فن و ثقافت

ساقی فاروقی اور شاہ دولہ کے چوہے! اکیسویں صدی کا داستان گو شاعر

قیصرعباس

وہ کبھی کہانی کارہے، کبھی لفظوں کامصورہے اور کبھی میلو ڈرامیٹک فنکار۔ مگر وہ جوکچھ بھی ہے بہر صورت ایک ماہر داستان گو ہے۔ اور ایک بات تو یقینی ہے کہ وہ بیسویں صدی کو پھلانگ کر اکیسویں صدی کے طلسماتی، برقیاتی اور ہنگامی دورمیں داخل ہوچکاہے جب کہ اس کے ہم عصر ابھی تک اٹھارویں صدی کے اردگرد ہی گھوم رہے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ اردو کے شعرا حضرات وقت کی سوئی کو اس طرح تھامے کھڑے ہیں کہ نہ یہ آگے جاتی ہے نہ پیچھے۔ اس میں ان بے چارے غزل خوانوں کا قصور بھی کیا کہ وہ ابھی ردیف قافیے کے تانوں بانوں اور عروض کے سحر سے باہر ہی نہیں نکلے۔ جب کبھی ان کی ندرت ِخیال اپنے محلے سے باہر جاتی بھی ہے تو اڑوس پڑوس کے کوچہ جاناں کا طواف کرکے واپس آجاتی ہے۔

مگر ساقی فاروقی (1936-2018ء) وقت کی اس سوئی کو بہت آگے لے جانا چاہتاہے۔ ساقی اردو ادب کا وہ نظم گوشاعرہے جس نے شاعری کوجدیدیت سے نکال کر مابعدجدیدیت کے روبرو لاکھڑا کیاہے۔ وہ ایک مکمل داستان گوکی حیثیت سے اردو شاعری کی قدیم صنف مثنوی کی روائتوں کا علم بردار ہے مگر آج بھاگم بھاگی کے اس دور میں اس نے مثنوی کو ایک نیا روپ دیا ہے جس کی جگہ مختصرافسانہ نگاری اور منظوم کہانی کے درمیان کہیں ہے جو داستان گوئی کے تمام لوازمات کے ساتھ موجود ہے۔

آئیے ساقی کی شاعری کے تذکرے سے پیشتر اس دور کی خصوصیات کا جائزہ لیتے چلیں جس کا وہ نمائندہ ہے۔ موجودہ دور میں انسان قالین پر اڑتے اس شہزادے کی مانند ہے جو ایک خوبصورت شہزادی کے ساتھ پوری دنیا کا طواف کر لیتا ہے۔ اس کے جادوئی گولے میں پوری دنیا کی تصویریں صاف نظر آتی ہیں مگر وہ ہردم اس سامراجی دیو سے خوف زدہ بھی ہے جس کے ہاتھ کی ایک جنبش پوری دنیا کو لمحوں میں بھسم کرسکتی ہے۔ یہاں انسان دوسرے انسانوں سے کم بات کرتاہے اور جادوئی مشینوں سے زیادہ۔ اس کا اعتبا رطلسماتی گولے کی چلتی پھرتی اور رنگین تصویروں پر بہت ہے اور اپنے جیسے انسانوں پر بہت کم۔

مابعد جدیدیت کے اس دور کے مسائل بھی گزشتہ ادوار سے مختلف ہیں۔ عالمی شعور، ماحولیات کا تحفظ، انٹرنیٹ اور ٹی وی کی کھوکھلی حقیقتوں سے انحراف، خواتین کی سماجی حیثیت، اقلیتوں اور معاشرے کے پسے ہوئے افرادکے استحصال کی نفی، مشینی اور اقتصادی سامراج اور ریاستی جبر کے خلاف احتجاج، ثقافت اور زبان کے نئے گوشے اور انفارمیشن زدہ معاشرے کی حالت ِزار‘یہی سب اکیسویں صدی میں ادب کے موضوعات ہیں اور یہی مابعدجدیدیت یا پوسٹ ماڈرنزم کی مخصوص نشانیاں ہیں۔

ساقی بھی اس نئے عہد کا داستان گو ہے جو اپنے قاری کو نت نئی ڈرامائی کہانیاں سنانے میں مصروف ہے۔ وہ نظم گوئی میں میراجی، نون میم راشد، ستیہ پال آننداور گلزارکا ہم رکاب ہے۔ اس دور کے جلتے ہوئے مسائل اس کی بیشتر نظموں کا عنوان ہیں۔ وہ جوہری تابکاری سے خوفزدہ سا رہتاہے اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے مغموم ہے۔ کبھی مشینیں اس سے کہتی ہیں کہ”اس عہد کا آدمی میری گرفتاری میں ہے“ اورکبھی وہ”پام کے پیڑ سے گفتگو“ کرتے ہوئے کہتاہے:

ذرا پنکھے ہلادو
مجھے اپنے دامن کی ٹھنڈی ہوادو
بہت تھک گیا ہوں

ساقی اپنے ماحول پر ہونے والے انسانی جبر کے خلاف ہے اور جب وہ آدمی کو اپنے ماحول کا قاتل ثابت کرناچاہتا ہے تو ایک من گھڑت کہانی ”شیر امداد علی کا مینڈک“ تشکیل دیتاہے۔ اس ڈرامائی کہانی کے اختتام پر تالاب کے تمام مینڈک ا مداد علی کا گھیراؤ کئے ہوئے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس ننھے مینڈک کو واپس کرے جو تا لاب میں تیرتے ہوئے اس کے منہ میں داخل ہوگیاتھا:

شیر امداد علی پانی کی امانت غصب کئے
اپنے گھر میں زنجیر ہوئے بیٹھے ہیں
باہر پانی کھڑا ہے
اور پانی میں
پیپل کے پتوں کی طرح
سالے
خشمگیں آنکھوں والے
پیلے پیلے مینڈک
اپنا گھیرا ڈالے
پڑے ہوئے ہیں

ساقی کے لئے داستان گوئی ایک ذ ریعہ ہے اپنے مقصد کے حصول کا اور مقصد زندگی کے ان مسائل کی نشاندہی ہے جنہیں وہ اہم سمجھتا ہے۔ ان مسائل میں سب سے اہم ہے معاشرے کے ان کم نصیبوں اور مظلوموں پر ہونے والے ستم کے خلاف احتجاج جن پر ہماری نظر جاتی بھی ہے تو ہم رخ کسی اورجانب پھیرلیتے ہیں۔ ان مظلوموں کی صف میں کبھی کبڑے فقیر، کبھی شاہ دولہ کے چوہے اور کبھی عورت شامل ہوتی ہے۔

ہمارے عہد کاالمیہ یہ بھی ہے کہ عورت خواہ ترقی پذیر معاشرے میں ہو یا ترقی یافتہ وہ ہر جگہ مردکے استحصال کا شکاررہتی ہے۔ ساقی نے بھی اس مسئلے کوکئی طرح سے برتا ہے مگر ہر بار ایک نئے انداز میں، ایک نئی کہانی کے روپ میں۔ اس کی نظم ”شہناز بانو دختر شہباز حسین“ ایک ایسی لڑکی کی روداد ہے جواپنے باپ کی جنسی زیادتی کا شکارہے:

وہ غصے کی سرخ شال میں
طرح طرح کے اندیشوں میں گھری ہوئی
کسی بھڑکتے شعلے کی مانند
لرزرہی تھی
دھیان کے دھندلے بائسکوپ میں
رات کی خونیں تصویر یں متحر ک تھیں:
وہ دزدانہ کمرے میں آئے تھے
بتی اجال کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسی لہجے کی ایک اور نظم ”حمل سرا“ ایک مشرقی بیگم کی کہانی ہے جو ساری عمر نواب صاحب کی اولادوں کی پیدائش کاذریعہ بنی رہیں مگر کبھی ان کی شریک ِسفر نہ بن سکیں اور نہ کبھی اپنے بچوں کا قرب حاصل کرسکیں جنہیں ہوش سنبھالتے ہی ہوسٹل میں ڈال دیا گیاتھا:

ایک جنم تک
اندھی، گونگی بہری بن کے
اپنے ہی گھر میں بے دخل
بے قدری کے سخی حسن میں دفن رہیں
آج نئے آفاق مانگتی ہیں
دادی اماں طلاق مانگتی ہیں

لیکن ان دونوں کہانیوں کا انجام عورتوں کے ڈرامائی انتقام کی صورت میں سا منے آتا ہے۔ ایک اور نظم ’’نامحرم“ بھی ایک ایسے جسمانی قرب کی داستان ہے جہاں مرد کے بستر پر کوئی اور ہے اور دھیان کی گلیوں میں کوئی اور:

اور بے حسی کی اوس
میری خواہشات پر
بے تہی کے وار سے
میں لہولہان تھا
بے دلی کے تار سے
روح تھی بندھی ہوئی
میں تو اپنے دھیان کے
ملگجے غبار میں
دوسرے کے ساتھ تھا

ساقی کی داستانیں کبھی آ پ بیتی ہوتی ہیں اور کبھی جگ بیتی۔ ایک نظم ”الکبڑے“ ایسی جگ بیتی ہے جس میں باپ اپنی ہی اولاد کو محتاجی کا روپ دے کر اسے خاندانی پیشے کا ایک”کار آمد حصہ“ بناد یتا ہے:

اس پس منظر میں
باپ کی مستقل اندیشی نے
تین برس کی
لنج منج سی
چیز کے دونوں ہات
چٹ چٹ توڑ کے
ایک ایک کہنی اور بنادی تھی
چاردانگ میں شہرت پھیل گئی
”پردا۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ پردا
چار کہنیوں والے
رام چرن الکبڑے آتے ہیں“

فاروقی کی ایک اور نظم ”شاہ دولہ کا چوہا“ ان معصوموں کی کہانی ہے جنہیں بیچنے کے لئے معاشرے کے پیر اور سجادہ نشین اپاہج بنادیتے ہیں۔ شاعر یہ داستان ایک ایسے فقیر کی زبانی سنارہا ہے جو اپنے پیشے سے تھک ہارکرایک اپاہج لڑکا خریدنے خانقاہ کا رخ کرتاہے:

پانچ ہزار کی پوٹلی
خشخی داڑھی والے
سجادہ نشین کے حوالے کردی تھی

نظم کا آخری بند کہانی کوایک ڈرامائی موڑدے کر اس کے کلائمکس پر اس طرح ختم کرتاہے کہ قاری چونک اٹھتاہے:

دیدوں پر پٹی ہے
ہونٹوں پرٹانکے ہیں
گردن میں پٹا ہے
پٹے میں چمڑے کا
چوڑا سا تسمہ پڑا ہے۔ ۔ ۔
رضاکارچوہے نے
بلے کو میرے حوالے کیا۔ ۔ ۔
اورچپ چاپ آگے روانہ ہوا
اس کی جلتی ہوئی منتقم آنکھوں میں
صدیوں کے سوگ
جگر جگر مسکرارہے تھے

ان دو نظموں کی وساطت سے ساقی معاشرے کے اس ظلم کی نقاب کشائی کررہاہے جسے ہماری بے حسی‘ صدیوں سے نظرانداز کرتی چلی آرہی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بے زبان بچوں کے ساتھ جبر کی یہ ایک انتہائی گھناؤنی صورت ہے۔

داستان گوئی کا فن کئی اجزاسے مل کر تشکیل پاتاہے۔ ایک تاثرکن کہانی کا پلاٹ، کردارنگاری، منظر نگاری، کلائمکس اور کہانی کا غیر متوقع اختتام۔ اس کے علاوہ ہر داستان گوکا اپنا منفرد انداز ہوتاہے جس کے جادوسے سامع، قاری یا ناظر کا نکلنا مشکل
ہوتاہے۔ ساقی داستان گوئی کے ان تمام مراحل سے بخوبی واقف ہے اور ان کوبرتنا جانتا بھی ہے۔

ساقی کو یہ کہنے میں ہرگز عارنہیں کہ اس کی شاعری کا ماخذ انگریزی ادب ہے اور وہ ازرا پاؤنڈ کی منظرنگاری سے بہت قریب ہے۔ مگر اپنی نظموں میں منظر نگاری وہ اس قدر فنکاری سے انجام دیتا ہے کہ پڑھنے والا اس منظر کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔

ساقی اپنے کلام کے لئے ایسے موضوعات پر قلم اٹھاتا ہے جوہمارے سماج میں شجرِ ممنوعہ ہیں اور ہمیں ان کے ذکر سے شرم آتی ہے یا خوف آتاہے لیکن وہ ان سب موضوعات پر آواز اٹھانا اپنافرض سمجھتا ہے۔ پوشیدہ جنسی رویوں سے لے کر معصوم بچوں کے استحصال تک سماج کا کوئی پہلوساقی کے لئے باعث شرم اور غیر اہم نہیں ہے۔ شاید اسی لئے اس نے اپنی نظموں کے آخری مجموعے ”شاہ دولہ کا چوہا اور دوسری نظمیں“ کے دیباچہ میں کہاتھا:

”میں اپنی ناکامی یا کامیابی کی بات نہیں کروں گامگر میری کوشش رہی ہے کہ دوسرے نظم نگاروں سے ذرا مختلف چلوں۔ احساس، خیال اور الفا ظ کے کلیشوں سے جنگ کرتا رہوں اور صرف اپنے اندر کی موسیقی اور اپنی ذات کے اسلوب میں لکھوں۔“

ایسا لگتا ہے کہ ساقی فاروقی زندگی کا طویل سفر طے کرنے کی تگ ودو میں خود دو حصوں میں بٹ چکاہے۔ ایک طرف وہ کراچی کا ایک لاابالی نوجوان ہے جو اردوبولتاہے اور لکھتا ہے اور دوسری جانب وہ لندن کا باسی ہے جو انگریزی پڑھتاہے اور سوچتاہے۔ اس نے اپنے اندر کے ان دونوں آدھے آدمیوں کو اپنی شاعری میں یکجا کرکے خود کو مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی شاعری کے مسائل اس کے اپنے معاشرے کے ہیں لیکن لہجہ خاصا مغربی ہے۔

دو مختلف تہذیبی روائتوں کی اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش میں کبھی کبھی یوں لگتاہے کہ شایداردو ادب ساقی کی شاعری سے بہت پیچھے ہے یا وہ خود اس سے بہت آگے نکل آیا ہے۔ ساقی اس لمبی خلیج کوکم کرنے میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ خود کیجئے مگر آخرمیں اس کا یہ شعربھی سن لیجئے کہ وہ آپ سے خیر کی کوئی امید نہیں رکھتا!

اے ہو ا ئے خوش خبر ا ب نوید سنگ د ے
میری جیب وآ ستیں میرے ہی خوں سے رنگ دے

کتابیات

1۔ ساقی فاروقی ”شاہ دولہ کا چوہا اور دوسری نظمیں “ اکادمی بازیافت، 2008ء۔

2۔ ساقی فاروقی ”آ پ بیتی، پاپ بیتی“ (پہلی قسط) سہ ماہی زاویہ، جلد 9، شمارہ 8، 2010ء۔

3۔ ذکاالدین شاہاں ”جدید اردو نظموں میں علامتوں کا استعمال“ ماہنامہ اوراق، شمارہ 5,6، مئی، جون 1983ء۔

4۔ شاہد کمال ”پاکستانی شاعری کے رجحانات“ سہ ماہی ادب ساز، جلد 3، شمارہ 6-7 نیو دہلی، 2008ء۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔