پاکستان

پاکستان میں ترقی پسند سیاست کا مستقبل!

ناصر اقبال

اُستاد دامن کے مشہور زمانہ اشعار:

لہو جگر دا تلی اُتے رکھ کے
دھرتی نوں پوچدے پوچدے گزر چلے
ایتھے کینویں گزارئیے زندگی
ایہوئی سوچدے سوچدے گزر چلے

1960ء کی دہائی میں اُستاد صاحب پروارد ہونے والے یہ اشعار اپنے اندر خاصے سوالات سموئے ہوئے ہیں۔ کامریڈ لینن کے مشہور زمانہ مضمون ”کیاکیاجائے“ میں اس طرح کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی گئی۔ سدا بہار گیتوں اور غزلوں کی طرح ترقی پسندی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات بھی سدابہار کادرجہ رکھتے ہیں مثلاً مستقبل قریب میں سرخ انقلاب ممکن ہے؟چالیس سال کی جدوجہد کے بعد بھی ہمیں تو کچھ بھی نہیں ملا؟ اب انقلاب کی منصوبہ بندی کی جائے یا الیکشن کی سیاست کی جائے؟وغیرہ کے ساتھ ساتھ مایوسی سے لبریز سوالات کی بوچھاڑ بھی جاری رہتی ہے۔ مثال کے طورپر بس جی دنیا سے ترقی پسندی ختم ہونے کو ہے، اوجی سویت یونین کے انہدام کے بعد تو ترقی پسندی کا بھی انہدام ہو چکا ہے،’تاریخ کا خاتمہ‘ ہوگیا ہے جی۔ ملک میں بنیاد پرست جماعتوں کاکوئی جلوس وغیرہ دیکھ لیا تو یہی گمان کرنا کہ بس جی اب تو اس ملک پر مولوی ہی حکومت کریں گے۔ بہرحال ترقی پسندی کے اساتذہ نے ہر دور میں ان سوالات کو مخاطب کیا۔ یہاں پر ہم استاد محترم زبیر رانا صاحب مرحوم کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی زوال روس کے تقریباً فوراً بعد جب ملک میں ترقی پسندی کے حوالے سے مایوسیوں کا بسیرا تھا اپنی کتاب ”کیا مارکسزم ناکام ہوگیا“ میں مارکسسٹ خیالات کا مؤثرطریقے سے دفاع کیا۔ ترقی پسندی کے تمام طلبہ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرناچاہیے۔ پاکستان کو بنے72سال گزر چکے ہیں یہی سوال پھر پیش نظر ہے کہ لاتعداد ترقی پسند کارکنان کے خلوص، کاوشوں، قربانیوں اور شہادتوں جن کو اگر قلم بند کیاجائے تو الگ سے ایک تاریخ مرتب کی جاسکتی ہے کے باوجود ترقی پسندی نتیجہ خیز ہوسکی یا نہیں؟ سیاسی و سماجی تبدیلی کے ادنا طالب کے طورپر یہ سوال ہمارے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے لہٰذا ہم اپنے محسوسات یا مشاہدے کو دوستوں سے گزارشات کی شکل میں شیئر کئے دیتے ہیں۔

عظیم فلسفی اورسیاسی کارکنان ژاں پال سارتر جواپنی تحریروں اور بات چیت میں اکثر دوسری جنگ عظیم کا حوالہ دیا کرتے تھے تو کسی نے پوچھ لیا کہ جناب آپ نے جنگ میں کونسا تیر مارا تھا؟جواباً سارتر نے مختصر جواب دیا”میں زندہ رہا“ یعنی کروڑوں لوگ زندگی کی بازی ہار گئے لیکن سارترزندہ رہا۔ ایک سیاسی جماعت جو صرف پنجاب یونیورسٹی میں ہی پائی جاتی ہے کے ارکان سے اگر کہیں ہمارا آمنا سامنا ہوجائے توتعارف کے بعد پہلے حیران اورپھر پریشان ہو کر دیکھتے ہیں اور آپس میں چے مگوئی کرتے ہیں کہ یہ ”سرخے“ کس طرح بچ گئے ہیں۔ اس سیاسی گروہ کا کل مقصد حیات صرف اور صرف ترقی پسند خیالات کوکچلنا اور بدنام کرنا ہے۔یہاں پر ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا رونا بھی رویا جاسکتا ہے لیکن آگے بڑھتے ہوئے یہ نتیجہ ضرور اخذ کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں ترقی پسندسوچ اپنی تمام کامیابیوں، ناکامیابیوں اور نامساعد معروضی حالات کے باوجود زندہ ہے۔ سیاسی و سماجی تبدیلی کے علما کے نزدیک دنیا کے تمام سماجوں میں ہمہ وقت تین فکری دھارے:1۔قدامت پسند 2۔ بنیاد پرسست 3۔ ترقی پسند کارفرما رہتے ہیں۔ قدامت پسند گروہ ہمیشہ سماج میں سٹیٹس کو برقراررکھنے پر زور دیتے ہیں اور کسی بنیادی سماجی تبدیلی کی مخالفت کرنے میں بدقسمتی سے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں قدامت پسند رجحانات کی حامل ہیں۔ دوسرے نمبر پر بنیاد پرست گروہ آتے ہیں جو ہمیشہ ماضی پرستی کرتے ہیں اور حال کو بھی ماضی میں لے جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرے درجے کی مذہبی سیاسی جماعتیں بنیاد پرستی کے زمرے میں آتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر ترقی پسند سوچ آتی ہے‘دنیا کے تمام ترقی پسند ماضی سے سبق سیکھتے ہیں اورحال میں زندہ رہتے ہوئے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہاں ہم نے نمبروں کے اعتبار سے مختلف فکری دھاروں کی تعریف و تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ترقی پسندی ہمیشہ آخری نمبر پر موجود رہتی ہے یا رہے گی۔ تاریخی طورپر دنیا کے مختلف سماجوں میں اس کی ترتیب یا ترکیب مختلف رہی ہے۔ جن ممالک یا خطوں میں ترقی پسند سیاست نے غلبہ حاصل کیا ہے وہاں سماجی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ جس کی زیادہ سے زیادہ مثال روس چین اور دیگر سوشلسٹ انقلابات کی صورت میں دی جاسکتی ہے اور کم ازکم مثال یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی موومنٹ ہے۔ جو تقریباً چودہویں سے ستارہویں صدی پر محیط ہے۔ جس میں یورپ سے جاگیرداری کا خاتمہ ہوا۔ صنعتی انقلاب ہوا۔ جمہوریت کاآغاز، بنیادپرستی کا خاتمہ، انسان دوستی اور شہری آزادیوں کی تحریکیں، ادب اور آرٹ اورسائنسی علوم کا احیا اور ترویج ہوئی۔ پیرس کمیون اور انقلاب فرانس اسی تحریک کی دین ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ تین عظیم نظریات جس میں ڈارون کا نظریہ ارتقا (1809-1882ء)، کارل مارکس کے نظریات (1818-1883ء)اور سگمنڈ فرائیڈ(1856-1933ء)کا نظریہ تحلیل نفسی اور خوابوں کی حقیقت وغیرہ جنہوں نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیابھی نشاۃ ثانیہ کی تحریک کے نتیجے کے طورپر وجود پائیں۔ سماج میں ترقی پسند خیالات کا اپنا ایک ارتقا ہے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود یہ ارتقائی سفر جاری رہتا ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی مسئلہ نہیں کہ ترقی پسندی لیڈروں اورفلسفیوں کی ذاتی کاوشوں کی مرہون منت نہیں رہی ہے۔ کارل مارکس اور لینن سے پہلے بھی دنیا میں ترقی پسندی موجود تھی اور بعد میں بھی رہے گی کیونکہ ترقی پسندی انسانی سماج کی ایک حقیقت ہے۔ ہمارے ہاں یہ خیال بھی رائج ہے کہ جہالت رجعتی ملاؤں کی بدولت ہے شاید یہ خیال درست نہیں کیونکہ جن سماجوں میں ملا موجود ہی نہیں ہیں جہالت وہاں پر بھی موجود ہے۔ مذکورہ سیاسی فکری گروہ عوام میں سے ہی وجود پاتے ہیں لیکن کبھی بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں یا انہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہو۔

پاکستان میں قدامتی اور رجعتی افکار میں پذیرائی کاا ندازہ صرف جنرل الیکشن 2018ء میں ووٹنگ کے ٹرن آؤٹ سے ہی لگایا جاسکتاہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 55 فیصد رہا (یہاں ہم احتیاطاً یہ بھی ذکر کردیتے ہیں کہ اس 55 فیصد میں دھاندلی کے وسیع الزامات بھی شامل ہیں۔ دھاندی کی سائنس میں ووٹوں کوہمیشہ زیادہ کیاجاتا ہے۔ مثلاً مشرف دور کے آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن 2002ء اور 2008ء میں ہارنے والے امیدواروں کو بھی بیس یا تیس ہزار زیادہ ووٹ دیئے گئے تاکہ تناسب اور امیدوار کی عزت نفس میں اضافہ ہو)۔125کے قریب سیاسی پارٹیوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ ہم تجزیے کی خاطر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ الیکشن میں قدامتی اوررجعتی رجحانات کی پارٹیوں نے ہی حصہ لیا کیونکہ ترقی پسندی کی طرف سے کوئی بھی قابل ذکر پارٹی میدان میں موجود نہ تھی۔ بنیاد پرست پارٹیوں کا حصہ 4 فیصد جبکہ بقایا 96 فیصد ووٹ قدامتی پارٹیوں کے حصے آیا۔ ان میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن شامل ہیں۔ یوں حکومتی پارٹی تحریک انصاف کل ووٹوں کی 16 فیصد جبکہ اپوزیشن کی بڑی پارٹیاں مسلم لیگ ن 12 فیصد اور پیپلز پارٹی7فیصد کی حصہ دار ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق اگر حکومتیں تشکیل دی جائیں تو پاکستان میں شاید کبھی جمہوری حکومت بن ہی نہ سکے۔ اس وقت امریکہ میں حکومتی پارٹی 46 فیصد، برطانیہ میں 36 فیصد جبکہ انڈیا میں 37 فیصد عوام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہمارے نزدیک بقایا 45 فیصد ووٹ جو پول نہ ہوا اہمیت رکھتا ہے۔ عوام کا بڑا حصہ کسی بھی قدامتی اور رجعتی سیاست کا حصہ نہ ہے اور نہ رہا ہے۔ شاید کسی ترقی پسند کی جماعت کے انتظار میں ہے یہاں یہ بات وثوق سے نہیں کی جاسکتی کہ مذکورہ 45 فیصد ووٹ کسی ترقی پسند پارٹی کے ہی حصے میں آئے گا لیکن یہ بات یقین سے کی جاسکتی ہے کہ یہ قدامتی اور رجعتی ووٹ بھی نہیں ہے۔

پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ قدامتی رجحانات کی حامل پارٹیوں نے ہی قائم کی ہیں (جیالوں سے معذرت) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نئی آنے والی حکومت پچھلی حکومتوں کی ناکامیوں کے ریکارڈز توڑنے میں مصروف ہے۔ ملکی ترقی کے تمام عشاریوں میں تیزی سے کمی ہوتی گئی۔ جہاں ایک طرف مہنگائی، قرضہ جات، کرپشن،جرائم، غربت اور جہالت کے حجم میں اضافہ ہوا وہی دوسری طرف تعلیم، صحت،برآمدات، صنعت،زراعت اورملکی یا قومی وقار میں مسلسل کمی ہوتی گئی۔

سیاسی پارٹیوں کی ریڑھ کی ہڈی اس کے سکہ بند کارکن یا کیڈرز ہوتے ہیں۔ ہمارے ذاتی مشاہدے یا اندازے کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس پانچ سات ہزار سے زیادہ کیڈرز  نہیں ہیں۔ جبکہ ترقی پسند تحریک میں کارکنان کی تعداد پانچ سات ہزار سے کہیں زیادہ ہے اور معاشرے میں اپنا اثر بھی رکھتی ہے۔ ترقی پسند سیاست کے ادنیٰ طالب علم ملکی صورتحال کے پس منظر میں کامیاب ترقی پسند سیاست کے ممکنہ لوازمات کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ترقی پسند سوچ کے حامل سیاسی پارٹیاں اور گروپس موجود ہیں۔ عوام میں پذیرائی کی واضح گنجائش موجود ہے۔ کوہنہ مشق پرعزم کارکن موجود ہیں اور ہر محاذ پر شکست خورد ہ اور عوام میں اپنا اثر تیزی سے کھوتی ہوئی بورژوازی موجود ہے۔ اس صورتحال میں ہم پاکستان میں ترقی پسند سیاست کے وسیع امکانات اور روشن مستقبل کو دیکھ رہے ہیں۔

Nasir Iqbal

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔