تاریخ

فیض احمد فیض اور اکیسویں صدی کا انقلابی شعور!

قیصرعباس

کسے معلوم تھا کہ فیض احمدفیض کی وہی نظم ایک دن ہندوستان میں بھی مزاحمت کا ایک مقبول استعارہ بنے گی جو ان کے اپنے وطن میں بھی ایک عرصے سے آمروں کے خلاف بلندکیے گیے ہر احتجاجی پرچم کا درخشاں ستارہ بن کر ابھرتی رہی ہے:

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

حال ہی میں انڈین ا نسٹیٹیو ٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی )کانپو رکے طلبہ نے ملک گیرمزاحمتی تحریک کا ساتھ دیتے ہوئے جب اپنے احتجاجی جلوس کا آغاز فیض کی اسی مشہور نظم سے کیاتو ان کی درسگاہ نے وہی سلوک ان کے ساتھ بھی کیا جو ہمارے آمراس انقلابی شاعراوراس کے کلام کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔

علم کی اس درسگاہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو دیگر الزامات کے ساتھ یہ بھی تحقیق کرے گی کہ آیا یہ نظم ہندووں کے خلاف لکھی گئی تھی؟ آج ہندوستان میں فسطائیت کا جو ماحول پنپ رہا ہے اس کے پس منظر میں حیران کن بات یہ نہیں کہ نظم کے اس بند کو خاص طورپر قابل ِ اعتراض سمجھاجارہے جس میں ’’ ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے “ کے تصور کو ہندووں کے خلاف نفرت کا پیغام قراردیاجارہا ہے بلکہ ایک علمی و تعلیمی ادارے کا یہ شبہ کہ یہ نظم واقعی ہندووں کے خلاف لکھی گئی تھی، ناقابل یقین ضرور ہے۔

برصغیر میں چونکہ شاعری کو عوامی سطح پرمقبولیت کا درجہ حاصل ہے، یہا ں شعراکا کلام مزاحمتی تحریکوں کا اہم حصہ رہاہے اور مزاحمتی شاعری ثقافتی روایات کا اہم جزو سمجھی جاتی ہے۔ لیکن فیض کی شاعری میں وہ خاص بات کیاہے جس کے بغیر برصغیر کی کوئی مزاحمتی تحریک مکمل نہیں سمجھی جاتی؟ اس سوال کا جواب ان کے کلام کی سچائی، نظریاتی خلوص، سماجی مسائل کا ادراک اور اعلیٰ ادبی معیار میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

مزاحمتی تحریکیں اورشاعری

دنیا کے ہر آمر نے اپنے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو ظلم و ستم سے ختم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے کیا کہیے کہ آمروں کا نام تو وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جاتا ہے مگر ہر بغاوت کے بعد دانشوروں کے حروف اورشاعروں کا کلام لوگوں کے دلوں میں نقش ہوکرآنے والی تحریکوں میں پھر زندہ ہوجاتے ہیں۔ دنیائے عرب میں 1910ءسے شروع ہونے والا موسم بہارایک نئے انقلاب کا پیغام لایا تھا جس میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حصول کی ایک بے کراں تحریک تیونس سے ابھر کر پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پھیل گئی تھی جس کی لپیٹ میں مصر، شام، لبیا، یمن، عراق، اومان، بحرین، لبنان اور دوسرے ممالک بھی آچکے تھے۔ عرب نوجوانوں کی سرکردگی میں عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور مزدوروں کا یہ سیلاب جب تیونس کے گلی کوچوں تک پہنچا تو ہر مردوزن کی زبان پر تیونس کے بیسویں صدی کے ایک مقبول شاعر ابوالقاسم الشابی کے نغمے تھے اور ان کی نظم” دنیا کے ظالموں کے نام“ اب ہر فرد کا نیا ترانہ بن گئی تھی:

ظلم کے سفیرو
ظلمتوں کے نقیبو
زندگی کے رہزنو!
تم جو معصوم لوگوں
کے زخموں پہ ہنستے رہے
رنگتے رہے اپنے ہاتھوں کو
ان کے لہو سے
اسی سرزمیں پر سر اٹھا کر چلے
جس میں بوئیں تھیں تم نے
فصلیں رنج والم کی!

تیونس کے نوجوانوں نے پرانے استحصالی نظام کی جڑیں اکھاڑ کر جمہوریت کی جو داغ بیل ڈالی وہ اس صدی میں کسی معجزے سے کم نہیں۔ نوجوانوں کی یہ تحریکیں اگرچہ تیونس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے دوسرے ملکوں میں کامیاب نہیں ہوسکیں لیکن یہ ان ملکوں کے فرمارواوں کے لئے ایک بھیانک خواب کے طورپرآج بھی زندہ ہیں اور انہیں یاد دلاتی رہیں گی کہ مستقبل قریب میں غریب عوام اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ ان تحریکوں کا ہرپہلو پرامن جدوجہد اور نئی نسل کے انقلابی شعور کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

آج ہندوستان اور پاکستان میں بھی اردو اور ہندی شعرا کے گیت اور ترانے نوجوانوں کی تحریکوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ دونوں ملکوں میں فیض کے علاوہ حبیب جالب اور بسمل عظیم آبادی جیسے شعراکاکلام بھی عوامی جلوسوں اور احتجاجی نعروں کا اہم حصہ بن گیاہے۔ جنرل ایوب خان کے خلاف لکھی حبیب جالب کی نظم ” میں نہیں مانتا ایسے دستورکو“ ہندوستان کے نوجوانوں کی زبان پر ہے۔ ادھر پاکستان میں بھی بسمل عظیم آبادی کی نظم ”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے“ بھی نہ صرف سڑکوں پر احتجاجی جلوسوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی نوجوانوں کامقبول ترانہ ہے۔

اکیسویں صدی کا انقلابی شعور اور فیض

فیض کی پوری زندگی اور کلام ان ہی نظریات کا آئینہ دارہے جو آج کی نئی نسل کی تحریکوں کا مرکزی تخیل ہے۔ ماسکو میں لینن امن ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آمریت، ظلم اور استحصال کی پرزور مخالفت کی تھی اور آزادی کو انسانیت کا مستقبل قراردیتے ہوئے کہاتھا:

”یوں تو ذہنی طورپر مجنوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ سبھی لوگ مانتے ہیں کہ امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیزہے اور سبھی تصور کر سکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں، سفیدے کے درخت دلہن کا آنچل ہیں، بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ شاعر کا قلم ہیں، مصور کا موئے قلم اور آزادی ان سب صفات کی ضامن اور غلامی ان سب خوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اور حیوان میں تمیز کرتی ہے۔ یعنی شعور اور ذہانت، انصاف اور صداقت، وقار اور شجاعت، نیکی اور رواداری۔ ۔ اس لئے بظاہر امن اورآزادی اور اس کے حصول اور تکمیل کے متعلق ہوشمند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔“

یہ تقریر جو اردو میں تھی، آج بھی دنیا میں امن کے قیام پر ایک یادگار دستاویز ہے جس میں امن اور جنگ کو بیسویں صدی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:

”آج کل جنگ اور امن کے معنی ہیں ابنِ آدم کی بقا اور اور فنا۔ ان دو لفظوں پر انسانی تاریخ کے خاتمے کا دارومدار ہے، انہیں پر انسانی سرزمین کی آبادی اور بربادی کا دارو مدار ہے۔“

فیض ایک انقلابی مفکر اور شاعر کی حیثیت سے محبت اور سماجی ہم آہنگی کے پیروکار ہیں۔ وہ معاشرے میں ظلم وتشدد سے مقابلے کا پیغام ضرور دیتے ہیں مگر ان کی شاعری دھیمے سروں میں انسانیت کا وہ گیت ہے جس میں امن اور عدم تشدد کے ذریعے جدوجہدکی تلقین موجودہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جگہ جگہ نوجوانوں کو بھر پور خراجِ تحسین پیش کیا اورانہیں امید کی وہ کرن قراردیا ہے جو معاشرے میں تبدیلی کا مخزن ہے۔

1953ءمیں جب فیض پابندِ سلاسل تھے، ایران میں ایک نئی سامراجی چال کھیلی جارہی تھی اور امریکہ اور برطانیہ ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریوں میں تھے۔ اس نئے کھیل میں ایرانی وزیرآعظم مصدّق کی حکومت کو برطرف کرکے شاہ ایران کے ہاتھ مضبوط کیے جارہے تھے لیکن شاہ کو ایک ملک گیر تحریک کے بعد ملک چھوڑنا پڑا۔ نئی نسل کی تحریک کو اس سازش کے خلاف احتجاج کی پاداش میں بڑی بے دردی سے کچل دیا گیا جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے قربانی دی اورشاہ کو دوبارہ مسندِ شاہی پر بٹھا یا گیا۔ فیض نے ایرانی نوجوانوں کے اس قتل عام پر ”ایرانی طلبہ کے نام“ ایک نظم میں نئی نسل کی قربانی اور ان کی شجاعت کو ہیرے موتیوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا:

اے ارض عجم، اے ارض عجم!
کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دئے
ان آنکھوں نے اپنے نیلم
ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں
ان ہاتھوں کی ”بے کل چاندی
کس کام آئی کس ہاتھ لگی“

بیسویں صدی کے اس انقلابی شاعر کا یہ اعلان کہ نسل نو ہر ملک وقوم کے لئے ہیرے موتیوں کی طرح ہے جسے بادشاہت یا آمروں کی چوکھٹ پر قربان کرنا ایک ایسا المیہ ہے جس کے نتائج خطرناک بھی ہوسکتے ہیں، آج کی اکیسویں صدی میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح ماضی میں تھا۔

فیض کی ایک اور نظم ”تین آوازیں“ ظلم اور آزادی کے تصور کو موثر انداز میں تین حصوں میں بیان کرتی ہے، ظالم، مظلوم اور ندائے غیب۔ پہلے حصے میں ظالم کی درندگی کو اسی کی آواز میں یوں طشت ازبام کیا گیا ہے:

جشن ہے ماتم ِامید کا آو لوگو
مرگِ انبوہ کا تہوار ہے آو لوگو
عدم آبا د کو آباد کیا ہے میں نے
جلوہِ صبح سے کیا مانگتے ہو؟
بستر خواب سے کیا مانگتے ہو؟

اس حصے میں نمرود کی طرح چنگھاڑتا ہوا ظالم کہہ رہاہے کہ اب کسی شاخ پر پھولوں کی حنا اور گہر کی کوئی برکھا نہ آسکے گی۔ نظم کے دوسرے حصے میں مظلوم خود پر جورو ستم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھ کر خدا سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں:

یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر
یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر
کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تونے؟
ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تونے!

پھربے بسی کے لہجے میں خدا سے شکایت کچھ اس اندازمیں سنائی دیتی ہے:

گریہ سچ ہے توترے عدل سے انکار کروں
ان کی مانوں کہ تری ذات کا انکارکروں

نظم کے آخری حصے میں ”ندائے غیب “ اپنا فیصلہ سناتی ہے:

ہر اک اولی الامر کو صدادو
کہ اپنی فرد ِ عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جمع سرفروشاں
پڑیں گے دارورسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچالے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں پہ اٹھے گا روزِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

یہ نظم ہر عہد کی تاریخ ہے جہاں ہر ظالم کا اختتام اسی رسم سے ہوتا ہے جس کی اس نے بنیاد رکھی تھی۔ آج کے دور میں مشرق وسطیٰ، برصغیر اور دنیا کے دوسرے حصوں میں نئی نسل نے جس طرح سیاسی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آمریت کے ہتھکنڈوں کو چیلنج کیاہے، یہ نظم بھی اسی داستان کو رقم کررہی ہے اور دنیا کے تمام ستم گروں کے لئے عبرت ناک انجام کی پیش گوئی بھی ہے۔

ان کا کلام اور تحریریں جہدِ مسلسل، انقلاب، امن اور عدم تشددکا پیغام ہیں جو آمریت اور ناانصافیوں کے خلاف آوازاور آنے والے کل میں بہتری کی نوید لئے ہوئے ہیں۔ بیسویں صدی کے اس شاعرنے اپنے ماحول میں آمریت اور سیاسی و معاشی استبداد کے خلاف بھرپور آواز بلند کی اور اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافیوں کو ختم کرنے کا خواب دیکھا۔ اپنی نظم ”ہم تو مجبورِوفا ہیں“ کے آغاز میں وہ وطن کے ارباب ِ اختیار سے گلہ کرتے نظرآتے ہیں:

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض ِوطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کریں
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا
کتنے آنسو ترے صحراوں کو گلزار کریں

فیض اور ان کے ہم عصر دانشوروں اور شعرا نے اپنے اپنے انداز میں آنے والے طوفانوں کا نہ صرف ادراک کیا بلکہ ان سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی دیا تھا۔ آج نوجوان نسل کی ان تحریکوں کو وہ یہ بھی یاددلاتے ہیں کی ابھی جمہوریت کی منزل قریب نہیں آئی :

آج کے دن نہ پوچھو مرے دوستو
زخم کتنے ابھی بخت بسمل میں ہیں
دشت کتنے ابھی راہِ منزل میں ہیں
تیر کتنے ابھی دستِ قاتل میں ہیں

برصغیر کا یہ لازوال شاعر جب آمریت، ظلم اور آزادی کی بات کرتا ہے تو وہ صرف جنوبی ایشیا کی نہیں پوری دنیا کی کہانی بیان کرتا ہواآزادی اور امن کا پیغام سناتا ہے۔ بقول شارب ردولوی:

”فیض کی شاعری کی ایک مخصوص جہت زندگی کو زیادہ خوبصورت اور دلکش، دنیا کو پر امن اور پرمسرت، بنی نوع انساں کو خوف، جنگ اور ظلم سے بے نیاز دیکھنے کی خواہش ہے۔ یہ خواہش فیض کی یہاں ا س قدر شدید ہے کہ شاید ان کے تمام جذبوں پر حاوی ہے۔“

ہم دیکھیں گے!

ہندوستان میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کی جانب سے فیض کی اس شہرہ آفاق نظم کو مذہبی تعصب قراردینافیض جیسے انقلابی اور ترقی پسند دانشورکے نظریات کے بالکل برعکس ہے جس نے ساری زندگی ہر قسم کی تفریق اور منافرت کو غیر انسانی فعل قراردیا۔ 1979ء میں لکھی گئی نظم ” ہم دیکھیں گے“ نے اپنے دور کے بدترین آمرجنرل ضیاالحق کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا جس نے شاعری کی طاقت سے خوف زدہ ہوکراسے ممنوع قراردیا اور ان کے مجموعہ کلام سے خارج بھی کردیاتھا۔ اسی نظم کو اس وقت کی مشہور مغنیہ اقبال بانو نے اپنی خوبصورت آواز کے سانچے میں ڈھال کر آمریت کو چیلنج بھی کیا تھا جس کی بازگشت آج ہندوپاک میں پھر سنائی دے رہی ہے:

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
ہم دیکھیں گے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑجائیں گے
ہم محکوموں کے پا وں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
ہم دیکھیں گے
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے

فیض کی یہ نظم آمروں کے خلاف وہ نعرہ ہے جس کی اہمیت اکیسویں صدی میں کچھ اور بڑھ کربرصغیر کے کئی ملکوں میں مزاحمت کاایک ان مٹ استعارہ بن چکی ہے۔ اس نظم کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ وہ احتجاجی رویوں کو ایک پرامید مستقبل کا خواب دکھاتی ہے اور ایک طاقتور اور جابرگروہ کی شکست کا اعلان بھی کررہی ہے۔ نظم میں بیان کی گئی یہ پیش گوئی کہ آنے والی نسل ایک نئے انقلابی دور کی بشارت دے گی اور ایک دن آمروں اور شاہوں کی جگہ عوام کا راج ہوگا، نوجوانوں، غریبوں اور عوام الناس کو ایک نئی طاقت اور ایک نیا حوصلہ دیتی ہے۔

2019ءکا ڈوبتا ہوا سورج ہمیں یاددلاگیا ہے کہ آ ج کا نوجوان اپنے معاشرے میں دیرپا تبدیلیوں کا خواہاں ہے۔ ہندوستان سے پاکستان تک اور عراق سے ایران تک وہ نوجوان نسل جو بیرونی اور اندرونی سازشوں، غربت اورمعاشی ناانصافیوں سے تنگ آچکی ہے، ایک نئے مستقبل کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن تبدیلی کا یہ سیلاب اب صرف ترقی پذیر ملکوں تک محدود نہیں، مغربی محازوں پر بھی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ دنیابھر میں اکیسویں صدی کی نئی نسل کی ایک بڑی تعداد ہے جو سوشلزم کے علاوہ کسی اور نظریے کو قبول کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ طبقاتی استحصال کو ختم کرکے ایک نیا اور سستا نظام تعلیم، انصاف پر مبنی نیا معاشی ڈھانچہ، صحت عامہ کی نئی حکمتِ عملی اورمساوات کی بنیاد پر ایک نیا سیاسی نظام متعارف کیا جائے جو کارپوریشنز کے ہاتھوں غریبوں کااستحصال ختم کرکے ان کی زندگی کو آسان بنائے۔

بیسویں صدی کے شاعر فیض احمد فیض کا پیغام بھی یہی تھا اوریہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نوجوانوں کی آواز بن کراکیسویں صدی میں بھی زندہ و پائندہ ہے۔ فیض حالات کی تاریکی میں بھی امید کی ایک شمع روشن رکھتے ہیں اور یہی ان کی شاعری کا سب سے بڑا فیض ہے۔ انتقال سے پہلے ان کے آخری مشاعرے کی غزل کا آخری شعر تھا:

حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے، ہرچند کہ کم ہے

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔