تاریخ

یہ ہوتا ہے سامراج: آزادی کی قیمت 40 ارب ڈالر

فاروق سلہریا

یکم جنوری ہیٹی کا یومِ آزادی ہوتا ہے۔ ہیٹی کئی اعتبار سے ایک شاندار انقلابی تاریخ کا حامل چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کی سب سے بڑی انقلابی اہمیت تو یہ ہے کہ یہ سیاہ فام لوگوں کی پہلی آزاد جمہوریہ تھی۔ 1805ء میں نپولین کی فوج کو شکست دے کر آزادی حاصل کرنے والے ہیٹی نے براعظم ہائے شمالی و جنوبی امریکہ میں آزادی کی تحریکوں کو جلا بخشی۔ اس خطے میں قائم ہونے والی یہ دوسری آزاد جمہوریہ تھی۔

ہیٹی میں جنگِ آزادی کی قیادت فرانسیسی فوج کے پہلی سیاہ فام جنرل، جنرل توسین، نے کی تھی مگر وہ خود صبحِ آزادی نہ دیکھ سکے۔ فرانس سے آزادی کے بعد ہیٹی دنیا کا وہ پہلا ملک بنا جس نے غلامی پر پابندی لگا دی۔

1825ء میں ہیٹی کو سزا دینے کے لئے سامراجی بلیک میلنگ کا ایک بد ترین مظاہرہ سامنے آیا۔ فرانس کے بادشاہ چارلز دہم نے ہیٹی کو دھمکی دی کہ نظامِ غلامی کے خاتمے سے فرانس کو غلاموں کی تجارت سے ہونے والے منافع سے جو نقصان ہوا ہے، اگر ہیٹی نے اسے پورا نہ کیا تو فرانس اس پر حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کر دے گا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ہیٹی نے فرانس کے ایک بینک سے ہی نوے ملین فرانک کا قرضہ لیا اور 1947ء تک یہ قرضہ ادا کرتا رہا۔ اگر ان نوے ملین فرانک کو آج کی کرنسی میں بدلا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہیٹی نے فرانس کی سامراجی بلیک میلنگ اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے 40 ارب ڈالر کا ”تاوان“ ادا کیا۔

پچھلی دو صدیوں سے یہ قرضہ ہیٹی کی معیشت پر وہ بوجھ تھا جس نے آج تک اس انقلابی ماضی کے حامل ملک کو ترقی نہیں کرنے دی۔

تیسری دنیا کی غربت کو بدعنوان حکمرانوں کی بدعنوانی تک محدود رکھنے والے دانشور کلونیل ازم اور سامراج کے کردار کا ذکر ہمیشہ گول کر جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو کہانی ہیٹی کی ہے، وہی کہانی لگ بھگ ہر اس ملک کی ہے جو ماضی میں نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔