دنیا

محکوموں کا جرم اور حاکموں کے اقبال جرم

عظمت آفریدی

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے حالیہ دورہ امریکہ، جس کو ”مشن کشمیر“ کانام دیاگیا، کے دوران نیویارک میں امریکی فارن پالیسی تھنک ٹینک ”کونسل آن فارن ریلیشنز“ (CFR) کے صدر رچرڈحس کو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ ”1980ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر دنیابھر سے جنگجوؤں کو جمع کیا جن کو آئی ایس آئی نے تربیت فراہم کی اور اس طرح ہم نے دہشت گردوں کو پیدا کیا، جہاد کومقدس او رجہادیوں کو ہیرو بنایا“۔

عمران خان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں اب بھی تیس سے چالیس ہزار تک وہ جنگجو موجود ہیں جن کو افغانستان اور کشمیر میں لڑنے کے لئے پیدا کیا گیاتھا۔

پہلے بھی، عمران خان نے اپنے گذشتہ امریکی دورے پر، ”یونائٹڈ سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس“ میں 23 جولائی 2019ء کو انٹرویودیتے ہوئے یہی کہا تھاکہ”ہم نے ان جہادی گروہوں کو پیدا کیا۔ ہماری فوج نے ان کی تربیت کی اور ان کو کہا کہ افغانستان میں لڑناجہاد ہے اور یہ ہر کسی کی مذہبی ذمہ داری ہے“۔

اس حالیہ انٹرویو میں عمران خان نے پچھلی حکومتوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے امریکہ سے یہ حقیقت 15 سال تک چھپائے رکھی۔

تاہم گذشتہ حکومتوں کے حوالے سے یہ الزام بے بنیاد ہے کیونکہ 6 اکتوبر 2016ء کو ڈان اخبار نے اس وقت کی نواز حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیلات شائع کی تھیں جس میں حکومت نے کہاتھا کہ یاتو دہشت گردوں کے خلاف دو ٹوک کاروائی کریں یا عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کریں۔

یہ خبر ڈان لیکس کے نام سے مشہور ہوئی اور کہاجاتا ہے کہ یہیں سے نواز شریف کا زوال شروع ہوا۔

نوازشریف کے نااہل ہونے کے بعد ڈان نے 12 مئی 2018ء کو نوازشریف کاایک انٹرویو شائع کیاجس میں انہوں نے کہا کہ ”پاکستان میں جہادی تنظیمیں اب بھی سرگرم ہیں۔ آپ انہیں نان سٹیٹ ایکٹرز بھی کہیں تو کیا ہمیں ان کویہ اجازت دینی چاہئے کہ وہ بارڈر کراس کریں اورممبئی میں 150 لوگ ماریں؟ مجھے یہ بتایاجائے۔ ہم ابھی تک ممبئی حملوں کے ٹرائل کیوں تکمیل تک نہ پہنچا سکے؟“

پاکستانی تاریخ ایسے ہی سول و ملٹری رہنماؤں کے متضاد بیانات کا ایک گورکھ دھندہ ہے۔ تاہم تاریخ کو بادشاہوں اورامراکے نقطہ نظر سے لکھنے والے یہ بالکل بھی نہیں لکھتے کہ حکمرانوں کی ان کرسی، طاقت اور مفادات کی جنگوں میں عام آدمی پہ کیا گزری، اس کا کس طرح استحصال کیا گیا۔ 1980ء میں ان حکمرانوں نے کہا تھا کہ ہم یہ سب کچھ قومی مفاد کیلئے کررہے ہیں جبکہ اب عمران خان بھی قومی مفاد کے خاطر ہی یہ”راز افشا“  کررہاہے۔ تاہم ان دو بیانات کے بیچ جوپالیسیز بنائی گئیں ان کی وجہ سے دو نسلیں تباہ کردی گئی ہیں۔

اب آیئے ذرا تاریخ کو سابقہ فاٹاکے پشتونوں کے تناظر سے دیکھتے ہیں جو براہِ راست اس سفاک عمل، جس کوعمران خان”سب سے بڑی غلطی“ کہہ رہے ہیں، میں برباد ہوگئے ہیں۔

عمران خان کا یہ بیان پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور فیصل آباد وغیرہ کے زیادہ تردوستوں کے لئے محض ایک عام سی بات ہو گی جبکہ پشتون قوم اور خصوصاًسابقہ فاٹا کے پشتونوں کے لئے یہ ایک ایسی بھیانک حقیقت ہے کہ جس کے بارے میں اگر تھوڑے سے بھی حساس انسان کو پتہ چل جائے تو وہ کانپ اٹھے۔

یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں ان کی تقریبا ًدو نسلوں کو برباد کیاگیا، نوعمرلڑکوں سے ان کے خواب چھین کر ان کوبندوق اور کمر بند پہنا کر جنگ پر روانہ کر کے بے شمار ماؤں، بہنوں اوردلہنوں کے کلیجوں کوچیردیا گیااور بچوں کو بارود اورہینڈگرنیڈ جیسے کھلونوں سے کھیلنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ پاکستان اور پوری دنیا میں بطور پشتون ہمارا امیج دہشتگرد کے طورپربنا۔ ہماری ثقافت، زبان اور تاریخ تباہ ہو گئے۔ اب تقریباً ہر گھر میں یتیم، بیوہ اور لینڈما ئنوں اورڈرون حملوں سے معذوربچے موجودہیں۔

اپنے ان تجربات کی روشنی میں جب پشتون وہی بات کہتے ہیں جو عمران خان کہہ رہا ہے تو ان پر غداری کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔ غداری اور حب الوطنی کی بحث میں پڑے بغیر راقم اس مضمون کی مدد سے صرف یہ نقطہ سامنے لانا چاہتا ہے کہ حکمرانوں کے تضادات کی قیمت بے بس شہریوں کو چکانی پڑتی ہے۔

Azmat Afridi

عظمت آفریدی نے پشاور یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا ہے۔ وہ سیاسیات، معاشیات، مذاہب اور تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔