خبریں/تبصرے

ہندو طالبان اور قبائلی مجاہدین کا ’کشمیری لڑکیوں‘ پر اتفاق رائے

لاہور (آن لائن رپورٹ)بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لعل کھٹر کے اس بیان پر کشمیری، ترقی پسند اور فیمن اسٹ حلقوں کی جانب سے کافی اعتراض کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ”پہلے ہریانہ کے لوگ بہار سے لڑکیاں لاتے تھے، اب کشمیر سے بھی لا سکیں گے“۔

منوہر لعل کھٹر کا تعلق بی جے پی سے ہے اور انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز آر ایس ایس سے کیا تھا۔ بظاہر مندرجہ بالا بیان انہوں نے مذاق میں دیا تھا مگر اس مذاق سے مذہبی جنونیوں کی مردانہ شاونزم بالکل واضح تھی۔

بد قسمتی سے کشمیری لڑکیوں کے معاملے میں بی جے پی کے ہندو طالبان اور مطالعہ پاکستان نما سرکاری بیانئے میں گلوریفائی کئے جانے والے قبائلی مجاہدین جنہیں 1947ء میں اس طرف سے لانچ کیاگیاتھا (یہ پاکستان کی پہلی پراکسی وار بھی تھی)، ایک جیسے وچار رکھتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمیں بی بی سی کے صحافی اینڈریو وائٹ ہیڈ کی معروف کتاب ”مشن اِن کشمیر“ سے ملتا ہے۔

اینڈریو وائٹ ہیڈ کے مطابق ہندوستانی انتظامیہ نے کشمیر پر قبائلی یلغار کے دوران لاپتہ ہونے والے غیر مسلم بچوں اور عورتوں کی ایک فہرست مرتب کی تھی۔ البتہ مسلمان عورتوں کے حوالے سے ایسی کوئی فہرست نہیں بنائی گئی۔ 1400صفحات پر مشتمل اس فہرست میں 21000 اغوا اور لاپتہ ہونے والی عورتوں اور بچوں کے نام تھے۔ صرف مظفر آباد سے 1655عورتیں اور بچیاں اغوا ہوئیں۔

ان میں سے کچھ کا ذکر پاکستانی قارئین کے لئے دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔

کاکی، ایک پندرہ سالہ ہندو لڑکی تھی، جو پیر آف مانکی شریف کے حرم کی زینت بنی۔

جوگندر کور عرف گجو، عمر سات سال، تعلق مظفر آباد سے، مذہب سکھ۔ یہ معصوم بچی نواب آف سوات کے محل میں پہنچی۔ نواب صاحب نے اس کا نام بدل کر بانو رکھا۔

سوپور سے دو تیرہ سالہ سکھ لڑکیاں اغوا ہوئیں۔ دونوں ایبٹ آباد کے ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد شفیع کا مال غنیمت ثابت ہوئیں۔

بائیس سالہ اندر کور بارہ مولا سے اغوا ہوئی۔ اندر کور گڑھی حبیب اللہ (ایبٹ آباد ضلع) میں محمد اسلم خان کے گھر پہنچی۔