دنیا

دنیا بھر میں سینکڑوں صحافی قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں: عالمی تنظیم کی نئی رپورٹ

قیصرعباس

اسکندر نیگا (Eskander Nega) اتھیو پیا کے صحافی ہیں جنہیں 2012ء میں حکومت نے ملک کے انسداد دہشت گردی کے قوانین ا ستعمال کرتے ہوئے 18سال قید کی سزا سنائی تھی۔ خلاف ِ توقع انہیں 2018ء میں نئے وزیراعظم ایبی احمد کی اصلاحات کے تحت ایک ہزار قیدیوں کے ساتھ رہائی ملی تھی۔ ایبی احمد وہی وزیرِاعظم ہیں جنہیں پڑوسی ملک اریٹریا کے ساتھ اختلافات ختم کرکے قیام ِامن کے اعتراف میں امن کا نوبل انعام دیا جارہاہے۔

اگرچہ ا سکندرکو اپنی زندگی کے چھ قیمتی سال سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑے لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنے نا کردہ جرم میں سزا مکمل ہونے سے پہلے ہی رہائی مل گئی۔ اس کے برعکس دنیا کے کئی ملکوں میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ایک مدت سے قید وبند کی سختیاں جھیل رہی ہے اور ان کی رہائی کے کوئی امکانات بھی نظر نہیں آتے۔

صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم، ادارہِ تحفظ صحافت (CPJ) کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 250 صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سرانجام دیتے ہوئے مختلف جرائم میں ملوث کرنے کے بعد قید کردیے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر صحافی اپنے ملک میں اپنی ہی حکومتوں کے جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان ملکوں میں چین، ترکی، مصر اور سعودی عرب سرفہرست ہیں جبکہ دوسرے ملکوں میں اریٹریا، ویتنام اور ایران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

چین میں اس وقت سب سے زیادہ 48 صحافی جیلوں میں نظر بند ہیں جنہیں حکومت کی انتقامی کارو ائیوں کا سامناہے۔ اس کے علاوہ ترکی میں، جہاں آج کل آزادی ِاظہار پر مکمل پابندی ہے، 100 سے زیادہ میڈیا کمپنیوں کو بند کردیا گیاہے اور اس سال47 صحافی پابند سلاسل کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پورے ترکی میں درجنو ں صحافیوں پر مقدمات چل رہے ہیں جن کو قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

بد قسمتی سے ذرائع ابلاغ پر ان پابندیوں اور صحافیوں پر تشدد کے واقعات کی اس فہرست میں مسلم ممالک کی اکثریت ہے جن میں خصوصی طور پر مصر اور سعودی عرب میں اس سال 26 صحافیوں کو قید کی سزا سنائی گئی۔ اس لحاظ سے یہ دونوں ممالک اس فہرست میں تیسرے نمبر پرہیں۔ اس کے علاوہ ترکی اورایران بھی ان مسلم ملکوں میں شامل ہیں جہاں ذرائع ابلاغ اور ان کے کارکن زیرِ عتاب رہتے ہیں۔

سی پی جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمون جول نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”جابر حکومتیں ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اپنے سماج اور دنیا بھر کو ان قیمتی معلومات اور خبروں سے محروم کررہی ہیں جو ہمارے لئے انتہائی اہم ہیں۔“

معاشرے اور ذرائع ابلاغ پر ان اقدامات کے منفی اثرات پر ان کاکہنا تھاکہ ”اگرچہ کسی ایک صحافی کی گرفتاری بھی ذرا ئع ابلاغ، خاندانوں، ساتھیوں اور رفقائے کارکے لئے باعث تشویش ہوتی ہے لیکن سالہا سال سے سینکڑوں صحافیوں کی حراست بین الاقوامی سطح پراطلاعات کے اس نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جس پر ہم سب انحصار کرتے ہیں۔“

صحافیوں کے خلاف بیشترجابرانہ اقدامات ان ملکوں میں ہورہے ہیں جہاں آمرانہ نظام ہے، معاشرہ غیر مستحکم سیاسی اور اقتصادی صورت حال کا شکار ہے اور مشرق وسطی کی طرح لوگ احتجاجی تحریکوں کے ذریعے آواز بلند کررہے ہیں۔ لیکن عالمی سطح پر میڈیا کے خلاف بڑھتے ہوئے تشددکے رجحانات اب صرف ترقی پذیر اور مسلم معاشروں تک محدود نہیں رہے۔ یورپ اور مغرب کے ان ملکوں میں جہاں رجعت پسند جماعتیں قومیت اور اکثریتی حقوق کے نعرے لگاکرمقبول ہورہی ہیں، وہاں میڈیا اور صحافی بھی محفوظ نہیں رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافی اور میڈیا کارکن بھی معاشرے کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں جس کی انہیں قانونی طورپر سزا بھی ملنی چاہیے۔ لیکن ذرائع ابلاغ ا ور رپورٹرز زیادہ تر سیاسی وجوہات کی بناپر سرکاری جبر اور انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں اور انہیں بدعنوانی کی خبروں، انسانی حقوق کی پامالی کی رپورٹنگ یاسرکاری نقطہ نظر سے اختلافات کی پاداش میں سزائیں دی جاتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جدید دور کی ٹیکنالوجی نے جہاں آج میڈیا کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے وہاں ان کے لئے نئی مشکلات بھی کھڑی کر دی ہیں جو جمہوری اورمعاشرتی اقدارکے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔