خبریں/تبصرے

فیصل واڈا کی حرکت پر طلعت حسین کی پریشانی

فاروق سلہریا

تین دن قبل اینکر پرسن کاشف عباسی کے ٹاک شو میں فیصل واڈا نے میز پر فوجی بوٹ کی نمائش کر کے جس حرکت کا ارتکاب کیا، اس پر اور لوگوں کے علاوہ، کچھ معروف اینکر پرسن بھی اعتراض کر رہے ہیں۔ اتفاق سے اخلاقیات اور صحافتی اقدار پر درس دینے والے یہ اینکر پرسنز وہ حضرات ہیں جو آج کل اسٹیبلشمنٹ کی نظر خاص اور التفات سے محروم ہیں۔

ایسے ہی اینکر پرسنز میں ایک طلعت حسین ہیں۔ جب سے ان کی نوکری گئی ہے، انہیں آزادی صحافت اور صحافتی اقدار کی بہت فکر ہونے لگی ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں فیصل واڈا کی حرکت کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”ایسی گھٹیا حرکت انہوں نے ٹیلی ویژن پر کبھی نہیں دیکھی“۔ موصوف کی یاداشت اچھی نہیں یا گھٹیا اور اعلیٰ کا ان کا معیار بہت عجیب ہے۔

میرے خیال سے فیصل واڈا کی گھٹیا حرکت سے کہیں زیادہ گھٹیا حرکت لوگوں کو گمراہ کرنا، سازشی نظریات پھیلانا، حکمران طبقات کی سوچ کو عام کرنا اور میڈیا مینیپولیشن (Media Manipulation)ہے۔

طلعت صاحب! کچھ یاد ہے جب بمبئی پر حملہ ہوا تھا توآپ ٹیلی ویژن کی اسکرین سے ہمیں بتا رہے تھے کہ اجمل قصاب دراصل ہندو ہے۔ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تو آپ ان بیس بائیس ”صحافیوں“ میں سے ایک تھے جنہیں آئی ایس پی آر بلا کر بریفنگ دی گئی جس کے بعد ایک سے ایک نایاب سازشی تھیوری آپ لوگوں نے پیش کی تا کہ عوام کا غصہ ٹھنڈا کیا جا سکے اور غصے کا رخ موڑا جا سکے۔ آپ فرما رہے تھے کہ اسامہ بن لادن تو ایبٹ آباد والے اس گھر میں رہتا ہی نہیں تھا کیونکہ اسامہ بن لادن جیساارب پتی عرب اس معمولی سے گھر میں کیسے رہ سکتا ہے۔

طلعت صاحب! بوٹ پالش کرنے والے سازشی نظریات (یعنی سفید جھوٹ) پیش کرنابوٹ کی نمائش سے کہیں زیادہ گھٹیا حرکت ہے۔

سچ پوچھیں تو میری عاجزانہ رائے میں فیصل واڈا کی حرکت اتنی گھٹیا نہیں ہے کیونکہ اس نے سر عام اپنے موچی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اصل گھٹیا حرکت ہوتی ہے کہ انسان موچی بھی ہو، آئی ایس پی آر سے بریفنگ بھی لے اور صحافتی لبادہ بھی پہنے رہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔