پاکستان

پاکستان: ٹریفک کے مسائل کا حل کیسے ممکن ہے؟

نادر گوپانگ

کسی بھی انسان کی زندگی میں پیش آنے والا ایک حادثہ نہ صرف اس فرد کی بلکہ اس سے پیار کرنے والے لوگوں کے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسی لاکھوں مائیں موجود ہیں جنہوں نے ٹریفک حادثات میں اپنی نوجوان اولادیں کھوئی ہیں اور ایسے بچے موجود ہیں جو کم عمری میں ہی اپنے والدین کی بھیانک موت جیسے المناک حادثے سے نبردآزما ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں محرومیوں، مجبوریوں اور نفسیاتی صدمات کا استعارہ بن چکی ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو اپنے پیارے دوستوں کی ناگہانی موت کی بنا پر رنج و الم میں مبتلا ہیں۔ ان حادثات میں بچ جانے والے انسان جو ذہنی اور جسمانی لاچارگی کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی زندگی بھی کسی عذاب مسلسل سے کم نہیں ہوتی۔

اس تحریر کا مقصد ان حادثات پر صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ ہمیں مل کر ان کی وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ مسئلہ اتنا سادہ ہے کہ صرف ڈرائیورز کی غفلت، موبائل فون کے استعمال اور ٹریفک قوانین کا غیر فعال ہونا وغیرہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اورعام لوگوں کی جہالت اور رویوں کو لعن طعن کرتے ہوئے سخت سے سخت سزاؤں کی تجاویز دے کر ہم بری الزمہ ہو سکتے ہیں۔

آبادی کے تناسب سے ایشیا میں سب سے زیادہ حادثات پاکستان میں ہوتے ہیں۔ موٹروے پولیس کے مطابق سالانہ 30 ہزار سے زائد انسان ٹریفک حادثات کی وجہ سے موت کا شکار اور لاکھوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ ان حادثات سے اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ آنے والے عرصے میں پاکستان میں اموات کی تیسری بڑی وجہ ٹریفک حادثات بن جائیں گے جو ایک خطرناک صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ حادثات کی سب سے بڑی وجوہات خستہ حال سڑکیں، بہت زیادہ گاڑیاں، گاڑیوں کی بوسیدہ حالت، ٹریفک کے اصولوں سے لاعلمی، تیز رفتاری، کم عمر ڈرائیورز، فوری ہسپتال پہنچانے کی عدم سہولت اور ہسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان ہیں۔

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے اندر کسی بھی شعبے میں منصوبہ بندی نہیں کی جاتی بلکہ جب مسائل بہت زیادہ بڑھنے کے بعد قابو سے باہر ہوجاتے ہیں تو حکمران طبقات ان مسائل کی بھونڈی اور بیہودہ قسم کی تاویلات پیش کرتے ہیں۔ کرپشن، اداروں کا غیر فعال ہونا اور عوام کی جہالت کو ان مسائل کی وجوہات گردانا جاتا ہے اور ان کے حل کی خاطر میڈیا کے ذریعے عوام میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ ہی جاہل اور غلط ہیں جن کی وجہ سے غیر ذمہ دار لوگ اقتدار میں آگئے ہیں۔

ٹریفک حادثات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ٹریفک کے نظام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ آبادی کے حساب سے ٹریفک کا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے اور گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لئے عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ سے زیادہ فعال بنایا جائے۔ موٹر سائیکل کے بے دریغ استعمال کو کم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کے لئے متبادل عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ ٹرک، ٹرالے اور ٹینکرز جو مال برداری کا کام دے رہے ہیں یہ نہ صرف ہماری معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہیں بلکہ ٹریفک حادثات کا سب سے بڑا سبب بھی ہیں۔ بھاری ٹریفک کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے متبادل کے لئے ریلوے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی غلطی، جلد بازی کی نفسیات اور افراد سے جڑے کئی مسائل ہیں۔ ہم جب بھی ٹریفک حادثات کی بات کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ کس کی غلطی تھی اور حادثے کا قصور وار کون ہے، لیکن ہم یہ سوال کیوں نہیں اٹھاتے کہ اس نے غلطی کیوں کی اور کیا وجوہات تھیں کہ اس نے نہ صرف اپنی زندگی کو غیر اہم سمجھا بلکہ دوسروں کی زندگیوں سے بھی کھیل گیا۔ اس مسئلے کی وجہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پورے معاشرے کی مجموعی صورتحال کا اندازہ لگائیں۔ جس معاشرے میں معاشی تنگی کیوجہ سے والدین اپنے بچوں کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہوں اس معاشرے میں ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کی امید ایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔

موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی نظام نے انسانوں سے انسانیت چھین لی ہے۔ زیادہ تر افراد کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کروڑوں لوگوں کے لئے اپنی ضروریات زندگی پوری کرنا ہی واحد چیلنج بن چکا ہے۔ ہر طرف بھوک، افلاس، جرائم، ظلم، استحصال اور نفرتیں ہی نفرتیں ہیں۔

اس معاشرے میں موجود تمام مسائل بشمول ٹریفک کے مسائل کو مادی بنیادوں پر سمجھے بغیر زبردستی قانون کے اطلاق کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ جدید علم اور انسانی محبت سے سرشار جذبے کے تحت منصوبہ بندی کرتے ہوئے بخوبی حل کیا جاسکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام جو حکمران طبقات اور چند امیر ترین افراد کے دلال کے طور پہ انسانوں کی فلاح و بہبود کی بجائے شرح منافع کی خاطر کام کرتا ہے، میں انسانیت کے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کی گنجائش نہیں ہے۔ اس نظام کو پاش پاش کر کے ہی ایک صحت مند انسانی معاشرے کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

Nadir Gopang

نادر گوپانگ ’ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ‘ کے رہنما اور نوجوانوں کو انقلابی نظریات پہ منظم کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔