے ہنر، تکنیک اور کھیلنے کے انفرادی سٹائل سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ کھلاڑی بھی مہذب، شائستہ اور پرتحمل تھے۔ پیسے اور شہرت کے جنون پر شوق اور سپورٹس مین سپرٹ حاوی تھا۔ میچ فکسنگ، جوے اور سٹے کا تصور تک نہیں تھا۔ اس وقت تک کرکٹ کمرشلائز نہیں ہوا تھا۔

1948ء سے 1974ء تک قائم رہنے والے عالمی سرمایہ داری کے معاشی عروج کے بہت سے سماجی اور ثقافتی مضمرات بھی تھے۔ پاکستان جیسے ممالک میں اگرچہ اس معاشی عروج کے ثانوی نتائج ہی پہنچے اور انڈسٹریلائزیشن سے ہموار اور صحت مند سماجی ترقی نہ ہوسکی لیکن آج کی نسبت عدم استحکام اور افرا تفری بہت کم تھی۔

لیکن 1974ء کے معاشی بحران کے بعد نجکاری، ٹریکل ڈاؤن اکانومی اور آزاد منڈی کا جو وحشیانہ معاشی ماڈل اپنایا گیا اس کے نتیجے میں سماج کے ہر شعبے میں پیسے اور سرمائے کا زہر سرائیت کرگیا۔ فلم، ثقافت، صحافت، مذہب، سیاست اور کھیل کی اقدار اور معیارات ہی بدل گئے۔ لالچ، ہوس اور منافع کی اس شدت نے ہر سماجی سرگرمی کو سرمائے کا مطیع بنا دیا۔

آج کرکٹ بھی ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ پیشہ ور جواریوں سے لے کر سیاست دان، میڈیا مالکان، ملٹی نیشنل کمپنیاں، تجزیہ کار، کھلاڑی، فنکار و سرکاری اہلکار اسے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے کی صنعت کی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی باقاعدہ کمرشلائزیشن 1970ء کی دہائی میں ہی شروع ہو گئی تھی۔ دن ڈے کرکٹ کا آغاز آسٹریلیا کے بڑے سرمایہ دار کیری پیکر نے کروایا تھا۔ پہلے پہل آئی سی سی نے اس رجحان کو روکنے کی کوشش کی لیکن سرمائے نے اس ادارے کو بھی ہڑپ کرلیا۔ ون ڈے کے بعد اس کھیل کو مزید منافع بخش بنانے کے لئے ٹی ٹونٹی کا آغاز کیا گیا۔ پھر آئی پی ایل جیسے ٹورنامنٹ شروع ہوئے جہاں طوائفوں کی طرح کھلاڑیوں کی بولیاں لگائی جانے لگیں۔ دولت کی ہوس نے سماج کے ہر شعبے کی طرح کرکٹ کو بھی برباد کر دیا۔

سیاسی حوالے سے بات کی جائے تو برصغیر کی ریاستیں کرکٹ کو قومی شاونزم ابھارنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ اس خطے کے حکمران طبقات چونکہ یورپ کی طرز پر جدید اور یکجا قومی ریاست تعمیر نہیں کر سکے ہیں لہٰذا عوام میں ”ایک قوم“ ہونے کا مصنوعی تاثر پیدا کرنے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جیت کی صورت میں بدعنوانی کے ریکارڈ قائم کرنے والے مافیا سرمایہ دار اپنی ڈاکہ زنی پر ”قوم سے محبت“ کا غلاف چڑھا کر کھلاڑیوں کے لئے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔ ہار کی صورت میں لعن طعن، گالی گلوچ، بیہودہ الزامات اور لایعنی تبصروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

دولت میں مسلسل اضافے کا جنون انسان کو انتشار، ذلت اور خودغرضی کے جس راستے پر لے آیا ہے وہاں سے واپسی اس نظام کے زیر اثر ممکن نہیں ہے۔ انسانیت کے ساتھ کرکٹ اور دوسرے کھیل بھی اپنی بربادی پر ماتم کناں ہیں۔ کھیلوں کو مالیاتی کاروبار اور سٹہ بازی کی زنجیروں سے آزاد کرا کے صحت مند تفریح بنانے کی اولین شرط سرمایہ داری سے نجات ہے۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری ہیں اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔