خبریں/تبصرے

سیاسی سکول کے انعقاد کی اجازت نہ دینے پر وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کا احتجاج

اسلام آباد (عابدہ علی) وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی اراکین اور رہنماؤں نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت انہیں اپنے سیاسی سکول کے انعقاد کی اجازت دینے سے گریز کیا گیا اور این او سی مسترد کر دیا گیا۔ یہ سیاسی سکول اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں یوتھ ہوسٹل اسلام آباد میں منعقد کیا جانا تھا۔

تنظیم کی ترجمان طوبیٰ سید کا کہنا تھا کہ اس بات پر انتہائی افسوس ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے ہماری این او سی کی درخواست کو نقص امن کی بنیاد پر مسترد کیا۔ اس وقت کہ جب ہمارے ملک میں انتہا پسند جماعتوں کے نہ صرف ان گنت مدارس موجود ہیں بلکہ فرقہ واریت پر مبنی تدریسی مواد پڑھانے کی روایت بھی قائم ہے وہاں ترقی پسند جماعتوں کے اجلاسوں کو روکنا قابل احتجاج عمل ہے۔ وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کو اس آئینی حق سے محروم رکھا گیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اکٹھے ہوں اور اظہارِ رائے کریں۔ افسوس کہ یہ بلاحواز کاروائی ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی ہے۔

طوبیٰ سید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری قوتوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے اور عوام اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ ہمارماننا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا یہ فیصلہ ملک کی ابھرتی ہوئی خواتین کی مزاحمتی جدوجہد کی تنظیموں پر ایک ضرب ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی ملک بھر سے اسلام آباد آئی ساٹھ کے قریب اراکین بشمول قیادت نے ایک متبادل مقام پر اپنا سیاسی سکول پورے جوش خروش کے ساتھ منعقد کیا۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا خواتین پر مشتمل سیاسی سکول مانا جائے گا جہاں خواتین نے اپنے مقالے پیش کیے‘ ان پر گفتگو ہوئی اور سیکھنے کا مکمل موقع ملا۔ سکول کے تمام اخراجات اِن خواتین نے خود اٹھائے۔ ہم آنے والے دنوں میں بھی ملک بھر میں ضلعی سطح پر ایسے سکول منعقد کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔