خبریں/تبصرے

ٹرمپ نے جون 2019ء میں جنرل سلیمانی کے قتل کی منظوری دی

عدنان فاروق

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ نے کئی موقف بدل لئے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ جنرل قاسم سلیمانی امریکی اہداف بالخصوص امریکی سفارت خانے پرحملوں کے منصوبے بنا رہے تھے۔ جب ثبوت مانگے گئے تو ثبوت ندارد۔ جس کو سیکرٹری دفاع مارک ایسپر نے بھی تسلیم کیا کہ مبینہ منصوبوں کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

اس کے بعد صدر ٹرمپ نے کہنا شروع کر دیا کہ ”اس سے فرق نہیں پڑتا“ کہ جنرل سلیمانی نے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی تھی یا نہیں۔ پیر کے روزصدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ”ہم نے سلیمانی کو مار دیا، و ہ دنیا کا نمبر ون دہشت گرد تھا۔ اس نے بے شمار امریکی مارے اوربہت سے لوگوں کو مارا“۔

ادھر، این بی سی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا منصوبہ گذشتہ سال جون میں بنایا گیا اور صدر ٹرمپ نے جون 2019ء میں ہی سات ماہ پہلے منظوری دے دی تھی۔

یہ منصوبہ اس وقت بنایا گیا جب ایران نے امریکہ کا ایک ڈرون مار گرایا تھا جو مبینہ طور پر ایرانی حدود میں گھس آیا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ امریکی شہریوں یا فوجیوں کو خلیج میں نشانہ بنایا تو جنرل سلیمانی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ نئے سال کے آغاز پر جب بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا تو جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کی حتمی منظوری وائٹ ہاؤس سے جاری ہوئی۔

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔