خبریں/تبصرے

روجاوا پر حملہ: یورپی یونین نے ترکی کو اسلحے کی ترسیل پر پابندی لگا دی!

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پیر کے روز یورپی یونین کے اٹھائیس ارکان نے ترکی کو اسلحے کی ترسیل پر پابندی لگا دی۔ اس کے علاوہ قبرص کی سمندری حدود میں جاری گیس ڈرلنگ کے ایک منصوبے پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کے تحت نہ صرف ترکی کے اثاثے منجمند کر دیے گئے ہیں بلکہ ویزا پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ برطانیہ نے البتہ یورپی یونین کے وزرا خارجہ کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے تادمِ تحریر یہ ابہام موجود ہے کہ یہ پابندیاں مشترکہ طور پر لگائی گئی ہیں یا ارکان ِ یورپی یونین نے انفرادی طور پر پابندیاں لگائی ہیں۔

ادہر، پیر کے روز ہی صدر ٹرمپ نے بھی ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر بات چیت روکنے کا عندیہ دیا ہے۔

یاد رہے صرف 2017ء میں یورپی یونین کے ممالک نے ترکی کے ساتھ اسلحے کی فروخت کے لئے 2.8 ارب یورو کے معاہدے کئے تھے۔ اس فہرست میں سر فہرست سپین تھا جس نے ایک ارب یورو، جبکہ فرانس اور برطانیہ نے بالترتیب 736 ملین یورو اور 660 ملین یورو کا اسلحہ بیچنے کے لئے اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے تھے۔

جینیوا میں اقوام ِمتحدہ کے لئے ترک نمائندے صادق ارسلان نے ان پابندیوں کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ترکی کو ان سے فرق نہیں پڑے گا“ مگر صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ”یورپی یونین کے ممالک جو ترکی کے ناٹو اتحادی ہیں، نے یہ پابندیاں ’ڈس انفارمینشن‘ یعنی غلط معلومات کی بنیاد پر لگائی ہیں“۔