ماحولیات

نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات

نثار شاہ

آزاد کشمیر خصوصاً مظفر آباد کے عوام گزشتہ 6 ماہ سے نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ نیلم جہلم ہائیڈریل پاور پراجیکٹ کے ذریعے اگست2018ء میں بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی تھی۔ 969میگا واٹ بجلی کی پیداوار کا یہ منصوبہ 2008ء میں چائنیز کمپنیوں کے کنسورشیم کے ذریعے 5.1 بلین ڈالر کی مالیت سے شروع کیا گیا تھا۔ جو دس سال کے بعد 2018ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ منصوبے کے مطابق دریائے نیلم کو نوسیری کے مقام سے زیر زمین 45 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے دریائے جہلم کے نیچے سے گزارکر چھتر کلاس کے مقام پر پاور ہاﺅس سے ملایا گیا ہے۔ ٹنل کے بالائی و اطرافی علاقے پہاڑوں، وسیع جنگلات اورانسانی آبادیوں پر مشتمل ہیں۔ 2008ء میں جب یہ منصوبہ شروع کیاگیا تھا تو کچھ سنجیدہ سیاسی حلقوں کی طرف سے اس منصوبے کے معاشی، قانونی اور ماحولیاتی پہلوﺅں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن ارباب اقتدار اور حکمران طبقے نے ہمیشہ کی طرح اپنی روش بدلنے کے بجائے ناقدین کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ منصوبوں کے حوالے سے ہونے والی مثبت تنقید کو بھی کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ بلکہ ہر طرح کی مزاحمتی آواز کو بزور طاقت دبانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ بجلی کا بحران یقینا ایک انتہائی اہم ایشو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کس قیمت پر؟ کیا انسانی تہذیب اور زندگی کی تباہی کے نتیجے میں بجلی کی پیداوارکے ذریعے انسانی معاشرے کی ترقی کا دعویٰ درست ہے یا یہ سب کچھ سرمایہ دارانہ نظام کی منافع خوری کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔

بجلی کی پیداوار کے بے شمار طریقے ہیں جس میں ماحولیاتی تباہی کا باعث بننے والے بہت بڑے میگا ڈیموں کی بجائے ماحول دوست چھوٹے چھوٹے ہائیڈرل پاور پراجیکٹ بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ جو زمین کی ایکالوجیکل (Ecological) ساخت کو نقصان پہنچائے بغیر بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منافع خوری کی ہوس نے گزشتہ کئی سالوں سے آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے خطے کے وسائل اور خوبصورتی کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام دریاﺅں اور ندی نالوں پر بے دریغ بجلی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ جن میں نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ، ہولاڈ کرور پاور پراجیکٹ ، کوہالہ پاور پراجیکٹ ، آزاد پتن پاور پراجیکٹ اور جاگراںنیلم پاور پراجیکٹ سمیت کئی چھوٹے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان منصوبوں سے 8000 میگا واٹ بجلی درمیانی مدت میں جبکہ 18000 میگا واٹ بجلی لمبے عرصے میں پیدا کی جاسکے گی۔

اس وقت منگلا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ سے تقریبا 2300 میگا واٹ بجلی پاکستان کے مین گریڈ میں جارہی ہے۔ آزاد کشمیر تمام عالمی قوانین و معاہدوں کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے سرکاری موقف کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس علاقے میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تحفظات کا خیال رکھنا پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن عملی طور پر اس کا اظہار نظر نہیں آرہا ہے۔ بجلی کی کمی کا ڈھندورا پیٹ کر جو بڑے بڑے ڈیم بنائے جارہے ہیں ان سے بجلی کی پیداوار پوری کرنے کے مقاصد سے زیادہ عالمی مالیاتی اداروں کے مفادات کو تحفظ دینا مقصود نظر آتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے فنڈز کے ذریعے ملٹی نیشنل کمپنیاں تعمیراتی کام کے نام پر اربوں روپے کمار ہی ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر کیلئے قرضے کی صورت میں جو پیسہ یہ ادارے دے رہے ہیں اس کی واپسی بجلی کے ٹیرف کے نام پر عوام کا خون نچوڑ کر کی جائےگی۔

ان منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ڈیموگرافیکل اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عوام کو مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس 45 کلومیٹر علاقے پر نیلم جہلم ٹنل بنائی گئی ہے ان پہاڑوں پر بہنے والے قدرتی پانی کے 400 چشمے مکمل طور پر خشک ہوچکے ہیں۔ جبکہ انسانوں اور جانوروں کی ایک بڑی آبادی پانی کی قلت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کی قدرتی افزائش پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جبکہ دریائے نیلم کا 80 فیصد پانی زیر زمین ٹنل میں منتقل کیے جانے کی وجہ سے نوسیری سے مظفر آباد کی طرف سے آنے والا دریا مکمل طور پر خشک ہوکر نالے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

مظفر آباد شہر، جو قدیم تہذیبی مرکز رہا ہے، کی بنیا د و شناخت ہی نیلم جہلم دریا کے ملاپ پر شہری زندگی کا قیام ہے۔ موجودہ منصوبے کے نتیجے میں دریائے نیلم مکمل طور پر خشک ہوچکا ہے۔ دریائے نیلم کے خشک ہونے کے اثرات بہت تیزی کےساتھ سامنے آرہے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر مظفر آباد شہر اور اس سے منسلک آبادیوں پر پڑرہا ہے۔ مظفر آباد شہر کی صدیوں پرانی تہذیب انتہائی خطرے میں ہے۔ دریا میں رہنے والی آبی حیات کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ زیر زمین سرنگ کی وجہ سے قدرتی چشموں کے روٹ تبدیل ہوچکے ہیں۔ بجلی کی پیدوار کے بعد اس کی ترسیل کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ بجلی کی ترسیل کے راستوں پر رہنے والی تمام آبادی 11000 وولٹ کی ہیوی لائن کی آواز اور مضر اثرات سے متاثر ہو رہی ہے۔ اتنی طاقتور لائن کے تابکاری اثرات حاملہ عورتوں اور معصوم بچوں پر مختلف بیماریوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی حیات اور درخت بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام میں ترقی کے نام پر جو کھلواڑ کیا جا رہا ہے اس کے بھیانک اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی سطح پر ماحولیات کی تباہی اور کر ہ ارض پر انسانی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہاہے وہ بالکل درست ہیں۔ ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کی تحقیق نے واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو آئندہ دہائیوں میں دنیا بہت بڑی تباہی کا سامنا کرسکتی ہے اور اس تباہی کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان جیسے ممالک پر پڑیں گے۔ جہاں درجہ حرارت کے بڑھنے کے نتیجے میں گلیشئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس تیزی سے گلیشئر پگھل رہے ہیں اس رفتار سے نئے گلیشئر وجود میں نہیں آ رہے ہیں۔ گلیشئرز کے پگھلنے کی وجہ سے دریاﺅں اور ندی نالوں میں پانی زیادہ ہوجاتا ہے جس سے سیلاب آتے ہیں۔ جب گلیشئیرز کے پگھلاﺅ کا سرکل ختم ہوگا تو پانی کی قلت کی وجہ سے خشک سالی کے بد ترین دور کا آغاز ہوسکتاہے جس کی وجہ سے پوری انسانی تہذیب کو خطرات لاحق ہونگے۔ گزشتہ سال بھی بارشوں سے قبل خشک سالی کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں پانی کے قدرتی چشمے اور ندی نالے خشک ہوگئے تھے۔ جس کی وجہ سے پہاڑوں پر رہنے والے لوگ بھی ٹینکروں کے ذریعے پانی خرید نے پر مجبورتھے۔

ماحولیات کا یہ بحران کوئی قدرتی بحران نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے نیولبرل ایجنڈے کے ذریعے وسائل کی بے دریغ لوٹ کھسوٹ اور بے ہنگم نام نہاد ترقی کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ داری نظام ترقی کے نام پر جس طرح سے قدرتی ماحول کی تباہی اور وسائل کا استحصال کررہاہے وہ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کے خاتمے کی بنیا د بن سکتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے محنت کش عوام کی اس نظام کے خلاف طبقاتی جدوجہد کے لئے ماحولیاتی سوشلزم کا (Ecosocialism) نعرہ ایک بنیادی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ لہٰذا استحصال زدہ طبقات کے پاس دو ہی راستے ہیں: وہ اس تباہی اور بربریت کا سامنا کرےں یا سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔

Nisar Shah
نثار شاہ عوامی ورکرز پارٹی جموں کشمیر کے چیئرمین ہیں اور ہائی کورٹ وکیل کے طور پر مفاد عامہ کے مقدمات لڑنے میں جانا پہچانا نام ہیں۔