شاعری

زکام زدہ مینڈکیوں کا آئیٹم سونگ

فاروق سلہریا

مطالعہ پاکستان کے کنویں میں مقید مینڈک
بضد ہیں
کہ سمندر ایک افسانہ ہے

ان میں سے کچھ مینڈک سر شام
پھدک کر کنویں کی منڈیر پر آ پہنچتے ہیں
منڈیر پر براجمان ان مینڈکوں پر واجب ہے
کہ چوکیدار کی چوریوں پر خوشی سے ٹرٹرائیں

صلے میں چوکیدار
ان مینڈکوں کو
سانپ کا دودھ پلاتا ہے

مطالعہ پاکستان کے اس کنویں میں
زکام کا شکار کچھ مینڈکیاں بھی ہیں
شدت زکام سے نڈھال ہو کر یہ مینڈکیاں
اپنی چھینکیں ٹویٹ کرتی رہتی ہیں

زکام کا شکار مینڈکیاں
اور سانپ کے دودھ پر پلنے والے مینڈک
ٹرٹرانے میں اس بے طرح مگن ہیں
انہیں یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں
کہ سالوں سے
گاوں کی مٹیاریں کنویں پر پانی بھرنے نہیں آئیں
اور سانول رہٹ آگ میں جھونک کر شہر مزدوری کرنے چلا گیا ہے

جس کی منڈیر پر بیٹھے یہ مینڈک ٹرٹرا رہے ہیں
مدت ہوئی
وہ کنواں اندھا ہو چکا ہے

ٹرٹراہٹ کے شور میں
مینڈکوں کے کان میں یہ سرگوشی لاحاصل کون کرے
کہ اندھے کنویں
خودکشی کی چھلانگ لگانے کے لئے
صرف مایوسیوں کے کام آتے ہیں 

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔