سوچ بچار

جموں کشمیر بنام پاکستان

فاروق سلہریا

ڈئیر پاکستان۔ سلام!

پانچ اگست سے آپ کی حکومت اور میڈیا نے جو تماشا لگا رکھا ہے، اسے برداشت کرتے کرتے تیس اگست کو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ آپ کس کو بیوقوف بنا رہے ہو، مجھے یا خود کو؟ اگر آپ کے کھڑے ہونے اور سائرن بجانے سے مجھے آزادی ملنی ہے تو براہِ کرم تھوڑی ہمت اور کرو۔ دو چار گھنٹے کھڑا ہونا شروع کر دو تا کہ میرے علاوہ فلسطین اور ترکمانستان کو بھی آزادی مل جائے۔ آخر وہ بھی آپ کے مسلمان بھائی ہیں۔ اسلام کی بات چلی ہے تو چلئے پہلے مسلمانی کی بات ہی ہو جائے۔

کیا آپ کو معلوم ہے میرا نصف یعنی جموں مسلمان نہیں ہے؟ کیا آپ کو یہ تک معلوم ہے کہ رقبے کے لحاظ سے میرا سب سے بڑا خطہ لداخ کس مذہب کے پیروکاروں کی سر زمین ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے یا ذرا سا بھی احساس ہے کہ میری آزادی کے مسئلے کو مذہبی رنگ دینے سے میرا کتنا نقصان ہوا ہے؟ صدیوں سے میری وادی میں رہنے والے پنڈت میرے ہی جموں میں بے وطن ہو کر رہ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میری آزادی کو مذہبی مسئلہ بنانے پر آپ کی حکومت اور بی جے پی میں مکمل اتفاق ہے۔

ان دونوں حکومتوں میں یہ اتفاق بھی پایا جاتا ہے کہ جنگ نہیں کرنی، بس جنگ کا ماحول بنا کر رکھنا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے لگ بھگ پچاس سال پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ ’سٹیٹس کو‘ ہی”مسئلہ جموں کشمیر“ کا اصل حل ہے۔ دونوں نے لائن آف کنٹرول کو مقدس سرحد مان رکھا ہے۔ دونوں کو جب دوستی کے معاہدوں کی ضرورت پڑتی ہے تو با آسانی مجھے بھلا دیتے ہیں۔ کبھی تاشقند معاہدہ، شملہ معاہدہ اورلاہور ڈیکلیریشن یا ممکنہ معاہدہ آگرہ کی تفصیلات پڑھی ہیں؟ کہیں میرا ذکر ملا؟ ملا بھی تو باہمی طور پر حل طلب مسئلے کے۔ ایسے موقعوں پر دلی کو اقوامِ متحدہ کی قراردادیں یاد رہتی ہیں نہ اسلام آباد کو۔

ویسے مجھے تو یقین ہے آپ نے میرے متعلق اقوام ِمتحدہ کی قرارد ادیں بھی کبھی پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہو گی۔ اس کا اندازہ مجھے وہ یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر ہوا جس میں امریکی سکالر کرسٹین فیئر ایک پاکستانی فل برائٹ سکالر کو ان قراردادوں کی حقیقت سمجھا رہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ کرسٹین فیئر پاکستان بارے تعصب رکھتی ہیں مگر ان کی بات درست ہے۔ وقت ملے تو آپ بھی یہ ویڈیو ضرور دیکھئے گا۔ آپ کا ”آزاد“ میڈیا تو کبھی آپ کو ایسا مواد دکھائے گا نہیں اس لئے لنک ارسال کر رہاہوں:

https://www.youtube.com/watch?v=_aoYNQrOOu0

میرے متعلق آپ کی جہالت سے پہلے مجھے چڑ ہوتی تھی۔ اب ہنسی آتی ہے۔ آپ کے یونیورسٹی گریجویٹس کو آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ”پاکستان کے شمالی علاقہ جات“ دراصل میرا بدن کاٹ کر بنائے گئے ہیں۔ آ پ کو تو آج تک یہ بنیادی معلومات بھی میسر نہیں ہو سکیں کہ میرا مسئلہ شروع کیسے ہوا تھا لیکن میرے اس خط کا مقصد کچھ اور ہے۔

میرا مدعا فقط اتناہے کہ اگر آپ کو واقعی میری آزادی عزیز ہے تو کم از کم میرے نام نہاد آزاد حصے پر تو میری آزادی کا احترام کرو۔ اس سے شائد مجھے اتنا فائدہ نہ ہومگر آپ جگ ہنسائی سے بچ جاؤ گے۔ طوالت سے بچنے کے لئے دو چار مختصر سی باتیں سامنے لانا چاہتا ہوں۔

اول، جس آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مودی حکومت نے جو کام اب کیا ہے، گلگت بلتستان میں یہی کچھ میرے باشندوں کے ساتھ بھٹو حکومت نے 45 سال پہلے کر دیا تھا۔ مودی نے لداخ کے ساتھ جو اب کیا ہے، وہی کچھ گلگت بلتستان کے ساتھ آپ کی حکومت نے بہتر سال پہلے ہی کر دیا تھا۔

دوم، میرے باشندے اس بات پر بھی ہنستے ہیں کہ سری نگر میں مانگو تو آزادی، مظفر آباد میں مانگو تو غداری۔ میری آزادی کی بات کرنے والے آزاد کشمیر کی مجلس قانون ساز کا انتخاب بھی نہیں لڑ سکتے۔

آخر میں آپ کی توجہ فیاض الحسن چوہان کی اس ویڈیو کی جانب دلوانا چاہوں گا جس میں موصوف وزیر اعظم فاروق حیدر کو ان کی اوقات یاد دلا رہے ہیں۔ چوہان صاحب اس ویڈیو میں درست طور پر فرما رہے ہیں کہ میرے آزاد حصے کے وزیر اعظم کی اوقات یہ ہوتی ہے کہ اسے ایک صوبیدار میجر کان سے پکڑ کر اقتدار سے باہر نکال سکتا ہے۔ آپ کی دلچسپی اور یاداشت کی تازگی کے لئے یہ لنک بھی ارسال کر رہا ہوں:

https://www.youtube.com/watch?v=TEnEXdDj53w

حضور اگر میرے وزرا اعظموں کو صوبیدار میجر حضرات نے کان سے پکڑ کر نکالنا ہے تو کیوں اپنا جمعہ خراب کرتے ہو؟

مخلص۔

ریاست ِجموں کشمیر

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔