پاکستان

اوکاڑہ مزارعین کی جدوجہد سے ایک باب

فاروق طارق

یہ 2002ء کے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل کی بات ہے۔ پولیس اور رینجرز نے اوکاڑہ ملٹری فارمز پرمزارعین کے دیہات کا گھیراؤ کئی ماہ سے کیا ہوا تھا۔ مزارعین’مالکی یا موت‘ کے نعرے کے تحت زمین کی ملکیت حاصل کرنے کے لئے تحریک چلا رہے تھے۔ اُس وقت مشرف حکومت کی کوشش تھی کہ مزارعین ان کے ساتھ ٹھیکیدار بن کر کام کریں اور مزارعین کا سٹیٹس چھوڑ دیں۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز میں 18000 ایکڑ کے لگ بھگ زمین ہے۔ اس میں 13000 ایکڑ کے لگ بھگ زرعی زمین مزارعین کے پاس ہے اور بقیہ ملٹری فارمز والوں کے پاس جسے وہ خود کاشت کرتے ہیں۔

دیہاتوں کے گھیراؤ کے ذریعے حکومت مزارعین کومجبور کر رہی تھی کہ وہ ’لیز‘ کے معاہدے پر دستخط کردیں۔ یہ لیز بنیادی طور پر ایک دھوکہ تھا۔ مقصد مزارعین سے ان کی قیمتی زرعی زمینوں کو خالی کرانا تھا۔ مزارعین اس پر رضامند نہ تھے۔ فوجی گھیراؤ کے دوران اُن کے 19 دیہاتوں کے باسیوں پر باہر آنا جانا بند تھا۔ دیہاتوں میں جا کر سبزیوں اور پھلوں یا پھیری لگا کر دوسرا سامان بیچنے والوں کو بھی روک دیا گیا تھا۔ دیہاتوں کی بری صورتحال تھی۔

میں لاہور میں تھا اور مزارعین کی قیادت مجھے بار بار رابطے کر رہی تھی کہ کوئی حل نکالو‘ کسی سے بات کرو۔ دیہاتوں سے بیمار افراد کو اوکاڑہ ہسپتال لانے پر بھی پابندی تھی۔

مجھے ایک صحافی دوست کے ذریعے پیغام ملا کہ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل حسین مہدی ملنا چاہتے ہیں۔ میں ابتدائی طور پر ملاقات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ خود لاہور کے حلقہ این اے 124 سے عام انتخابات میں امیدوار تھا۔ الیکشن مہم بھی چل رہی تھی۔ پھر فیصلہ کیا کہ ملا جائے کیونکہ دیہاتوں سے بار بار رابطے ہو رہے تھے کہ راستہ نکالو۔

دو سینئر صحافیوں کے ہمراہ میں جنرل صاحب سے ملنے ان کی سرکاری رہائشگاہ پہنچا۔ اپنے ان دو دوستوں کو اس لئے ساتھ لیا کہ وہ گواہ رہیں کہ میں مزارعین کی کوئی سودا بازی کرنے نہیں بلکہ ان کو وقتی طور پر مشکل سے نکالنے کے لئے یہ راستہ اپنا رہا تھا۔

جنرل حسین مہدی کا گھر لاہور جمخانہ کے سامنے اپر مال پر تھا۔ انہوں نے ہمیں خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدیدکہا۔ کوئی دو گھنٹے ملاقات رہی۔

میں ان سے ابتدائی طور پر کہتا رہا کہ آپ یہ زمینیں مزارعین کے نام کریں۔ وہ تو اس پر کوئی بات کرنے اور سننے کو تیار نہ تھے۔ کہنے لگے کہ سات سالہ لیز کا معاہدہ لکھا گیا ہے اس پر مزارعے دستخط کریں اس کو بعد میں مزید توسیع دیں گے۔ اس پر میں نے ان پر زور دیا کہ اگر لیز ہی کرنی ہے تو پھر سو سالہ یا کم ازکم پچاس سالہ کریں۔ اس بات پر میں نے ان کے خوب کان کھائے۔

وہ میری باتیں سن کر تنگ آ گئے تھے۔ پھر حسین مہدی نے کہا کہ خدا کی قسم میں اس میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہ میں نہیں جنرل مشرف ہیں جن کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا ہوں۔

جب بات آگے نہیں بڑھ رہی تھی تو پھر میں نے کہا کہ مجھے اوکاڑہ کے محصور دیہاتوں کا وزٹ کرنے کی اجازت دیں۔ میری گاڑی کو اندر جانے دیں۔ میں تمام دیہاتوں میں جا کر مزارعین کے رہنماؤں سے بات کر کے آپ کو جواب دوں گا۔ وہ اس پر راضی ہو گئے۔

انہوں نے ہماری خوب خاطرتواضع کی لیکن دو گھنٹوں میں وہ اپنی بات پر اڑے رہے البتہ دھمکی سے کام نہ لیا۔ بات کا جواب بات سے دیتے رہے۔

اگلے روز جب میں اوکاڑہ ملٹری فارمز پہنچا تو دیہاتوں کا گھیراؤ جاری تھا۔ ہر گاؤں کو پولیس اور رینجرز نے گھیرا ہوا تھا۔ میری گاڑی کا نمبر دیکھتے ہی مجھے رینجرز کے جوانوں نے اندر جانے دیا۔

پہلے ایل 4/10 چک پہنچا تو وہاں احتجاجی کیمپ لگا ہوا تھا۔ یہی صورتحال دوسرے دیہاتوں کی تھی۔ کیمپوں میں مزارعے بیٹھے تھے۔ جوش وخروش تو تھا مگر دیہاتوں کی حالت پتلی تھی۔ چار دیہاتوں کے دورے کے دوران مجھے کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ ہم تنگ ہیں۔ کوئی شکائتیں نہیں تھیں۔ جدوجہد جاری رکھنے پر رضامند تھے۔ بہرحال مجھے ان کی قیادت نے راستہ نکالنے کو کہا اور مذاکرات کو جاری رکھنے کو کہا۔

باہر آیا تو رینجرز والے منتظر تھے۔ مجھے کرنل سلیم کے پاس لے گئے جو وہاں کے انچارج تھے۔ ان کے پاس پہنچا تو ان کے کمرے میں تین قسم کے چارٹ لگے ہوئے تھے۔ سبز، سرخ اور پیلی لکھائی سے علیحدہ علیحدہ چارٹوں پر مزارعین کے نام لکھے تھے۔ جب پوچھا یہ کیا ہے تو کرنل سلیم نے بتایا کہ سبز لکھائی میں وہ ہیں جو لیز پر دستخط کے لئے تیار ہیں۔ پیلی لکھائی ان کی ہے جو ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور سرخ لکھائی میں ان کے نام ہیں جو لیز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ لگتا تھا کہ وہ کسی جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ سرخ لکھائی والوں کی تعداد کافی تھی۔

کرنل صاحب نے مجھے ہر طرح سے رام کرنے کی کوشش کی۔ کہنے لگے بہتر ہے کہ مزارعین آرام سے دستخط کر دیں ورنہ ہم تو کروا کرہی رہیں گے۔ انہوں نے سیاسی باتیں اور پیشکشیں بھی کیں۔

یہ مشرف دور تھا۔ ملک بھر سے ’الیکٹیبلز‘ کو کنگز پارٹی میں شامل کیا جا رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تھرڈورلڈ ہے۔ یہاں جو فوج چاہتی ہے و ہی ہوتا ہے۔ جمہوریت ہماری مرضی سے چلتی ہے۔ بعد ازاں اوکاڑہ کے انتخابات میں راؤ سکندر اقبال جیتے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی اور مشرف کی حکومت میں وزیر دفاع بن گئے۔

مجھے بھی کچھ مفادات کی پیشکش کی گئی کہ میں مزارعوں کو راضی کر لوں تو قومی اسمبلی پہنچا دیا جاؤں گا۔

میں نے انتہائی نرم انداز میں جواب دیا کہ میری چھوڑیں آپ مزارعوں کی بات سنیں۔ ان سے صلح کریں۔ دیہاتوں کا گھیراؤ ختم کریں۔

انہوں نے بھی ہماری خوب خاطر مدارت کی۔ ویسے فوجی افسران کسی بھی ایکشن یا دھمکی سے پہلے کھانے بہت اچھے کھاتے اور کھلاتے ہیں کہ شاید ایسے ہی کام بن جائے۔

میں نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے لاہور جا کر صلاح مشورہ کرنے کے بعد جواب دیں گے۔

رات گئے لاہور پہنچا۔اگلے روز عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور دیگر ساتھیوں کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ طے پایا کہ اگلے روز پریس کانفرنس کریں گے۔ اس سے ایک روز بعد رینجرز نے مزارعین سے دستخط کرانے کا وقت دیا ہوا تھا۔

لاہور پریس کلب میں منعقد ہونے والی اس پرہجوم پریس کانفرنس میں عاصمہ جہانگیر اور ہم نے مزارعین کو دستخط کرنے کی تجویز دیتے ہوئے لفظ ’سرنڈر‘ استعمال کیااور کہا کہ یہ انتہائی مجبوری میں سرنڈر کیا جا رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اگلے روز دستخط کرانے کا تماشا دیکھنے کے لئے خود اوکاڑہ جانے کا دلیرانہ فیصلہ بھی کر لیا۔ عاصمہ جہانگیر نے مزارعین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستخط زبردستی لیے جا رہے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو گی لہٰذا اپنی جان چھڑانے کے لئے دستخط کر دیں۔

اگلے دن ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی جس میں مزارعین کے سرنڈر کرنے کی بات لکھی تھی اور عاصمہ کے اُس روز اوکاڑہ وزٹ کرنے کی بھی خبر تھی۔

تھوڑی دیر بعد مجھے کرنل صاحب کا غصے بھرا فون آیا کہ لفظ ’سرنڈر‘ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ کل تو آپ کا بہت خیال رکھا تھا۔ ہمیں ہدایت تھی اس کی۔ آج عاصمہ جہانگیر کے ساتھ بھی آؤ تو پھر آپ کو بتائیں گے کہ ہم کون ہیں!

میں نے جواباً کہا کہ کرنل صاحب آج تو میری پارٹی کے چیئرمین شعیب بھٹی بھی عاصمہ جہانگیر کے ساتھ آ رہے ہیں۔ میرا تو آج آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ بہرحال کبھی ملاقات تو ہو گی۔

مزارعین نے ہماری دستخط کرنے والی بات مان لی تھی۔

عاصمہ جہانگیر اس روز اوکاڑہ پہنچیں۔ انہوں نے زبردستی لیز پر دستخط لینے کی تقریب دیکھی۔ پھر دیہاتوں کا گھیراؤ ختم ہوا اور مزارعین کو سانس لینے کا موقع مل گیا۔

یہ ایک قدم آگے دو قدم پیچھے کے مترادف تھا۔ یہ محنت کشوں کے عظیم لیڈر ولادیمیر لینن کا معقولہ تھا کہ کبھی آگے بڑھنا اور پھر مشکل حالات میں دو قدم پیچھے ہٹنا بھی انقلابی قدم ہوتا ہے۔

چند ماہ کے دوران مزارعوں کی تحریک دوبارہ زور پکڑ گئی اور زبردستی لیے گئے یہ دستخط آج تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو چکے ہیں۔

Farooq Tariq
+ posts

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔