شاعری

غزل

قیصر عباس

ساحل پہ اترنے کے اشارے نہیں ملتے
اک بار جو لوٹ آئیں، کنارے نہیں ملتے

ہم آ تو گئے چل کے سرِ کوئے شبستاں
وہ در، وہ دریچے، وہ منارے نہیں ملتے

وہ لُوٹ گئے نقدِ دل وجاں کے خزانے
بازار میں اب خواب ہمارے نہیں ملتے

ڈھونڈے سے نہ مل پائیں گہر حرفِ وفا کے
ان کہنہ جریدوں کے شمارے نہیں ملتے

شوریدہ صداؤں کے تعاقب میں صبح و شام
اے راحت ِجاں، دل کے سہارے نہیں ملتے

اب خشک زمینوں پہ اگائے گا شجر کون
اس گاؤں سے دریاؤں کے دھارے نہیں ملتے

اک خاک سی اڑتی ہے ہراک موڑ پہ قیصر
اس دور کے منظر میں نظارے نہیں ملتے

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔