سوچ بچار

سازشی تھیوریاں کیسے عوامی جدوجہد کا راستہ روکتی ہیں؟

فاروق سلہریا

جب استدلال ختم ہو جاتا ہے تو عقیدہ شروع ہوتا ہے۔ جب عقیدہ کسی مسئلے کا حل بتانے میں ناکام رہے تو پھر عموماً سازشی نظریات کی مدد حاصل کی جاتی ہے۔ بات صرف مروجہ عقائد کی نہیں ہو رہی۔ پاکستان میں بائیں بازو کے عقیدہ پرست کارکن آج بھی آپ کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ سوویت روس کا ٹوٹنا سی آئی اے کی سازش تھی۔

دائیں بازو کا تو اوڑھنا بچھونا ہی سازشی نظریات ہیں۔ کمرشل ٹیلی وژن کی آمد نے سازشی نظریات کو بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔

عقیدے کی طرح سازشی نظریات کا بھی یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی مدد سے آپ ذہنی مشقت سے محفوظ رہتے ہیں۔ ذہنی مشقت یعنی اکتسابِ علم اور تحقیق مشکل اور جستجو طلب کام ہےں۔ اس مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے جب سازشی نظریات کا تیر بہدف نسخہ موجود ہے۔ مثلاً: عالمی معاشی بحران کو سمجھنے کے لئے معاشیات پر مارکس کے طویل اور خشک مضامین پڑھنے کی کیا ضرورت ہے جب اوریا مقبول جان جیسے ہمارے سازشی نظریہ دان با آسانی ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیں ایک منٹ میں یہ ”سمجھا“ دیں گے کہ عالمی معاشی بحران ”یہودی بینکاروں“ کی کارستانی ہے۔

اس سے فرق نہیں پڑتا کہ القاعدہ نے کبھی گیارہ ستمبر سے انکار نہیں کیا یا خالد شیخ محمد نے الجزیرہ پر گیارہ ستمبر کی ذمہ داری قبول کی۔ پاکستان (بلکہ شاید پوری مسلم دنیا) میں ہم بضد ہیں کہ گیارہ ستمبر اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ نے خود کروایا۔ منو بھائی جیسے ترقی پسند کالم نگار نے بھی اُن دنوں اپنے معروف کالم ”گریبان“ میں ہمیں بتایا کہ گیارہ ستمبر والے دن کوئی یہودی حملے کی جگہ کام پر نہیں آیا۔

سوات میں جب پہلی دفعہ طالبان کو دفاعی پوزیشن پر آنا پڑا تو اس کی وجہ وہ ویڈیو تھی جس میں ایک خاتون کو زمین پر لٹا کر کوڑے مارے جا رہے تھے۔ طالبان کے نمائندے نے اس عمل کا مکمل دفاع کیا۔ لیکن جماعت ِ اسلامی کے حامیوں نے جب دیکھا کہ اس ویڈیو کی وجہ سے طالبان کی ساکھ کو زبر دست نقصان پہنچ رہا ہے تو اوریا مقبول جان نے ٹی وی پر اعلان کر دیا کہ ویڈیو جعلی ہے۔ تمام تر ”آزاد میڈیا“ آج تک یہ طے نہیں کر سکا کہ ویڈیو جعلی تھی یا اصلی۔

ملالہ کو گولی مارنے کا قصہ بھی ایسا ہی ہے۔ بے چاری کا معصوم سے چہرا ڈِسفگر ہو گیا مگر جماعت ِاسلامی کا مکتبہ فکر (پی ٹی آئی اس مکتبہ فکر کی کلین شیو شکل ہے) بضد ہے کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا (مگر یہ کہنے یا پوچھنے کی ہمت کسی کی نہیں ہوتی کہ اس سارے ”ڈرامے “ میں فوج بھی برابر شامل تھی؟)۔

بعض اوقات تو یہ سازشی نظریات لطیفہ گوئی کی حد تک مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ عرب میڈیا نے امریکی صدر کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کے تعلق کو بھی ایک اسرائیلی سازش قرار دے دیا تھا۔ سازشی تھیوری کے مطابق 1997ءمیں بل کلنٹن نے امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے اسرائیلی رہنما نیتن یاہو کو ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ نتیجے میں اسرائیل نے امریکی صدر کو اسکینڈل میں پھنسوا دیا۔

قصہ مختصر ایک سے ایک بڑی سازشی تھیوری موجود ہے جن کی ایک طویل فہرست ہے۔

ایسی سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی جذباتی ضرورت کو پورا کرتی ہوں مگر جب دنیا میں ہونے والے ہر کام کو ایک خفیہ اور طاقتور گروہ سے منسوب کر دیا جائے تو سیاست زہر آلود ہو جاتی ہے اور سائنسی تجزیہ اور منطق مذاق بن کر رہ جاتے ہیں۔ گویاسازشی نظریات کی مقبولیت کا ایک نتیجہ تویہ نکلتا ہے کہ مدلل اور منطقی تجزیہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔ دوم یہ کہ سازشوں کے ذریعے عالمی اور ملکی سطح پر حکومت کرنے والے حاکموں اور محکوموں کے مابین ایک ایسا فاصلہ قائم کر دیا جاتا ہے جسے بظاہر انقلاب کے ذریعے بھی پاٹنا ممکن نہیں رہتا۔

سازشی نظریات کے مطابق سیاسی ڈھانچے کوئی خفیہ نظام ہیں جن تک فکری رسائی ممکن نہیں۔ ان نظریات کے مطابق ریاست ہو یا سامراج‘ یہ سارے نظام کوئی مافوق الفطرت ڈھانچے ہیں جنہیں کوئی خفیہ گروہ چلا رہا ہے (یا رہے ہیں)۔ گویا طریقہ پیداوار، سیاست ، معیشت، سماجیات اور عمرانیات جیسے علوم کی مدد سے معاشرے کو سمجھنے یا جبر و استحصال کی بنیادوں کو سمجھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سب کچھ اگر ایک ایسا گروہ چلا رہا ہے جو خفیہ ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے تو پھر علمی و عملی جدوجہد کا کوئی فائدہ؟

اس سارے مسئلے کو ایک اور انداز سے دیکھتے ہیں۔ اگر حکومت کرنے والی ایک طاقتور مگر خفیہ ایلیٹ عام انسانوں کی فکری اور عملی پہنچ سے باہر ہے تواس ایلیٹ تک پہنچنا یا تو بے کار ہے یا اس تک دہشت گردی اور خود کش حملوں وغیرہ جیسے انتہائی اقدامات کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ یعنی سازش کا مقابلہ سازش کے ذریعے ۔ اگر دنیا کو ایک خفیہ ایلیٹ چلا رہی ہے تو مزاحمت بھی کوئی انتہائی خفیہ تنظیم ہی کر سکتی ہے۔ عوامی مزاحمت بے کار کی بات ہے۔ بہ الفاظِ دیگر ملکی اور عالمی حالات و واقعات کو کچے پکے سازشی نظریات کی مدد سے ”سمجھتے“ رہو مگر ٹریڈ یونین مت بناﺅ، سماجی تنظیمیں مت بناﺅ، پارٹی کی تعمیر مت کرو، عوامی حکومت کی جستجو چھوڑ دو۔

مندرجہ بالا بحث کا مطلب اس بات سے انکار نہیں کہ سازشیں نہیں ہوتیں۔ بلا شبہ ہو تی ہیں۔سی آئی اے فوجی بغاوتوں کے ذریعے تیسری دنیا کے ممالک میں عوام دوست حکومتوں کا تختہ الٹتی رہی ہے (ایران: 1953ئ؛ چلی: 1973ئ؛ اس وقت بھی وینزویلا میں بغاوت کی کوشش کرائی جا رہی ہے۔ طویل فہرست ہے)۔ سیاسی بنیادوں پر قتل ہوتے رہے ہیں جن کا کوئی بظاہر کوئی سراغ نہیں ملتا (جان کینیڈی، اولف پالمے، بے نظیر بھٹو)۔ انقلابی اور جمہوری تحریکوں کی جڑیں کاٹنے کے لئے سازشیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس کی ایک مثال جسے سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کیا وہ ہے 1990ءکے انتخابات میں دھاندلی (اصغر خان کیس)۔ ساٹھ کی دہائی میں سی آئی اے نے رد انقلابی قوتوں کی سر پرستی کرتے ہوئے انڈونیشیا اور عراق کی کمیونسٹ پارٹیوں کا قتلِ عام کروایا۔

ان سازشوں نے بلا شبہ اہم تبدیلیوں کا راستہ روکا یا نئی خوفناک تبدیلیوں کی راہ ہموار کی۔ اس میں شک نہیں۔ مگر یہ سب سازشیں تھیں یا مقتدر حلقوں کی حکمت عملی؟

جسے سازشی نظریہ دان سازش کہتے ہیں‘ دراصل وہ حکمران طبقے کی خفیہ حکمت عملی ہوتی ہے جو بعد ازاں کھل کے سامنے آ ہی جاتی ہے۔

ظاہر ہے سی آئی اے کے پالیسی سازوں نے کہیں بیٹھ کر انڈونیشیا میں یا عراق میں کمیونسٹ پارٹیوں کا قلع قمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہو گا۔ سرد جنگ کے دوران یہ واضح بات تھی کہ امریکہ اپنی فوج اور سی آئی اے کی مدد سے ہر جگہ انقلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کرے گا۔ کمیونسٹ بلاک کو بھی یہ بات معلوم تھی۔ سویت روس نے بھی ’کے جی بی‘ بنا رکھی تھی۔ سویت روس کے پاس بھی بے حد اسلحہ اور بہت بڑی فوج تھی۔ کیا سی آئی اے انڈونیشیا ، عراق یا بعد ازاں افغانستان میں مداخلت سے قبل کے جی بی یا متعلقہ کمیونسٹ پارٹی کو ٹیلی گرام پر اطلاع دیتی کہ ہم یہ سازش کر رہے ہیں؟ کیا دورانِ جنگ متحارب ممالک اپنی جنگی حکمت عملی کو خفیہ نہیں رکھتے؟ اس میں سازش کیسی؟ یہ تو حکمت عملی کی بنیادی بات ہے کہ دورانِ جنگ آپ اپنے منصوبوں کو اپنے مخالف سے خفیہ رکھیں گے۔ یہ صورتحال طبقاتی، سامراجی اور جمہوری جنگ کی بھی ہے۔

بھٹو کا تختہ الٹنے کے لئے ضیا الحق کے گروہ نے کہیں بیٹھ کر منصوبہ بندی کی ہو گی لیکن اگر بھٹو نے ردِ انقلاب سے نپٹنے کے لئے تیاری کی ہوتی تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ ہوگو شاویز کو معلوم تھا کہ امریکہ اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش (”سازش“) کرے گا مگر اس کی تیاری تھی۔ لہٰذا 2002 ءکی بغاوت ناکام رہی جس میں عوامی مزاحمت کا کلیدی کردار تھا جب لاکھوں لوگ وینزویلا کی سڑکوں پر شاویز کی حمایت میں نکل آئے۔ ابھی تقریباً تین مہینوں سے امریکہ وینزویلا میں بار بار بغاوت کی کوشش کروا رہا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ملی۔ یعنی ضروری نہیں ”سازش“ ہمیشہ کامیاب بھی ہو۔

یہ درست ہے کہ محض جوابی حکمت ِعملی کافی نہیں ہوتی۔ کیوبا اگر امریکی ”سازشوں“ کے باوجود انقلابی حکومت بچانے میں کامیاب رہا تو اس کی وجہ ابتدائی دہائیوں میں سویت یونین تھا۔ بعد ازاں لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی حکومتوں نے کیوبا کو سانس لینے کا موقع دیا۔ ساتھ ہی ساتھ کیوبا کو معلوم تھا کہ امریکی سامراج اس کے خلاف ”سازشیں“ کرے گا لہٰذا ”سازشوں “سے نپٹنے کے لئے بھی کیوبا تیار تھا۔

”سازشوں“ کی ایک اور شکل یہ ہوتی ہے کہ طاقتور افراد مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر منافع خوری یا اقتدار حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی بناتے ہیں۔ اس کی ایک شکل ہے کہ کاروباری شخصیات امریکہ سے لے کے پاکستان تک انتخابات میں ایسی پارٹی کو چندہ دیتے ہیں جس کے جیتنے کا امکانات زیادہ ہوں۔

ہمارے ہاں ملک ریاض ایک دلچسپ مثال ہیں ۔ وہ بظاہر رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں مگر حکومت فوج کی ہو یا سویلین ، ملک ریاض کی طاقت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ میڈیا بھی ان کے بارے میں خاموش رہتا ہے۔ ملک ریاض بھی بہت ساری خفیہ چالیں چلتے ہوں گے لیکن ظاہر سی بات ہے کہ اگر مقتدر حلقے اور ادارے بشمول عدالتیں ان پر ہاتھ نہیں ڈالتیں تو یہ کسی سازش نہیں طبقاتی مفاد کی بات ہے ۔اسی طرح ملک ریاض کی خفیہ چالیں ان کی کاروباری دھونس دھاندلی کا حصہ ہیں جو ہمارے سماج میں ممکن ہیں۔ کل کو ایک ایسی حکومت آ جائے جو بحریہ ٹاﺅن کو قومی ملکیت میں لے لے تو ملک ریاض کی ساری خفیہ چالیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ یعنی کسی طبقے یا گروہ کی خفیہ چالوں کے پیچھے مادی مفادات کارفرما ہوتے ہیں اور وہ مخصوص مادی حالات میں ہی کامیاب ہو سکتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ ملک ریاض اور مقتدر قوتوں کا خفیہ( یا بعض اوقات اعلانیہ )گٹھ جوڑ ایک اقلیت کاگٹھ جوڑ کہلا سکتا ہے۔ اکثریت اس اقلیت کے سامنے بے بس ہے مگر یہ گٹھ جوڑ ان کی طبقاتی طاقت کا محض ایک اظہار ہے ۔ اس طاقتور اقلیت کی اصل طاقت سٹرکچرل ہے۔ سرکاری افسران (جو ریٹائر ہو کر بحریہ ٹاﺅن کی نوکری کرتے ہیں)، سرمایہ دار سیاستدان (زرداری ہو یا نواز شریف اور عمران خان)، جج ہوں (مثلاً جسٹس افتخار کے صاحبزادے) یا میڈیا والے (طویل فہرست ہے) سب ملک ریاض سے فیضےاب ہوتے ہیں۔ سب کا طبقاتی مفاد ایک ہے۔

پھر یہ کہ سرمایہ دارانہ ریاست کی فطرت ایسی ہے کہ یہ بالادست طبقوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ یہ کوئی فلاحی ریاست نہیں کیونکہ مزدور تحریک ابھی اتنی جاندار نہیں ہوئی کہ ریاستی ڈھانچوں میں مداخلت کر کے اسکی نیچر میں کوئی عوام دوست تبدیلی لائے لہٰذا دولت، طاقت اور اختیارات کی غیر مساوی تقسیم کے نتےجے میں آج ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن اس قدر طاقتور ہیں۔ یہ کسی سازش کا نتیجہ نہیں۔ مادی حقائق سب کے سامنے ہیں۔ اس طرح اگر ہم یہ حقیقت سمجھ لیں کہ ریاست تاریخی طور پہ جبر کا ایک ہتھیار ہے جو ایک طبقہ دوسرے طبقے کو محکوم رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے تو بہت ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں گی۔ کسی سازشی تھیوری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اب ذرا سازشی تھیوری کی حقیقت پر بھی بات ہو جائے۔

سازشی تھیوری کی بنیاد اکثر یا تو غلط معلومات پر رکھی جاتی ہے (”گیارہ ستمبر کو کوئی یہودی کام پر نہیں گیا“وغیرہ وغیرہ) یا ادھوری معلومات (جس میں آدھا سچ بھی ہو سکتا ہے) کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ معلومات کہاں سے حاصل کی گئیں‘ کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ پاکستان جیسے ممالک میں تو تعصبات ہی کافی ہیں۔ یہاں یہودیوں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں وغیرہ کا نام ہی کافی ہے۔سازشی نظریات میں بڑے بڑے دعوے کیے جائیں گے مگر دلیل اور تحقیق کی بنیاد پر نہیں۔ بلکہ واقعاتی حوالے دئیے جائیں گے۔

تحقیق کے دو بنیادی اصول ہیں۔ ایک یہ کہ ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیا جائے۔ دوم اگر ثبوت موجود نہیں تو دلیل اور منطق سے کام لیا جائے۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ اگر آپ کسی کمرے میں بیٹے ہوں اور باہر بارش ہو رہی ہو تو منطقی بات ہے کہ سڑکیں پانی سے بھیگ گئی ہوں گی۔ آپ کو باقاعدہ ثبوت لانے کی ضرورت نہیں۔ بہترین تحقیق وہ ہوتی ہے جس میں آپ اپنی بات کو ثبوت اور دلیل دونوں سے ثابت کر سکیں۔ سائنس، تاریخ اور عمرانی علوم میں تحقیق کے باقاعدہ معیار اور پیمانے بنائے گئے ہیں اور ان میں مسلسل بہتری لائے جا رہی ہے۔ لیکن سازشی تھیوری بننے والوں کو ان ساری باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

سازشی نظریات کے کچھ نتائج کا تو اوپر ذکر ہو چکا کہ ان کے نتےجے میں فکری اور عملی جدوجہد پر یقین متزلزل ہوتا ہے۔ ان کا ایک نتیجہ نسل پرستی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے خلاف جبر اور تشدد کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔ عالمی سطح پر اور تاریخی طور پر یہودی اس کے شکار رہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ مذہبی فرقوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ سازشی نظریات کی بنیاد پر ہی لوگوں کو غدار قرار دے دینا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ بلوچ، پشتون اور سندھی قوم پرستوں کے علاوہ فیض احمد فیض جیسے کمیونسٹ افراد پر بھی سازشی نظریات کی مدد سے غداری کے الزام لگائے گئے۔

آخری بات: سازشی نظریات ایسی پرتوں، ملکوں، طبقوں اور گروہوں میں مقبول ہوتے ہیں جو منظم نہیں ہوتے، جو باخبر نہیں ہوتے، پسماندہ ہوتے ہیں اور جو خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب یہ حلقے یا سازشی نظریات کو ماننے والے افرادفکری جدوجہد کرنے کی بجائے سازشی تھیوری کی آسان راہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ انقلابی تبدیلی کی جان جوکھم والی جدوجہد منظم کرنے کی بجائے معجزوں اور مسیحاﺅں کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسے حالات، حلقے اور افراد جب تک موجود رہیں گے اوریا مقبول جان ، عامر لیاقت، طلعت حسین اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے اینکر پرسن بے روزگار نہیں ہوں گے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔