ماحولیات

ماحولیاتی آلودگی کا ورلڈ کپ جیتنے کے لئے بی جے پی اور پی ٹی آئی میں مقابلہ!

فاروق سلہریا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما، ونیت شردھا، جو سوشل میڈیا پر بے پر کی اڑانے کے لئے مشہور ہیں، نے ایک تازہ تھیوری پیش کی ہے۔

موصوف کا کہنا ہے کہ شمالی ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی دراصل پاکستان کی سازش ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان زہریلی گیسیں بھارت کی طرف بھیج رہا ہے جس کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں کسان کھیتوں کو پہلے بھی آگ لگاتے تھے مگر اس سے تو آلودگی نہیں پھیلتی تھی۔ انہوں نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ معلوم نہیں کیجریوال کیوں اِدھر ُادھر کی چیزوں کو آلودگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، انہیں پاکستان کی سازشوں پر نظر رکھنی چاہئے۔

دہلی میں تین دن قبل ریاستی سرکار نے ایک نیا قانون جاری کیا تھا جس کے مطابق لوگ سڑکوں پر ایک دن طاق نمبر والی اور دوسرے دن صرف جفت رجسٹریشن نمبر والی گاڑیاں لا سکیں گے۔

ادھر، بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں کوحکم دیا ہے کہ وہ ایسے کسانوں کو سزائیں دیں اور جرمانے کریں جو کھیتوں میں آگ لگاتے ہیں۔

اِدھر، پاکستان میں ہمیں تین چار سال سے بتایا جا رہا ہے کہ لاہور میں سموگ کی وجہ بھارت ہے۔ دنیا بھر کی سائنس اس دعوےٰ کے سامنے چکرا جائے مگر تجارتی میڈیا سے لے کر ماحولیات کی وفاقی وزیر تک ملبہ بھارت پر ڈال رہی ہیں۔

ابھی جب لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا تو ’پراپر گنڈا‘ نامی ویب ٹی وی کو زرتاج گل صاحبہ بتا رہی تھیں کہ بھارتی پنجاب میں کسان جب کھیتوں کو آگ لگاتے ہیں تو لاہور میں سموگ ہو جاتی ہے۔ جب میزبان نے زرتاج گل کو یاد دلایا کہ ماہرین کے مطابق سرد موسم میں ہواؤں کا رخ ہریانہ سے پنجاب کی جانب ہو جانا ذرا غیر سائنسی سی بات ہے تو وزیر صاحبہ کا کہنا تھا کہ اگر سو فیصد نہیں تو اسی فیصد وجہ بھارت میں جلنے والے کھیت ہیں۔

راقم لاہور میں ایک ہاوسنگ سوسائٹی میں رہتا ہے جہاں پابندی کے باوجود ہر روز کسی نہ کسی خالی پڑے پلاٹ میں کوڑا جلایا جا رہا ہوتا ہے۔

لاہور بھر میں کوڑے کو آگ لگانا ایک معمول کی بات ہے۔

لاہور سے شیخوپورہ جاتے ہوئے، موٹر وے کی دونوں جانب، چاول کی فصل کٹنے کے بعد کھیتوں میں کئی جگہ پرآگ لگی دکھائی دے گی۔

کیا لاہور میں را والے آ کر کوڑے کو آگ لگا رہے ہیں؟

بات درا صل یہ ہے: بی جے پی ہو یا تحریکِ انصاف، بلکہ ان دو جماعتوں پر ہی کیا موقوف ہے، دونوں ملکوں کے حکمران طبقے کو آلودگی کے خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

جب ان دونوں ملکوں میں مسئلے کا الزام سرحد پار لگا دیا جائے تو سمجھ لیں حکمران اس مسئلے پر کوئی اقدامات اٹھانے والے نہیں۔

آلودگی نہ صرف ان دونوں ملکوں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کا سانجھا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے خلاف عالمی سوشلسٹ یکجہتی کی ضرورت ہے نہ کہ ونیت شرما اور زرتاج گل طرز پر گھٹیا سیاست کرنے کی۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔