پاکستان

پاکستان: 62 فیصد نوجوان طلبہ یونین کے حق میں ہیں!

اویس قرنی

روزنامہ ڈان کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 62 فیصدنوجوان طلبہ یونین کے حق میں ہیں۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے طلبہ یونین بحالی کی تحریک نے زور پکڑا ہے حتیٰ کہ کئی تعلیمی اداروں میں بھرپور ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔ نومبر کے اوائل میں بننے والی 20سے زائد ترقی پسند طلبہ تنظیموں پر مشتمل ’طلبہ ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر طلبہ یونین بحالی کے لیے 29 نومبر 2019ء کو ملک گیر ’طلبہ یکجہتی مارچ‘کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس میں شامل ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے مارچ کی کیمپئین کاانتہائی جوش و جذبے سے آغاز کیا ہے۔

لاہور میں فیض فیسٹیول کے دوران نوجوان طلبا و طالبات نے طلبہ یکجہتی مارچ کے پمفلٹ اور دعوت نامے تقسیم کیے، سٹڈی سرکلز کا اہتمام کیا اور فلک شگاف نعروں سے فیسٹول میں آئی عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اسی فیسٹول کے دوران نعروں کی ایک ویڈیو نے ہلچل مچا دی اور اس کے بعد سارا میڈیا امڈ آیا، انٹرویوز ہونے لگے، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلنے لگے جس سے ناگزیر طور پر طلبہ یکجہتی مارچ کی امیدوں سے کہیں زیادہ تشہیر ہوئی۔ ساتھ ہی اسلام آباد میں ہونیوالے لوک ورثہ میلے میں نوجوانوں نے اسی طرح طلبہ یکجہتی مارچ کا پرچار کیا۔ فیصل آباد میں ہونیوالے لیٹریری فیسٹیول میں ساتھیوں نے اسکے دعوت نامے تقسیم کئے۔ گو  کہ عوام کا ہر اکٹھ، تہوار اور عوامی جگہیں طلبہ کے لیے یکجہتی مارچ کے پرچار کی جگہ بن گئی ہیں۔ کارپوریٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ کالجوں، یونیورسٹیوں، ہاسٹلوں اور ڈھابوں سمیت ہر جگہ یہ نوجوان پمفلٹ ہاتھ میں تھامے، انقلابی ترانے گنگناتے اور نعروں کے ذریعے لوگوں خصوصاً طلبہ کو یکجہتی مارچ میں شمولیت کا پیغام دے رہے ہیں۔

ایسے میں بے شمار چینلوں نے پروگرام بھی کیے۔ لیکن سب سے اہم روزنامہ ڈان کا مذکورہ بالاسروے ہے۔ روزنامہ ڈان نے عمومی رائے عامہ جاننے کے لیے اپنے سوشل میڈیا پیج سے ایک سوال کیا کہ”کیا طلبہ کو یونین بنانے کی اجازت ہونی چاہیے؟ “جس کے لیے صرف ہاں یا ناں کے آپشن موجود تھے۔ چند گھنٹوں کے اس سروے میں 34,320 لوگوں نے حصہ لیا۔ نتیجے میں 62 فیصد صارفین نے طلبہ کی یونین سازی کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ ایک نجی ادارے کا چند گھنٹوں کا سوشل میڈیا کا سروے ہے جس کا نتیجہ ہمارا سامنے واضح ہے اور یہی حقیقت ہے کہ پاکستان میں طلبہ کی اکثریت یونین سازی کے نہ صرف حق میں ہے بلکہ اب وہ یہ حق چھیننے کے لیے بھی تیار ہے جس کا اظہار 29 نومبر کو درجنوں شہروں میں ہونیوالے طلبہ یکجہتی مارچ میں ہوگا۔

Awais Qarni

اویس قرنی ’ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ‘ کے مرکزی آرگنائزر ہیں اور ملک بھر میں طلبہ کو انقلابی نظریات پہ منظم اور متحرک کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔