خبریں/تبصرے

زرداری کی گرفتاری‘ بجٹ سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی

فاروق طارق

گزشتہ روز (10 جون) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی۔ 9 جون کو اس گرفتاری کی پیش گوئی حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کھلے الفاظ میں کر دی تھی۔ اگلے دن آصف زرداری کی عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججوں نے خارج کر دی۔

جب عدالتی فیصلہ سنائے جانے کا وقت آیا تو آصف زرداری عدالت سے چلے گئے تھے۔ انہیں بعد ازاں اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8 میں واقع ان کے گھر، زرداری ہاؤس، سے گرفتار کیا گیا۔ نیب نے پھرتیاں دکھائیں اور گرفتاری میں چند گھنٹے کی دیر بھی نہ کی۔ گویا یہ ان کی عزت کا مسئلہ تھا کہ زرداری کو ایک دفعہ جیل ضرور بھجوانا ہے۔

گرفتاری کے فوری بعد سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ لیکن غیر متوقع مظاہرے لاہور میں ہوئے۔ لاہور میں چھ مقامات پر بیک وقت احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اُدھر پیپلز پارٹی سندھ نے آج 11 جون کو گرفتاری کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔

گو  پیپلز پارٹی کے اہم رہنما ماضی قریب میں گرفتار ہوتے رہے ہیں مگر اس طرح کے فوری مظاہرے صرف آصف زرداری کی گرفتاری کے موقع پر ہی سامنے آئے ہیں۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی نے اس کی تیاری کر رکھی تھی۔

آصف زرداری بارے وزیر اعظم عمران خان بھی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ یہ پکڑے جائیں گے۔ لیکن اس کی واضح پیش گوئی تو اس ادارے کے سربراہ نے کی تھی جو آج انہیں گرفتار کرنے آیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے تو کھل کر معروف صحافی جاوید چوہدری کو انٹرویو میں زرداری کی گرفتاری کی بات کر دی تھی۔

آصف زرداری کی گرفتاری کا وقت بھی خاص طور سے چنا گیاہے۔ آج وفاقی بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں عوام پر نئے ٹیکس لگانے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ شاید یہ عوام کے لئے حالیہ تاریخ کا سب سے بھاری بجٹ ہو۔ 1400 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری ایسے موقع پر بجٹ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

حکمران طبقات کو یہ تو گوارا ہو سکتا ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری پر احتجاج ہو مگر بجٹ پر احتجاج ان کو برداشت نہ ہو گا۔ یہ ایک طبقاتی قدم ہو گا اور طبقاتی بنیادوں پر حکومت کے خلاف عوامی تحریک کو روکنا حکومت کی پہلی ترجیح ہو گی۔ اس لئے ان کے نزدیک بجٹ کی محنت کش عوام پر سختیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے آصف زرداری کی گرفتاری ایک اچھی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

آصف زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے کک بیکس کی رقم بھیجنے اور چھپانے کے لئے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے۔ سپریم کورٹ نے پچھلے سال ستمبر میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس کی تحقیق کے مطابق ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 400 ملین ڈالر کی منتقلی ہوئی۔

آصف زرداری اور ان کی پارٹی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام ہی بدعنوانی کا دوسرا نام ہے۔ عمران خان کے لئے بدعنوانی ختم کرنا ایک سیاسی نعرہ ہے جس سے وہ مڈل کلاس کے کچھ حصوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے رہنما بھی کوئی پاک صاف نہیں ہیں اور ان سب نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ مگر یہ واضح ہے کہ عمران خان نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو چور چور کہہ کر جو عوام کی چوری کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال کر سامراجی اداروں کے حوالے کرنا بذات خود ایک بہت بڑی چوری ہے۔

پیپلز پارٹی کے مظاہرے بڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جو نفرت عمران خان حکومت نے پچھلے نو ماہ میں خریدی ہے اس کا اظہار کسی طور تو ہونا ہے۔ اس صورت میں یہ زرداری کی گرفتاری پر احتجاج کم اور عمران خان کی معاشی پالیسیوں پر زیادہ ہو گا۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔