طنز و مزاح

برق نامہ غالب

قیصرعباس

قیصرمیاں یہ لمبی داستان ہے کہ ہمارا برق نامہ یعنی ای میل آپ تک کیسے پہنچا مگر مختصراً بتائے دیتے ہیں۔ جب سے یہاں بہشت میں آ نا ہواہم بجھے بجھے سے رہتے تھے۔ شعر کہیں تو یاد کیسے رکھیں کہ نہ پہننے کو پاجامہ نہ گرہ لگانے کو کمربند۔ شراب طہورہ میں کہاں وہ مزہ جو ولائتی جانی واکر میں تھا۔ اور تو اور دودھ کی نہر سے بالٹیاں بھر لائیے مگر پینے کو چلو بھر پانی بھی ندارد۔ بھلا کوئی کہاں تک دودھ پئے کہ اب بچے تو رہے نہیں ہم۔ حوروں کا قصہ بھی کچھ اور نکلا… خیر پھر کبھی سنائیں گے۔

اسی پریشانی میں ایک دن امیرِ بہشت سے شکایت گزار ہوئے تو جواب ملا اچھا کچھ کرتے ہیں بندوبست آپ کا۔ دس پندرہ دن ہی ہوئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک فرشتہ خوش رو و خوش خصال ایک صندوق ہاتھ میں لئے دروازے پر کھڑا ہے اور کہتاہے کہ حضور آپ کی دل لگی کے اسباب لائے ہیں دروازہ تو کھولئے۔ اندر آئے اور ایک حیرت انگیز صندوق جسے آپ زمینی زبان میں کمپیوٹرکہتے ہیں ایسا کھولا کہ ہمارے دل و دماغ روشن ہوگئے۔ میاں یہ بھی عجب کرشماتی آ لہ ہے۔ اب رات دن خبریں سنتے ہیں، رقص کی محفلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، موسیقی میں مست رہتے ہیں اوریو ٹیوب پر مشاعرے دیکھتے ہیں۔ خدابھلا کرے اس فرشتہ نیک خو کا کہ جس نے فردوس نیٹ ورک کے ذریعے ہمیں نامہ ہائے برقی یعنی ای میل کے سارے گر بھی سکھادئے۔ بس یہ ہاتھ آیا کہ ہم نے آپ سے رابطہ قائم کرلیا۔ کمربند تو اب قصہ ئپارینہ ہوا، ا سی برقی تختی پر شعر لکھتے ہیں اور محفوظ کرلیتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

میاں آپ کے عہد اور ہمارے دور میں زمین آسمان کافرق ہے۔ اللہ اللہ کہاں وہ 1857ء کا ہنگامہ اور کہاں آپ کی اکیسویں صدی کے جلوے۔ اپنے زمانے میں اڑن کھٹولے کا نام سناتھا جس پر جن جادوئی کرامات سے ایک چنچل شہزادی کو یہاں سے وہاں پہنچادیاکرتے تھے مگر اب تو ہوائی گھوڑے پر سوار مرد و زن کا ایک جم غفیر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے جاپہنچتا ہے۔ ہم تو اپنی شاعری میں تیر و تفنگ ہی چلاتے رہے مگر کہاں اب خوفناک برقی تیر چلتے ہیں تو بستیوں کی بستیاں نیست و نابود کردیتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو بس ایک فرنگی سامراج تھا جس نے چند سو ہندی سپاہیوں کے بل بوتے پر پورے ہندوستان کو برسوں زیر نگیں رکھا۔ مگر سنتے ہیں اب تو آپ کی دنیا میں کئی قسم کے سامراج پائے جاتے ہیں جو ایک جنبش ِانگشت سے پوری دنیا کو بھسم کرسکتے ہیں اور سب سے بڑا سامراج جسے امریکہ کہتے ہیں، اب افغانوں کے سینے پربھی دندنا تا پھرتاہے۔ یا خدا! یہ تو وہ سرزمین تھی جہاں فرنگیوں کے بھی پر جلتے تھے۔

میاں کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ ان برق ناموں کے ذریعے آئندہ بھی تعلق خاطر رہے گا مگر خیال رہے، یہ نہ ہو جو پہلے دلی میں ہوچکاہے ہمارے ساتھ:

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
قسم کھائی ہے ا س کافر نے کاغذ کے جلانے کی

خوش رہو
اسداللہ خان غالب

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔