تاریخ

یاد رہ جاتی ہیں باتیں شہرت

اسلم ملک

کل اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر پروفیسر شہرت بخاری کی 18 ویں برسی تھی۔

شہرت بخاری کا اصل نام سید محمد انور تھا۔ 2 دسمبر 1925ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی میں امتیازی حیثیت سے ایم اے کیا۔ عملی زندگی کا آغاز مجلسِ زبانِ دفتری سے کیا پھر تدریس کی طرف آئے۔ اسلامیہ کالج لاہور کے صدر شعبہ اردو و فارسی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

شاعری میں پہلے نرگس تخلص تھا۔ احسان دانش سے تلمذ حاصل ہوا تو ان کے مشورے پر شہرت تخلص اختیار کیا۔ ۔ حلقہ اربابِ ذوق کے اہم رکن تھے۔ حلقہ اربابِ ذوق میں جب نوجوانوں نے غمِ دوراں کا ذکر کچھ زیادہ زور شور سے شروع کیا تو کچھ بزرگوں نے اسے سیاست قرار دیا۔ حلقے پر سیاسی کا لیبل لگایا اور الگ سے حلقہ اربابِ ذوق (ادبی) بنا لیا۔ سیاست سے نفور کے باعث شہرت صاحب بھی اس میں پیش پیش تھے لیکن پھر ضیا الحق کے دورِ جبر میں کسی بھی حساس شخص کیلئے سیاست سے لا تعلق رہنا ممکن نہ رہا توشہرت صاحب بھی سیاست میں ایسے آئے کہ جلا وطن بھی ہونا پڑا۔

شہرت صاحب کہتے تھے کہ ان کی اہلیہ فرخندہ بخاری انہیں سیاست میں لائیں۔ دراصل فرخندہ صاحبہ کے بھائی خواجہ افتخار ایڈوکیٹ سرگرم سیاسی اور ٹریڈ یونین کارکن تھے۔ مرزا ابراہیم کی ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری بھی تھے۔ فرخندہ صاحبہ پر بھائی کا اثر تھا۔ مارشل لا کے دوران وہ جمہوری جدوجہد میں بہت سرگرم رہیں۔ جب انہیں زبردستی طیارے میں ڈال کرجلاوطن کیا گیا تو ظاہر ہے خاندان متاثر ہوا۔ شہرت صاحب اس پر ناخوش تو ہوئے لیکن پھر وہ بھی برطانیہ چلے گئے اور ان کا گھر وہیں آباد ہوگیا۔ جمہوریت کی بحالی پر یہ خاندان وطن واپس آیا۔
شہرت صاحب کا 11 اکتوبر 2001ء کو انتقال ہوا اور میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

شہرت صاحب کے اردو شعری مجموعے طاقِ ابرو، دیوارِ گریہ اور شبِ آئینہ کے عنوان سے شائع ہوئے، فارسی کلام کی کوئی خبر نہیں۔ اس بارے میں ان کی صاحبزادی نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔

کچھ اشعار

یا د رہ جاتی ہیں با تیں شہر ت
دن بہر حال گزر جاتے ہیں

جو ہے وہ نکلنا چاہتا ہے
ہے ننگ مکان پر مکیں

کسی کی روح کا بجھتا ہے شعلہ
کسی کی آنکھ میں جلتا ہے کاجل

حال میں اتنے بھی بے بس نہ ہوئے تھے ہم
دلدل بھی نہیں لیکن نکلا بھی نہیں جاتا

کافر ہوں جو حسرت ہو جینے کی مگر شہرت
اس حال میں یاروں کو چھوڑا بھی نہیں جاتا

ہم کوئی نجومی ہیں، وقت ہی بتائے گا
کون یاد رکھے گا کون بھول جائے گا

ہم بھی رکھتے ہیں زادِ راہِ عدم
اپنا غم، تیرا غم، جہان کا غم

شْہرت بیانِ غم کے صِلے میں ہْوا نصیب
ایسا جوابِ تلخ کہ نشہ اْتر گیا

خود نوشت سوانح عمری ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ سے ایک اقتباس:”میں آئینہ کبھی نہیں دیکھتا، یہاں تک کہ شیو بھی بغیر آئینے کے کرتا ہوں، بال بھی بغیر آئینے کے سنوارتا ہوں اور ٹائی بھی بغیر آئینے کے باندھتا ہوں۔ سبب تومجھے معلوم نہیں، بس اتنا جانتا ہوں کہ آئینہ میری زندگی میں وجود نہیں رکھتا۔ اتفاقاً کبھی سامنے آ جائے تو مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کوئی مجھ سے سوال کرے کہ تیری ناک کیسی ہے؟ یا تیرے چہرے پر کوئی تل ہے؟ تو میں اسے جواب نہ دے سکوں گا۔ پس میں اپنے آپ کو اپنے ذریعے دیکھتا ہوں آئینے کے ذریعے نہیں، اسی طرح دنیا اور اہلِ دنیا کو بھی اپنے ذریعے دیکھتا ہوں، پرکھتا ہوں، کسی اور ذریعے سے نہیں“۔

Aslam Malik

اسلم ملک روزنامہ جنگ کے سینئر سب ایڈیٹر ہیں۔ وہ ستر کی دہائی سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔