سوچ بچار

کینز اسلام آباد میں؟

عمران کامیانہ

گزشتہ دنوں ملک کے نامور انگریزی روزنامے میں ایک مضمون ’کینز اسلام آباد میں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ جس میں لکھاری، جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں اور کراچی کی ایک بڑی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کینز کی تجویز کردہ معاشی پالیسیاں اپنائی جانی چاہئیں۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اِس مضمون کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا چاہیں گے جس کے لئے ہم مختصر اور آسان الفاظ میں کینز کے نظریات کا عمومی تعارف پیش کرنا اور انہیں تاریخی حوالے سے پرکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔

جان مینارڈ کینز (1883ء – 1946ء) ایک برطانوی معیشت دان تھا جس کے نظریات نے 1929ء کے ’گریٹ ڈپریشن‘کے دوران اور بعد کے سالوں میں عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ کینز کا شمار بجا طور پہ سرمایہ داری کے بڑے معیشت دانوں اور پالیسی سازوں میں کیا جاتا ہے۔ اُسے جدید ’میکرو اکانومی‘ کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ اُس کا سب سے نمایاں ’کارنامہ‘ اِس حقیقت کو تسلیم کرنا تھا کہ سرمایہ داری ایسی بحرانی کیفیات میں داخل ہو سکتی ہے جن میں سے وہ ازخود نہیں نکل سکتی۔ اس سے قبل کلاسیکی معیشت دانوں کا استدلال رہا تھا کہ منڈی کو اگر اس کے حال پہ چھوڑ دیا جائے تو ’آخر کار‘ وہ اپنے تضادات خود حل کر لیتی ہے۔ لیکن کینز نے اِس خیال کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ”آخر کار تو ہم سب نے مر جانا ہے۔“ یعنی ضرورت ابھی کچھ کرنے کی ہے‘ نہ کہ سب کچھ وقت پہ چھوڑ دیا جائے۔

درحقیقت 1929ء کا بحران اِس قدر شدید تھا کہ امریکی معیشت 30 فیصد تک سکڑ گئی تھی اور 1933ء تک بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تک جا پہنچی تھی۔ پوری سرمایہ دارانہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی یہ کیفیت محنت کشوں میں بے چینی اور انقلابی جذبات کو جنم دے رہی تھی اور حکمران طبقات کے لئے شدید تشویش کا باعث تھی۔ سب کچھ ’منڈی کی قوتوں‘پہ چھوڑنے کی بجائے بحران سے جلد از جلد نکلنے کی خواہش نے ہی کینز کو اُن کا ناخدا بنا دیا۔

لیکن کینز کے تجویز کردہ حل کی طرف جانے سے پہلے دیکھنا ضروری ہے کہ اُس کا طبقاتی نقطہ نظر کیا تھا اور اُس کے خیال میں بحران کی وجہ کیا تھی۔ کینز کوئی مزدور دوست انسان نہیں تھا (جیسا کہ بائیں بازو کے بہت سے حلقوں میں بھی تاثر پایا جاتا ہے) بلکہ سرمایہ داری کا کٹر حامی تھا۔ وہ سرمایہ داری کو ’تہذیب‘کی بنیادی شرط گردانتا تھا اور برملا کہتا تھا کہ طبقاتی جنگ کی صورت میں‘ میں ہمیشہ ”مہذب سرمایہ داروں“ کی صفوں میں کھڑا ہوں گا۔

کینز کے خیالات اُس کی زندگی کی دوران بھی نہ صرف ارتقا پذیر رہے بلکہ مسلسل بدلتے رہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ ”حقائق کیساتھ میں اپنے خیالات بھی بدل لیتا ہوں۔ اور آپ کیا کرتے ہیں؟“ اُس کی مشہور زمانہ کتاب ’روزگار، شرح سود اور زر کی جنرل تھیوری‘، جس میں اُس نے اپنے خیالات کو مربوط شکل دینے کی کوشش کی، گریٹ ڈپریشن کے آغاز کے تقریباً سات سال بعد ہی شائع ہوئی۔ اس حوالے سے آج تک بھی ’کینیشینزم‘(Keynesianism) کسی بنے بنائے معاشی فارمولے سے زیادہ معاشیات میں ایک عمومی رجحان کی حیثیت رکھتا ہے۔

جان مینارڈ کینز

تاہم بنیادی طور پر کینز کا خیال تھا کہ بحران کی وجہ طلب (ڈیمانڈ) کا فقدان ہے۔ یعنی لوگوں کی جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ چیزیں خرید سکیں۔ جس کی وجہ سے کساد بازاری ہے اور معیشت چل نہیں پا رہی ہے۔ اسی لئے کینیشینزم ایک طرح کی ’ڈیمانڈ سائیڈ معیشت‘ ہے جو اپنی توجہ طلب پر مرکوز کرتی ہے۔

طلب میں کمی کے مسئلے کا حل جو کینز نے تجویز ہے کیا اُس کے دو عمومی پہلو ہیں جو آج تک بھی کینیشین معاشیات کے بنیادی ستون ہیں۔

1) زری پالیسی (Monetary Policy): شرح سود میں کمی۔ تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

2) مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy): طلب کی کمی کے پیش نظر نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کے فقدان اور سرمایہ کاری کے فقدان کی وجہ سے طلب میں کمی کی متناقضانہ کیفیت میں حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معیشت میں مداخلت کرے اور ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے جن سے روزگار پیدا ہو سکے۔ تاکہ طلب کو بحال کیا جا سکے اور معیشت کو مذکورہ بالا گھن چکر سے نکالا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے ریاست کو چاہئے کہ خسارے کے بجٹ بنائے۔ یعنی قرض لے کے اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرے۔

”اگر حکومت پرانی بوتلوں کو کرنسی نوٹوں سے بھر کے کوئلے کی متروک کانوں میں مناسب گہرائی تک دبا دے… اور آزاد منڈی کے آزمودہ اصولوں کے مطابق یہ کام نجی شعبے پہ چھوڑ دے کہ وہ زمین کھود کے یہ نوٹ نکالیں… تو بیروزگاری نہیں رہے گی… ویسے زیادہ معقول بات تو یہ ہو گی کہ حکومت کی جانب سے گھر وغیرہ تعمیر کیے جائیں۔ لیکن اگر اس سلسلے میں سیاسی اور عملی مشکلات حائل ہیں تو کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے کہ (زمین میں نوٹ دبانے اور پھر نکالنے والا) مذکورہ بالا کام کیا جائے۔“ (کینز، 1936ء)

یہی کینیشینزم کی اساس ہے کہ بوقت ضرورت ریاست ’میگا پراجیکٹوں‘ میں سرمایہ کاری کرے جس سے نجی شعبہ منافع حاصل کرے اور روزگار کی نئے مواقع پیدا ہوں۔ اور اِس طرح سے ٹوٹا ہوا معاشی سائیکل دوبارہ رواں ہو جائے گا!

امریکہ میں فرینکلن ڈی رو زویلٹ کی حکومت نے بحران سے نکلنے کی کوشش میں یہی کچھ کیا۔ اس پالیسی کو ’نیو ڈیل‘کہا جاتا ہے جو 1933ء سے 1936ء تک جاری رہی جس میں عمارات، سڑکوں اور ڈیموں وغیرہ کی تعمیر کے دیوہیکل منصوبے شروع کیے گئے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے طریقوں سے بھی معیشت میں پیسہ پھینکا گیا۔ اِن تین سالوں میں امریکہ کی وفاقی حکومت کے اخراجات 1929ء کی نسبت تین گنا ہو گئے اور سرکاری قرضے جی ڈی پی کے 20 فیصد سے بڑھ کے 40 فیصد (یعنی دو گنا) ہو گئے۔ اس دوران حکومت اپنی آمدن سے دو گنا خرچ کر رہی تھی۔ صرف تین سالوں میں قرضوں میں یہ اضافہ دیوہیکل تھا جسے مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن جیسا کہ مذکورہ بالا مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے‘ کیا اِس نسخے سے معیشت بحال ہو پائی؟ بالکل نہیں۔ یہ ایک عام مغالطہ ہے جسے دانستہ طور پر بھی پروان چڑھایا جاتا ہے کہ امریکی معیشت ’نیو ڈیل‘ کی وجہ سے بحران سے نکلی تھی۔ درحقیقت کچھ سالوں کی جزوی بحالی کے بعد 1937ء میں معیشت ’ڈبل ڈپ‘ یا دوہرے بحران کا شکار ہو گئی تھی۔ بیروزگاری کی شرح، جو مئی 1937ء میں 14.3 فیصد تک گر گئی تھی، جون 1938ء میں دوبارہ 19 فیصد سے تجاوز کر رہی تھی۔ اور 1938ء تک بھی امریکی جی ڈی پی قبل از بحران کی سطح سے نیچے تھا۔

بیروزگاری کی شرح

یعنی کینز کا نسخہ امریکی معیشت کو بحال کرنے میں ناکام رہا۔ کیونکہ بیماری کی جو تشخیص کینز نے کی تھی وہی غلط تھی۔ سرمایہ داری کی قوت محرکہ منافع ہے۔ اور اس نظام میں طلب یا سرمایہ کاری کے فقدان کے بحرانات کے پس پردہ شرح منافع کا بحران کارفرما ہوتا ہے۔ جو اپنا اظہار مختلف شکلوں میں کر سکتا ہے اور جس کی مختلف کیفیات کی گہرائی میں وضاحت کارل مارکس نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’سرمایہ‘ میں کی تھی۔

جس چیز نے سرمایہ داری کو فیصلہ کن طور پر گریٹ ڈپریشن سے نکالا وہ کینز کی پالیسیاں نہیں بلکہ دوسری عالمی جنگ تھی۔ جنگی معیشت (War Economy) میں امریکی حکومت کی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھتے ہوئے 1944 ء تک کُل قومی پیداوار کے 40 فیصد تک پہنچ چکی تھی! نجی شعبے کی سرمایہ کاری اس کا عشر عشیر بھی نہیں تھی۔ صرف پانچ سالوں میں سرکاری قرضے تقریباً تین گنا اضافے کیساتھ جی ڈی پی کے 110 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔ جنگ لڑنے کے لئے امریکی سرمایہ داری کو ایک طرح کی ’منصوبہ بند معیشت‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا جس میں سرمایہ کاری کی سمت اور وسائل کی تقسیم (Resource Allocation) کے تمام اہم فیصلے ’آزاد منڈی‘ کی بجائے حکومت کر رہی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرمایہ داروں کی اپنی بقا کو جب بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے وہ آزاد منڈی کے گن گانے کی بجائے معاشی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

یہ وہ دیوہیکل اور حقیقی معنوں میں بے نظیر ریاستی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی تھی جس نے جنگ کے دوران بیروزگاری کا کم و بیش صفایا کر دیا۔ اِس دوران جنگی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے براہِ راست یا بالواسطہ طریقوں (وار بانڈز اور جنرل انکم ٹیکس وغیرہ) سے محنت کشوں کی حقیقی اجرتوں اور کھپت کو منجمد رکھ کے محنت کے استحصال میں کئی گنا اضافہ کیا گیا۔ عالمی سطح پر جنگ کی وسیع بربادیوں میں کروڑوں انسانی جانوں کیساتھ ساتھ پیداواری قوتیں بھی بڑے پیمانے پر تباہ ہوئیں جس سے ’بیکار (زائد) سرمائے‘ کا خاتمہ ہوا اور معیشت میں نئی گنجائش پیدا ہوئی۔ بعد از جنگ کے عرصے میں بلند تر سطح پر گلوبلائزیشن، بڑے پیمانے کی تعمیر نو، درجنوں نئی صنعتوں کے قیام اور منڈیوں کے پھیلاؤ وغیرہ جیسے عوامل نے شرح منافع کو بحال کیا اور عالمی سرمایہ داری کے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے ’بوم‘ کا آغاز ہوا جو دو دہائیوں تک جاری رہا۔

امریکی حکومت کے قرضے

آج نوبل انعام یافتہ پال کروگمین سے لے کے تھامس پِکٹی اور لیری سمرز تک‘ سرمایہ داری کے نامور معیشت دانوں اور پالیسی سازوں کی ایک طویل فہرست ہے جو کھل کے خود کو کینز کا پیروکار کہتے ہیں یا اُس سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔ لیکن اِس سے بڑا المیہ برطانیہ کے جیرمی کاربن سے لے کے امریکہ کے برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا کورٹیزتک‘ بائیں بازو کے اصلاح پسندوں کا ہے۔ جو ’نیو مانیٹری پالیسی‘ اور ’عوامی مقداری آسانی‘ (Public Quantitative Easing) (جن کا تفصیلی تجزیہ ہم کسی اور تحریر میں کریں گے) جیسی کینیشینزم کی نئی شکلوں کو سرمایہ داری کے تضادات کا حل گردانتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف چین سے لے کے امریکہ تک ریاستیں بحران کو ٹالنے کے لئے خسارے کے بجٹ دہائیوں سے چلا چلا کے اِس قدر قرضوں میں ڈوب چکی ہیں کہ اس طریقہ کار کی مزید گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اور بحران کو جتنا ٹالا جاتا ہے وہ اتنا ہی سنگین ہو کے نمودار ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کریں تو یہاں بھی کینیشینزم کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ایوب خان سے لے کے آج تک کی فوجی اور سویلین حکومتیں مختلف شکلوں اور سطحوں پر یہ پالیسیاں اختیار کرتی چلی آئی ہیں۔ مثلاً گزشتہ حکومت کی مثال ہی لیں تو سی پیک کے منصوبوں کو استعمال کرتے ہوئے انہی بنیادوں پر بلند معاشی شرح نمو حاصل کی گئی تھی۔ لیکن قرضوں کی بنیاد پر کب تک معیشت کو چلایا جا سکتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں حکومت کے قرضے 6 ہزار ارب سے لگ بھگ 30 ہزار ارب روپے (جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تقریباً 80 فیصد) ہو چکے ہیں اور معیشت غیر اعلانیہ دیوالیے کا شکار ہے۔ اور بھیک پہ خودکشی کو ترجیح دینے کی بڑھکیں مارنے والوں کی حالیہ حکومت بھیک مانگنے کے سارے ریکارڈ توڑتی چلی جا رہی ہے۔ چیزیں جلد یا بدیر اپنے اُلٹ میں بدل جاتی ہیں۔ ایک وقت میں معیشت کو اوپر لے جانے والے قرضے ہی اسے ڈبونے کا موجب بن جاتے ہیں۔

لہٰذا اسلام آباد میں آج کینز کو بھی لے آئیں تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کو اس کی حدود و قیود میں حل نہیں کیا جا سکتا۔

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔