شاعری

سیاسی رہنماؤں کے نام

قیصرعباس

ایک جلسے کے بعد جس میں کئی سیاسی کارکن مارے گئے

کہکشاں پر سوار آیا ہے
رقصِ بسمل کا اہتمام کرو
مرمٹیں گے تمہارے دیوانے
اک تبسم برائے نام کرو

میرے کھنڈرات پر کھڑے ہوکر
تحتِ طاؤس کو سلام کرو
ناظمِ شہر ہو تو یوں ہی سہی
درد بانٹو دکھوں کو عام کرو

خون آشام ہے یہ شام تو کیا
تم نیا جشن صبح و شام کرو
ہار بیٹھے جو نقدِ جاں قیصرؔ
آج کی شب انہی کے نام کرو

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔