تاریخ

عاصمہ جہانگیر اور اوکاڑہ مزارعین کی جدوجہد

فاروق طارق

اوکاڑہ ملٹری فارموں کے مزارعین کی حق ملکیت کی جدوجہد سے ہمارا رابطہ 2001ء میں ہوا۔ انکا ساتھ دینے کا عزم کیا گیا۔ اسی وقت عاصمہ جہانگیرکو تفصیل سے اس جدوجہد بارے بتایا گیا تو انہوں نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔

وہ جب بھی اکاڑہ ملٹری فارمز گئیں تو ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ مزارع عورتیں پیش پیش ہوتیں۔ ان کو بتایا گیا کہ ملٹری فارمز انتظامیہ ہمارے ”مزارع“ کا سٹیٹس تبدیل کر کے ہمیں ”ٹھیکے دار“ بنانا چاہتی ہے تا کہ بعد ازاں ہمیں بے دخل کیا جا سکے۔

مزارعین نے مالکی یا موت کی تحریک کا آغاز کیا اور ملٹری فارمز انتظامیہ نے انکے دیہاتوں کا گھیراؤ کرلیا، یہ جنرل مشرف کا دور تھا۔ اس کے خلاف کوئی بڑی تحریک نہ تھی۔ شاید یہ جنرل مشرف کے خلاف پہلی بڑی عوامی تحریک تھی جس کا آغاز پنجاب سے ہوا تھا۔ مزارعوں نے اس تحریک کاآغاز کیا تو مزارع عورتیں پیش پیش تھیں۔

انہوں نے ایک ”تھاپا“ فورس بنائی ہوئی تھی جو ہاتھوں میں کپڑے دھونے والے تھاپے اٹھا کر پولیس کی دو تین دفعہ خوب دھلائی کر چکی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر ان کسان عورتوں کی جدوجہد سے بہت متاثر تھیں۔

گھیراؤ کے تین مہینوں کے دوران عاصمہ جہانگیر نے چوہدری پرویز الٰہی جو اس وقت وزیر اعلی تھے سے ایک وفد کی صورت میں ملنے کا پلان بنایا تا کہ ان مزارعین کی مدد کا کوئی طریقہ نکالا جائے۔ وفد میں سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر کے ساتھ میں بھی شامل تھا۔ ہم انہیں انکے دفتر میں ملے، ان کو بتایا گیا کہ یہ زمین پنجاب حکومت کی ہے مگر قبضہ ملٹری کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر یہ سمجھو کہ اس زمین کی مالک فوج ہی ہے۔ میں آپکی ملاقات میجر جنرل حسین مہدی سے کراتا ہوں جو اس وقت رینجرز کے سربراہ تھے۔

ہم دوسرے روز میجر جنرل حسین مہدی کے دفتر رینجرز ہیڈ کواٹر پہنچے تو انہوں نے ان چند مزارعین کو بلایا ہوا تھا جو ملٹری فارمز والوں کے ساتھ تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ عاصمہ جہانگیر نے جنرل حسین مہدی کو کہا اگر بات سننی ہے تو ٹھیک ورنہ ہم واپس جاتے ہیں۔ میں مزارعین کے خلاف باتیں نہیں سننے آئی بلکہ مزارعین کے خلاف آپکے اقدامات پر بات کرنے آئی ہوں۔ جنرل صاحب ہکہ بکہ رہ گئے۔ پھر ان چند مزارعین کو باہر نکال دیا جو فوجی ایما پر وہاں آئے تھے۔ جنرل حسین مہدی سے کوئی دو گھنٹے بات ہوئی۔ انہوں نے کچھ باتیں مانیں اور کچھ سے انکار کیا۔

یہ ساری گفتگو میں نے ڈان کے رپورٹر امجد محمود کو بتائی جس نے اگلے روز ڈان میں ساری تفصیل شائع کر دی۔ پھر اسی روز عاصمہ کا مجھے فون آیا۔ یہ ڈان کو خبر کس نے دی ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے ڈان سے بات کی تھی۔ عاصمہ نے مجھے خوب ڈانٹا اور کہا یہ خبر ابھی نہیں دینی تھی۔ میں نے کہا کہ مستقبل میں احتیاط کروں گا۔

اوکاڑہ کے دیہاتوں کا گھیراؤ جاری تھا۔ پنجاب بھر سے پولیس اوکاڑہ میں تھی۔ مشرف آمریت کو کسانوں کی بغاوت کا سامنا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کی جنرل سے ملاقات کے نتیجے میں ان کے گھیراؤ میں کچھ نرمی ہوئی۔ چند روز بعد صورتحال پھر بگڑ گئی۔ میں نے اوکاڑہ کا وزٹ کیا۔ جنرل حسین مہدی سے ایک اور ملاقات کے بعد اور واپسی پر عاصمہ جہانگیر کو بتایا کہ ملٹری ہر صورت اس تحریک کو کچلنے کو تیار بیٹھی ہے۔ وہ مزارعین سے سات سالہ لیز پر زبردستی دستخط کرانا چاہتے ہیں۔ عاصمہ جی نے کہا کہ کل پریس کانفرنس کریں گے۔

اگلے روز لاہور پریس کلب میں بھرپور پریس کانفرنس میں عاصمہ نے آئی اے رحمان اور میرے ہمراہ مزارعین کو ”سرنڈر“ کرنے کی تلقین کی تا کہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس سے اگلے روز خود اوکاڑہ جانے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر ڈان نے بڑی نمایاں شائع کی تو مجھے ایک کرنل سلیم کا دھمکی آمیز فون آیا۔ ”تمہیں پتہ ہے کہ ”سرنڈر“ کے معنی کیا ہیں۔ میرا جواب تھا کیا کچھ یاد آیا؟ کیا یہ آپ کر بیٹھے ہو؟ کیا ہم نے آپ کی کوئی دکھتی رگ پر پاؤں رکھا ہے؟

جب عاصمہ جہانگیر اوکاڑہ ملٹری فارمز پہنچیں تو فوجیوں اور پولیس نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور اپنے حصار میں انہیں مزارعین کو ”سرنڈر“کرتے دیکھایا۔ مزارعین نے انکی بات مان کر سات سالہ لیز پر دستخط کرنے کا اعلان کیا۔

بعد ازاں انہیں اوکاڑہ بدر کیا گیا اور شہر سے باہر چھوڑ آئے۔ واپسی پر انہوں نے بتایا کہ ان دستخطوں کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔ یہ زبردستی لئے گئے ہیں۔ آمریت کے خاتمے سے یہ دم توڑ جائیں گے۔ چند مہینوں میں مزارعین کی تحریک نے اس معاہدے کو ماننے سے یکسر انکار کرتے ہوئے زمینوں پر اپنا کنٹرول جاری رکھا۔

اوکاڑہ کے مزارعین کی یہ تحریک اب بھی جاری ہے۔ جو کام فوجی آمریت کے دوران نہ ہوا وہ میاں نواز شریف کے دور میں ہو گیا۔ یہ وہ میاں نواز شریف ہیں جنہوں نے مشرف دور میں ایک سات صفحے کا بیان مزارعین کے حق میں جاری کیا اور وعدہ کیا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو یہ زمینیں مزارعین کے نام کردی جائیں گی۔

جب ہم 2008ء میں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ میاں نواز شریف اور انکی پوری ٹیم جن میں میاں شہباز شریف، احسن اقبال، خواجہ آصف اور چوہدری نثار سب شامل تھے سے ملے۔ رائے ونڈ کی یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں مسلم لیگ کی قیادت سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرنے کے لئے تھی۔ باہر نکلتے ہی میں نے میاں نواز شریف کو اوکاڑہ بارے اپنا وعدہ پورا کرنے کی یاد دہانی کرائی تو انہوں نے اوکاڑہ مزارعین کی بہت تعریفیں کیں اور کہا کہ وعدہ پورا کریں گے۔ میرا وزٹ کارڈ مانگ کر لیا اور کہا رابطہ کریں گے۔ جو کبھی نہ ہوا۔

عاصمہ مزارعین کے کیس کسی معاوضے کے بغیر لڑرہی تھیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں انہوں نے لگی لپٹی بغیر مزارعین کے راہنماؤں پر غیر انسانی سلوک کی داستان بیان کی اور ہائی سکیورٹی جیل تبدیل کرنے کو کہا۔ چیف جسٹس نے مہر عبدالستار کی بیڑیاں اتارنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت بھی دی۔

ہم بعد ازاں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ عابد ساقی کے ہمراہ ساہیوال پہنچے۔ یہ میرا انکے ساتھ آخری سفر تھا۔ ہائی سکیورٹی جیل میں مہر عبدالستار سے ملاقات نے اس مزارع راہنما کی زندگی کچھ آسان کر دی۔ واپسی پر مزارعین کے گاؤں میں گئے۔ جہاں سینکڑوں مزارع عورتوں نے انکا شاندار استقبال کیا۔

ان کی وفات سے دس روز قبل انکے دفتر میں اوکاڑہ کے وکیل شمشاد کے ساتھ ان سے ملنے گیا۔ تو انہوں نے نور بنی کے علاوہ ملک سلیم جھکڑ کا کیس لڑنے کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ مزارعین کے تمام کیس کروں گی۔ مگر انکی وفات نے یہ مہلت ہی نہ دی۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔