خبریں/تبصرے

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک اور ریفرنس

ربیعہ باجوہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد ان کے خلاف ریاستی سطح پر محاذ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ چند روز قبل صدر پاکستان کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل (اعلیٰ عدلیہ کے خلاف انضباطی کاروائی کا ادارہ) کو جسٹس عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس ارسال کیا گیا جس پر آج مورخہ 14 جون 2019ء کو کاروائی کی جائے گی۔ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ اس صدارتی ریفرنس کو میڈیا کے ذریعے پبلک کیا گیا جو جسٹس عیسیٰ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش تھی۔ واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی خفیہ رکھی جاتی ہے اور ماضی میں جن ججوں کے خلاف ریفرنسز کی سماعت ہوتی رہی ان کے مطالبے کے باوجود بھی اسے کھلی عدالت میں سماعت نہیں کیا گیا کہ اس سے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ جب جسٹس فائز کے خلاف نام نہاد ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا گیا تو اس وقت اس اصول کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور جانتے بوجھتے ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اسے پبلک کیا گیا جس پر مجبوراً قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے صدر مملکت کو خطوط لکھے گئے اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے اپنے خلاف جس ریفرنس کا پتہ چلا ہے اس کی مکمل کاپی مہیا کی جائے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ان کی شہرت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جو الزامات میڈیا کے ذریعے ان تک پہنچے ان کی تردید بھی کی۔

گزشتہ روز لاہور کے ایک غیر معروف مقامی وکیل کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک اور ریفرنس ارسال کیا گیا ہے جس میں جسٹس فائز کے صدر مملکت کو خط لکھنے کے اقدام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے ججوں کے مروجہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کر کے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میری ذاتی رائے میں یہ بھی ایک بے بنیاد ریفرنس ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ قانون کے تحت یہ جسٹس فائز عیسیٰ کا حق ہے کہ انہیں اپنے خلاف دائر شدہ ریفرنس کے مکمل مندرجات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنی صفائی کا آئینی اور قانونی حق استعمال کر سکیں۔ اگرچہ اس دوسرے ریفرنس کے پیچھے عوامل واضح نہیں کہ آیا یہ انفرادی عمل ہے جو سستی شہرت کے لئے کیا گیا ہے یا کسی قوت کی طرف سے ایک آزاد منش منصف کو دباؤ میں لانے کے جاری سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس کی کوئی آئینی اورقانو نی حیثیت نہیں ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ ایک قابل اور آزاد منش جج ہیں۔ اور عمومی تاثر یہی ہے کے وہ آزاد عدلیہ کی علامت ہیں۔ جبکہ اب یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی نظام مملکت غیر جمہوری طاقتوں کے زیر اثر رہا ہے۔ اسی طرح ان قوتوں کی طرف سے عدلیہ پر حملے ہوتے رہے اور اب بھی حالات تشویشناک ہیں۔

بلکہ اگر بار کی سیاست کا بھی جائزہ لیا جائے تو اب یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ عدلیہ آزادی تحریک کی کامیابی کے بعد غیر جمہوری طاقوں کا وکلا سیاست میں عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے اور ہر حربہ استعمال کیا گیا ہے کہ وکلا کو تقسیم کیا جائے۔ مگر ایک بات یقینی ہے کہ اگر بے بنیاد ریفرنسز کے ذریعے قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو یہ عدلیہ پر ایک بڑا حملہ ہو گا جو پاکستان میں آئین اور قانون کی بالا دستی کی جدوجہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عدلیہ بے اثر ہوجائے گی۔ پھر شاید ہی کوئی جج آئندہ آزاد فیصلے کرنے کی جرات کرے گا۔

Rabbiya Bajwa

ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فنانس سیکرٹری رہی ہیں اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔