سوچ بچار

طلبہ و طالبات میں 6 انچ فاصلہ کروانے پر بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر کو کھلا خط

فاروق سلہریا

وائس ایڈمرل (ر)محمد شفیق صاحب!
سیلوٹِ عاجزانہ۔

آپ کی مقدس جامعہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ کچھ سال پہلے آپ کے ہاں قانون بنا تھا کہ طلبہ و طالبات کے مابین کم از کم چھ انچ کا فاصلہ ہونا چاہئے۔ مجھے آج تک چھ انچ والے فلسفے کی سمجھ نہیں آئی۔ ساڑھے چھ انچ یا پورا ایک فٹ کیوں نہیں؟

پچھلے سال پتہ چلا کہ آپ کے ہاں  کیفے وغیرہ میں طلبہ و طالبات کے ایک ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اتفاق سے ان دنوں میرا بھتیجا آپ کے ہاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہا تھا۔ کہنے لگا کہ اگر یونیورسٹی کو مذہب کا اتنا خیال ہے تو لڑکیوں کے لئے علیحدہ کیمپس کیوں نہیں بنا دیا جاتا؟ نوجوانوں کو کون سمجھائے کہ نیا کیمپس بنانے پر پیسہ خرچ ہوتا ہے اور پاکستانی سرمایہ دار‘(کتنے ہی بڑے غازی کیوں نہ ہوں)مذہب ہو یا ملک، دونوں سے اُسی وقت تک محبت کرتے ہیں جب تک منافع برقرار رہے۔

سرمایہ داروں پر تو چلیں بعد میں بات کریں گے فی الحال بات کرتے ہیں اس ثقافتی طالبانائزیشن کی جو آپ کی یونیورسٹی نے شروع کر رکھی ہے۔ بات کا آغاز اپنے ذاتی تجربے سے کرتا ہوں۔

میں نے پنجاب یونیورسٹی سے نوے کی دہائی میں شعبہ ابلاغیات سے ایم اے کیا۔ ہمارے ہاں بھی جمعیت کے ثقافتی غنڈے اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ چھ انچ بلکہ چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں پسلیاں اور ہڈیاں ٹوٹنے کے علاوہ پیٹھ پر گرم استریاں محسوس کرنے کا تجربہ بھی ہو سکتا تھا۔ ہوتا تھا۔ چند گھونسے اور تھپڑ تو معمول کی بات تھی۔

یقین کریں نہ صرف جنسِ مخالف ایک دوسرے سے دور رہے بلکہ دونوں اجناس علم سے بھی اتنے ہی دور رہے جتنا وہ ایک دوسرے سے دور تھے۔ مجھے ایم اے کرنے کے بعد پتہ چلا کہ نوم چامسکی نام کا بھی کوئی سکالر ہے جس نے میڈیا پر”مینو فیکچرنگ کونسینٹ“ جیسی کتاب لکھ رکھی ہے جو دنیا بھر میں میڈیا کے انڈر گریڈ طلبہ بھی پڑھ چکے ہوتے ہیں۔

ہمیں ایم اے صحافت میں مطالعہ پاکستان، اسلامیات، اسلامی صحافت، اسلامی معاشیات اور اسلامی ممالک سے تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز کے نام پر) پڑھائے جا رہے تھے۔

میں جب ایم اے کر رہا تھا تو کل وقتی فیکلٹی میں ڈاکٹر مہدی حسن کے علاوہ سب لوگ یا تو جمعیت کے سابق ارکان تھے یا دائیں بازو کے کٹر حامی۔ ایک امریکہ پلٹ محترم تو اپنے زمانہ طالب علمی میں اسی شعبہ ابلاغیات میں جمعیت کے ناظم رہ چکے تھے۔ یہ بات ہے ستر کی دہائی کی۔ موصوف نے شعبہ ابلاغیات کی لائبریری میں موجود ایسی تمام کتابوں کو آگ لگوا دی جن کے بارے میں انہیں شبہ تھا کہ متعلقہ کتابیں مارکسزم کے بارے میں ہیں۔ یقین کریں ان محترم اساتذہ نے اسلام کے بارے میں سب کچھ پڑھایا مگر مجال ہے میڈیا یا صحافت کے بارے میں ایک لفظ بھی ان سے سیکھا ہو۔

پھر یوں ہوا کہ دس سال پہلے میں نے لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز (سواس)کے ایک میڈیا پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ پہلی ٹرم میں میرا سر گھوم گیا۔ اتفاق سے پہلے ہی دن، پہلے ہی لیکچر کا آغاز ہماری استاد پروفیسر انابیل سریبنی نے ”کیمونسٹ مینی فیسٹو“ کے ایک طویل اقتباس سے کیا۔ اس لئے نہیں کہ وہ مارکسسٹ ہیں یا تھیں۔ اس لئے کہ”کیمونسٹ مینی فیسٹو“کے بغیر گلوبل میڈیا کو سمجھنا ممکن نہیں تھا اور پروفیسر انا بیل سریبنی ہمیں گلوبلائزیشن اور میڈیا کا کورس پڑھا رہی تھیں۔ سچ پوچھیں تو وہ کافی اینٹی مارکسٹ تھیں۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی ان کی ضد میں یہ ثابت کر نے کے لئے کی کہ مارکسزم کی میڈیا سامراجیت بارے تھیوری آج بھی درست ہے۔ خیر، میرا سر ”کیمونسٹ مینی فیسٹو“ کی وجہ سے نہیں گھوما۔

میں پاکستانی بائیں بازو کا پرانا کارکن ہوں۔ ”مینی فیسٹو“ میں نے پڑھ رکھا تھا۔ میں تو ان دانشوارانہ مباحث، عالمانہ تحقیق اور ”اسینشل ریڈنگز“ کے ہاتھوں پریشان تھا جو میرے بہت سارے ہم جماعتوں کے لئے جانی پہچانی تھیں مگر میں نے ایسی باتیں پنجاب یونیورسٹی میں نہ کبھی سنیں نہ پڑھیں۔ میرے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔ اگر میں پاکستان سے کچھ سیکھ کر گیا ہوتا تو یقینا میرے ایم اے کے گریڈز بہتر ہوتے اور سواس میں اپنا وقت میں زیادہ بہتر انداز میں گزارتا۔ اگلی بات کرنے سے پہلے وارننگ دیتا چلوں کہ ذرا دل تھام کے رکھیے گا۔

کمرہ جماعت کے علاوہ معلوم ہے میں اور میرے ہم جماعت مارکس اور مشال فوکوپر بحث کہاں کرتے؟ عمو ماً ”جونیئر کامن روم“ میں۔ ایک چمکتی دمکتی بار اس کامن روم کا حصہ ہے۔ شام چار بجے سے رات گئے تک، اساتذہ بھی، پی ایچ ڈی اسکالرز بھی اور طلبہ بھی یہاں جمع رہتے ہیں۔ جو کو ئی بیئریا وہسکی پینا چاہے، پئے۔ جس کو چائے، کافی یا کولڈ ڈرنک کی طلب ہے، وہ اپنی مرضی سے اپنے عقیدے اور ذوق کے مطابق اپنا مشروب خرید سکتا ہے۔

ایک چانوی سی بات: سواس یا برطانیہ کی دیگر مشہور یونیورسٹیوں کے طلبہ اکثر اپنی یونیورسٹی پر بہت اتراتے ہیں۔ مجھے سواس میں پڑھنے پر کوئی فخر نہیں۔ برطانیہ ہو یا ا مریکہ، کسی نام نہاد مشہور مگر کمرشل یونیورسٹی میں پڑھنا ایک عیاشی (Privilege) کی بات ہے نہ کہ فخر کی۔

سواس میں‘میں نے آٹھ سال گزارے۔ ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی بھی کی اور وہاں کام بھی کیا۔ لندن کے ان آٹھ سالوں میں بہت سی دیگر یونیورسٹیوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ آکسفورڈ جہاں سے ہمارے موجودہ اسلامی وزیر اعظم اور بابائے قوم بھی پڑھ کر آئے اور کیمبرج سمیت ہر یونیورسٹی میں ایک بار ضرور موجود تھی۔ میں کوئی بات دعویٰ سے تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے بہت زیاد ہ یونیورسٹیاں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا مگر مجھے یوں لگا کہ برطانیہ میں بار اور پب یونیورسٹی لائف کا حصہ ہیں۔

کمرہ جماعت سے لے کر ان باروں اور پبوں تک، نہ چھ انچ کا فاصلہ رکھا جاتا ہے نہ کسی کے عبایا اور اسکرٹ پر بات کی جاتی ہے۔ طلبہ علمی بحثوں میں مگن دکھائی دیں گے۔ فیکلٹی کے ارکان فخریہ انداز میں اپنی نئی ریسرچ پر جوش و خروش سے بات کرتے دکھائی دیں گے۔ اگر آپ کی سی وی میں انٹر نیشنل معیار کے جرنل میں شائع تحقیقی مقالہ جات اور ایک آدھ ایسی اکیڈیمک کتاب نہ ہو جسے کسی عالمی اکیڈیمک پبلشرنے شائع کیا ہو، آپ یونیورسٹی میں ٹیچنگ جاب کے لئے شارٹ لسٹ تک نہیں ہوتے۔ رہی یہ بات کہ چھ انچ کا فاصلہ تھا یا نہیں اس کا خیال متعلقہ خاتون خود رکھ لیتی ہے۔

یقین کیجئے کسی کی جرات نہیں ہو سکتی کہ چھ انچ کی خلاف ورزی کرے کیونکہ مغرب میں عورت کو حقوق حاصل ہیں۔ عورتوں کو حقوق دیدیں، ان کو خود مختار کر دیں، چھ انچ کا فیصلہ وہ خود کر لیں گی۔

آپ کو یہ سب بتانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آپ نے ساری زندگی ہماری بحری سرحدوں کی حفاظت میں گزار دی جہاں آپ نے شاید ایک یہی سبق سیکھا کہ بحری حدود کی حفاظت کے لئے نظریاتی حدود کی حفاظت ضروری ہے لیکن معاف کیجئے گا نظریاتی حدود کی حفاظت تجارتی بنیادوں پر، چھ چھ انچ کی فرضی دیواریں کھینچ کر نہیں کی جا سکتی۔

ایڈورڈ سعید کے بقول یونیورسٹی وہ جگہ ہے جہاں ہم دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید بالکل درست کہتے ہیں۔ دنیا کو سمجھنے کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے؟ تحقیق، تنقید اور بحث۔ یونیورسٹی ڈگریاں بیچنے کا نام نہیں۔ یونیورسٹی کی پہچان ہے کہ اس کے ہاں کیا ریسرچ ہو رہی ہے، اس کے فیکلٹی ممبرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی کتنی مطبوعات ہیں اور ان کی مطبوعات کو عالمی سطح پر کتنی’Citations ‘مل رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ آپ بتا سکتے ہیں ان تمام شعبوں میں آپ کی بحریہ یونیورسٹی یا پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی جہاں چھ انچ کا خیال رکھا جاتا ہے، کہاں کھڑی ہے؟ آپ کے کسی طالب علم، فیکلٹی ممبر یا ریسرچر (اگر کوئی ہے) کو کوئی نوبل انعام ملا ہو؟ کسی کی مطبوعات مغرب کی یونیورسٹیوں میں سلیبس کا حصہ ہوں؟ اب ڈاکٹر عبدالسلام کا نام مت لینا شروع کر دیجئے گا۔ اتفاق سے دو چار پاکستانی اکیڈیمکس جن کو عالمی پذیرائی حاصل ہے، سب ان یونیورسٹیوں سے مستفید ہوئے جہاں چھ انچ کا خیال نہیں رکھا جاتا مگر ریسرچ، کونسیپٹس، مطبوعات اور تھیوری کو اہمیت دی جاتی ہے۔

میں نے آپ کی ویب سائٹ دیکھی۔ معلوم ہوا جامعہ بحریہ سات جرنل شائع کرتی ہے۔ چھ کا تعلق میرے شعبے سے نہ تھا۔ وہ سائنس، بزنس اور میریٹائم بارے تھے، لہٰذا میں ان کی کوالٹی بارے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر سوشل سائنسز بارے، جو میرا شعبہ ہے، آپ کا جریدہ ہر گز بھی یہ گواہی نہیں دیتا کہ آپ کے ہاں مہیا کیا جانے والا ”اسلامی“ ماحول ریسرچ کے لئے بہت ساز گار ہے۔ شاید جلدی میں مجھے نظر نہ آیا ہو مگر اس جریدے کا امپیکٹ فیکٹر مجھے پتہ نہیں چلا۔ کبھی فاصلوں کا تعین کرنے سے وقت ملے تو ان جریدوں کے تحقیقی معیار پر بھی غور کیجئے گا۔

ویب سائٹ پر سب سے نمایاں ہماری بہادر بحریہ کے افسران کی تصاویر تھیں۔ میرا خیال تھا فیکلٹی ممبرز کی کتابوں، ریسرچ پیپرز اور اکیڈیمک کانفرنسز کے بارے میں کچھ جان کاری حاصل کروں گا۔ اتفاق سے ایک گیارہ منٹ کی یو ٹیوب ڈاکومنٹری موجود تھی۔ میں نے بحریہ یونیورسٹی کی مارکیٹنگ کے لئے بنائی گئی اس ڈاکومنٹری کو اول سے آخر تک دیکھا۔ دو باتیں دیکھ کر بہت ہنسی آئی۔ ایک تو یہ کہ اس ڈاکومنٹری میں چھ انچ کا فاصلہ رکھنے پر زور نہیں دیا گیا بلکہ کیفے، کلاس روم، لائبریری، لیبارٹری اورہر جگہ طلبہ و طالبات آزادانہ مل جل رہے ہیں۔ بقول سہیل وڑایچ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

دوسری بات: آپ کے ہاں جِم کی موجودگی کا ذکر تو اس ڈاکومنٹری میں ملتا ہے مگر لائبریری بارے کوئی معلومات نہیں کہ وہاں کتنے لاکھ کتابیں اور کتنی بڑی آرکائیوز ہیں۔

ویسے یہ چھ انچ والی پابندی صرف طلبہ کے لئے ہے یا فیکلٹی ممبرز پر بھی ہے؟آخر انسان کسی بھی عمر میں بہک سکتا ہے۔ اور ہاں! ان طلبہ کے لئے کیا حکم ہے جو آپ کے ہاں علم کی روشنی سے منور ہو کر مغرب کی دانش گاہوں میں وقت ضائع کرنے جاتے ہیں، کیا ان کو وہاں بھی چھ انچ کے قانون کی پابندی سکھائیں گے؟ پھر بہت سی خواتین ہیں جو آپ کی پوتر تربیت کے بعد پاکستان میں بھی ایسے شعبوں میں جا رہی ہیں جہاں چھ انچ کا اصول لاگو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ویسے کبھی سوچا اگر یہ ا صول پورے معاشرے پر لاگو کر دیا جائے تو پاکستان بھوکا مر جائے۔ میرا تعلق گاؤں سے ہے۔ ہمارے ہاں اگر عورت اور مرد کھیتوں میں ایک ساتھ کام نہ کریں تو آپ جیسے متقی و پرہیز گاروں سمیت میرے جیسے نام نہاد پی ایچ ڈی دو دن بھی اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ کبھی وقت ملا تو اپنے ائیر کنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر سوچئے گا۔ سوچنا اچھی بات ہے خاص کر اگر انسان اکیڈیمک شعبے میں آ جائے تو اسے سوچنے جیسا قبیح کام ضرور کرنا چاہیے۔

 مخلص۔
فاروق سلہریا

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔