سوچ بچار

فیض کے پورٹریٹ پر البرٹ الباکستانی پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟

فاروق سلہریا

مین اسٹریم میڈیا کے کچھ حصوں سمیت سوشل میڈیا اکادمی ادبیات کی عمارت سے مرزا غالب اور فیض احمد فیض کے پورٹریٹ ہٹائے جانے پر نالاں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس افسوسناک حرکت کا حکم سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے سیکرٹری ندیم شفیق ملک نے دیا ہے۔

ممکن ہے بہت سارے لوگ مرزا غالب اور فیض صاحب سے محبت کی وجہ سے اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہوں لیکن محض ان دو عظیم شعرا اور دانشوروں سے محبت و ادبی عقیدت کی وجہ سے یہ اقدام قابلِ مذمت نہیں۔

ان دو شعرا کے پورٹریٹ کا لگایا جانا یا ہٹایا جانا ایک سیاسی عمل ہے۔ غالب اور فیض کے پورٹریٹ لگائے جانے یا ہٹائے جانے سے ان دونوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ ہمارے لئے اور ہماری آئندہ نسلوں کے لئے ان شعرا کی یاد کو برقرا ر رکھنا یا مٹا دیا جانا اہم ہے کیونکہ: بات پورٹریٹ کی نہیں یاد اور یاداشت کی ہے۔ یاد رہے یاداشت (Memory) ایک سیاسی پراجیکٹ، ایک نظریاتی ہتھیار،پراپیگنڈہ کا ایک اوزار اور حکمران طبقے کی لونڈی ہوتی ہے۔

ایسا بلا وجہ نہیں کہ ہر ریاست تاریخ کے کچھ کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہے اور کچھ کو ’ملکی تاریخ‘سے بھلا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لیجئے۔ مطالعہ پاکستان چوہدری رحمت علی کے ذکر سے تو بھرا ہوا ہے مگر سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ اور باچہ خان کا ذکر نہیں ملتا۔ باچہ خان کی مثال تو اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ 2008ء میں جب صوبہ خیبر پختونخواہ میں اے این پی کی حکومت بنی تو پرائمری اسکول کے نصاب میں باچہ خان اور نیلسن منڈیلا ایسی عدم تشدد کا پرچار کرنے والی شخصیا ت پر ابواب شامل کئے گئے۔

2013 ء میں جب تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی (ویسے تحریک انصاف بھی کلین شیو جماعت اسلامی ہی ہے) کی مخلوط حکومت بنی تو ایسے تمام ابواب نصاب سے خارج کر دئیے گئے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو مرزا غالب اور فیض صاحب کے پورٹریٹ کا ہٹایا جانا نہ تو کوئی نئی بات ہے (کہ بھٹو دور کے علاوہ نصابی کتب میں عموماً منٹو اور فیض غائب ہی رہے) نہ ہی انہونی۔

سچ تو یہ ہے کہ فیض صاحب تمام عمر دائیں بازو کے ساتھ اس موضوع پر مناظرہ کرتے رہے۔ نسیم حجازی، نوائے وقت، حسن عسکری، رائٹرز گلڈ وغیرہ کلچر کو مذہب تک محدود کر دینا چاہتے تھے۔ ضیا آمریت نے یہی کام سرکاری اور ریاستی سطح پر سر انجام دیا۔ فیض صاحب ثقافت کو مذہب تک محدود کر دینے کے سخت خلاف تھے کیونکہ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جمہوریت اور سوشلزم بھی ’کفر‘ قرار پاتے ہیں۔ اسے اتفاق تو قرار نہیں دیا جا سکتا (کیونکہ یہ فیض صاحب کی دانشوارانہ برتری کا ثبوت ہے) کہ نسیم حجازی مکتبہ فکر سرکاری سر پرستی کے باوجود پاکستانی عوام کے ذہن سے بلھے شاہ، ہیر وارث شاہ، غالب، منٹو، جالب، دامن، شیخ ایاز، غنی خان، گل نصیر اور سب سے بڑھ کر فیض صاحب کی یاد نہیں مٹا سکا۔ اس لئے بات فیض یا غالب کے پورٹریٹ کی نہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں؟

ہم جس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں اس کی ترجمانی فیض نے کی ہے۔ اسے کیا کہا جائے کہ جماعت اسلامی کو بھی اپنے پوسٹرز پر فیض احمد فیض کے شعر لکھنے پڑتے ہیں۔ ایک طرف جماعت اسلامی کے رفیقان، قوم ِیوتھ اور الباکستانی حضرات کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ فیض’اشتراکی کافر‘ تھا، دوسرہ جانب فیض کے شعر بھی پوسٹروں پر لکھنے پڑتے ہیں۔ ہمارے البرٹ الباکستانی پنٹوز کو غصہ تو آئے گا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔