طنز و مزاح

قصّہ خاندانِ غلاماں کا!

قیصر عباس

ہم ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر رنگ کے لوگ اپنے اپنے حساب سے زندگی بسرکرتے ہیں۔ کو ئی چھوٹا ہے، کوئی بڑا ہے اور کوئی بس کچھ بھی نہیں۔ کچھ گِنے چنے لوگ ہی ہم سے بڑے ہیں اور ان کے گھر بھی بڑے ہیں جن کی شان ہی کچھ اور ہے۔ شاندار گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی پورے شہر کی سلامتی اورعزت ہے۔

یہ شہر بھی کئی محلّوں میں بٹا ہواہے۔ ہمارے اڑوس پڑوس میں بے شمار لوگ ہم جیسے ہیں اور ان کے گھر بھی ہمارے گھروں جیسے ہیں لیکن کچھ لوگ خاصے بہتر حالات میں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی تو دنیا ہی کوئی اور ہے۔ وہ ہم پر رعب جھاڑتے رہتے ہیں اور اکثر ٹی وی پر دوسروں سے لڑتے جھگڑتے بلکہ گالیا ں بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے چھوٹے اور کچے گھر ہلکی بارشوں میں ڈھ جاتے ہیں مگر ہم بھی بڑے ڈھیٹ ہیں۔ ہرطوفا نِ بادوباراں کے بعد مٹی کے گھر پھر کھڑے کرلیتے ہیں۔ عرصے سے یہ سلسلہ یوں ہی چلا آرہا ہے اور چلتا رہے گا۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ہم اپنے گلی، محلے، نالیاں اور گھر پکے کرلیں۔ ضرورت بھی کیا ہے؟

ہمارا ایک چھوٹا سا خاندان ہے۔ ہم چار بھائی ہیں پنگیر، سنگیر، خبیر، بصیر اور ایک پیاری سی چھوٹی سی بہن کشمارہ ہے۔ یہ ہم سب کی جان ہے اور اسی لئے ہم سب اس کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی اکیلا نہیں چھوڑ تے۔ یہ سوچ کر ہی ہم سب اداس ہوجاتے ہیں کہ کہیں یہ ہم سے دور نہ ہوجائے! میں پنگیر، گھر میں سب سے بڑا ہوں اس لئے سب میری سنتے ہیں اور میرا حکم بھی مانتے ہیں۔ یہ بھی ان کی مجبوری ہے کیوں کہ میری حیثیت سب سے بہتر ہے اور سب سے زیادہ چوکیدار بھی میرے پاس ہیں جواو رکئی کاموں کے علاوہ گھرکی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ ہمارا ایک منہ بولا بھائی گلگیر بھی ہے جسے ہمارے ابو نے گود لے لیا تھا۔ وہ اکثر شکایت کرتا رہتاہے کہ ہم سب اسے سوتیلا بھائی سمجھتے ہیں۔

میں ایک سرکاری ٹھیکیدارہوں۔ اسکول کے زمانے سے میرا لنگوٹیا جس کا نام رفیقی ہے، میرا پڑوسی بھی ہے اور جگر ی یار بھی۔ ہم سب بھائی بہن اسے ”صدابہار رفیقی“ کہتے ہیں۔ ہم دونوں ساتھ ہی پڑھ کر بڑے ہوئے مگر اس کے گھرانے میں بلا کا ڈسپلن ہے جو ا ن کے والد سے ا نہیں ورثے میں ملا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لئے اس نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ محنت کی اور اب وہ سب اس کا پھل کھارہے ہیں۔

ہم دونوں کی دوستی مثالی ہے۔ وہ اکثرمیرے مسائل حل کرتاہے مگر میرے معاملات میں دخل نہیں دیتا۔ اس کے گھر کی کایا تو پہلے ہی پلٹ چکی تھی مگر اب تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ اتنا امیر ہے کہ شہر کے اکثر خاندانوں کو قرضے بھی دیتا ہے اور ان کے گھروں کی مرمت کے لئے منصوبے بھی بنا کر دیتا ہے۔ مگر یہ سب وہ مفت نہیں کرتا، سود پر قرضے دیتاہے اور اسی سے انہیں منصوبے بنا کر دیتاہے۔ اس کا کاروبار اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ایک دن وہ پورے شہر کا دادا بھی بن سکتا ہے۔ خیر ابھی وہ دن بہت دور ہیں!

ہمارے ایک بڑے انکل بھی ہیں۔ ویسے تو وہ ہمارے اصلی چچا نہیں ہیں مگر حقیقت میں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ وہ نہ صر ف ہمارے بلکہ پورے شہر کے ٹھاکُر ہیں۔ ان کے ہمارے پورے محلے پربھی بہت احسانات ہیں اور لوگ ان سے ڈرتے بھی بہت ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جدھر سے گزرجائیں لوگ راستہ بدل لیتے ہیں۔ یہ صرف انکی دولت کے بل پر ہی نہیں انکے پالے ہوئے پہلوانوں کی وجہ سے بھی ہے جو ان کے ایک اشارے پر جان دینے کے لئے ہمہ تن تیار رہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے شہر کا ایک چھوٹا سا بدمعاش اپنے پرپُرزے نکال رہا تھا اور دادا بننے کے چکر میں تھا۔ انکل کے پہلوانوں نے ا س کی خاصی مرمت کی اور چلتا کیا۔ اس کے بعد تو ا نکل ا ور بھی چوڑ ے ہوگئے۔ اب جو بھی سر ابھارتا ہے انکل اپنے بندے بھیج کر مسئلہ حل کردیتے ہیں۔

ہمارا پورا خاندان انکل کے احسانات تلے دبا ہوا ہے۔ وہ شروع ہی سے ہماری امداد کرتے چلے آئے ہیں۔ کبھی صاف پانی کے مٹکے لے آئے، کبھی کبھار مفت اناج گھر چھوڑگئے اور کبھی دیواروں پر پلسترکرادیا وغیرہ وغیرہ۔ وہ اسی طرح پورے محلے کی مدد کرتے ہیں مگر نہ جانے کیوں کوئی بھی ان پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔

انکل رہتے تو سینکڑوں میل دور ہیں لیکن ابو کے اچھے دوست ہونے کے ناطے جب بھی ان کی تعیناتی علاقے کے حالات درست کرنے کے لئے آس پاس کے علاقوں میں ہوتی ہے تو وہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں۔ اس دوران یوں کہیے کہ ہمارے گھر کی باگ ڈور ان ہی کے ہاتھوں میں رہتی ہے۔ ان کی چمکتی ہوئی آنکھیں ہر چیز پر نظر رکھتی ہیں، کون آرہا ہے، کون جارہا ہے، کیا پک رہا ہے۔ کیونکہ وہ ہم پر کافی پیسے خرچ بھی کرتے ہیں توہم وہی کرتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ مگر اپنا کام ختم ہوتے ہی انکل غائب ہو جاتے ہیں اور پھر برسوں شکل نہیں دکھاتے۔ ان ہی خصوصیات کی بناپر ہم سب انہیں پیار سے ”موسمی انکل“ کہتے ہیں۔

سناہے آج کل رفیقی اور انکل میں خوب ٹھنی ہوئی ہے۔ وہ دونوں چاہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کی کفالت کریں۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف خوب خبریں چھاپتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں اورتجارتی لین دین پر پابندیاں بھی لگاتے رہتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے دو رقیب کسی نوخیز محبوبہ کے عشق میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں! یہ فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ ُروسیاہی کا اعزاز کون حاصل کرے گا!

حال ہی میں انکل نے ہمارے ایک بھاری بھرکم پڑوسی دشمن سے پینگیں بھی بڑھانا شروع کردی ہیں جس پر ہم سب بھائیوں کو بہت تشویش ہے۔ وہ اکثر اس کے گھر آتے جاتے رہتے ہیں اور سناہے اس کے تعاون سے اپنا کاروبار بھی مستحکم کررہے ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب وہ رفیقی کے خلاف کررہے ہیں ہمارے خلاف نہیں۔ واللہ اعلم باثواب!

ادھررفیقی نے ہمارے گھر کی کایا پلٹنے کے لئے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیاہے جس کے تحت دیواریں بنائی جارہی ہیں، رنگ وروغن کیا جارہا ہے، بجلی کی فراہمی کا بہتر انتظام ہورہا ہے، نالیاں پکی کی جارہی ہیں اور ہماری ملازمتوں کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔ ہم سب ان منصوبوں سے بہت خوش ہیں اگرچہ سناہے کہ ان منصوبوں کے اخراجات بھی ہماری جیب سے نکالے جائیں گے، سود سمیت!

اب تک تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ ہمارا پورا گھر دوسروں کی مالی ا مداد سے چل رہا ہے، قرضوں سے یا پھر کرائے کی آمدنی سے۔ ہم نے گھر کے کچھ حصے کرائے پر د ئے ہوئے ہیں اورہمارے کچھ کارندے شہر کے دوسرے محلوں میں کام کرتے ہیں یا دوسروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ بس یہی آمدنی ہے ہماری۔

کچھ لوگ تو یہ بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ ہم اپنا پورا گھر رفیقی کو لیز پر دے دیں تو تمام مسئلے ہی حل ہوجائیں گے!فی الحال تو ہم نے اسے صرف ایک حصہ ہی لیز پردیا ہے، پورا گھر لیز پردینے میں کو ئی مذا ئقہ تو نہیں ہے مگر اس پر ہم نے ابھی سوچا نہیں ہے۔ اسی لئے ہم سب نے فیصلہ کیاہے کہ رفیقی کی حمائت جاری رکھیں گے مگر انکل سے لڑا ئی بھی مناسب نہیں ہے۔ بس ہمارا کام چلتا رہے، یہی بہتر ہے۔ دیکھئے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔