ماحولیات

ماحولیاتی بحران: 50 سال میں امریکہ اور کینیڈا سے 3 ارب پرندے غائب

عدنان فاروق

1970 ء سے اب تک امریکہ اور کینیڈا میں 3 ارب پرندے غائب ہو گئے ہیں۔ ان دو ملکوں میں پرندوں کی آبادی میں تقریباً50 سال کے اندر 29 فیصد کمی آ گئی ہے۔

یہ انکشاف ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر کین روزنبرگ اور جارج ٹاوں یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر مارا نے مشترکہ طور پر مرتب کی ہے۔

یاد رہے کہ پرندے ایک صحت مند ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کی نشانی ہوتے ہیں۔ ان کی کم ہوتی ہوئی تعداد اس بات کا واضح اشارہ ہوتی ہے کہ ماحول تباہی کا شکار ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے پروفیسر زکا دعویٰ ہے کہ پرندوں کی کم ہوتی تعداد دُو باتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک یہ کہ پرندوں کے مسکن (Habitat) تباہ ہو گئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ زراعت کے شعبے میں استعمال ہونے والی کیمیائی اشیا(دوائیاں اورکھادیں وغیرہ) ہیں۔

یاد رہے فی کس کی بنیاد پر امریکہ دنیا کے ماحول کو تباہ کرنے والا دنیا کا بد ترین ملک ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ امریکہ اور کینیڈا جہاں ماحول کو بچانے کے لئے کچھ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور لوگوں میں کسی حد تک ماحول کے بارے میں شعور بھی موجود ہے، اگر وہاں پر یہ حالات ہیں تو پاکستان اور اس جیسے تیسری دنیاکے ممالک میں کیا صورت حال ہو گی۔ یہاں تو ایسے اہم مسائل پر تحقیق ہی نہ ہونے کے برابر ہے البتہ ہم اپنے ذاتی مشاہدوں سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پرندے کتنی تیزی سے ہمارے ماحول سے غائب ہو رہے ہیں۔

ہمارے ہاں پاکستان میں تو یہ حالت ہے کہ رئیل اسٹیٹ مافیا لاہور کے تاریخی چڑیا گھر کو ختم کر کے وہاں پلازا تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ ادہر زرعی شعبے کا یہ حال ہے کہ کھیت زہر سے بھر گئے ہیں اور ہماری فصلیں خوراک کا کم اور کینسر کا زیادہ بڑا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔