خبریں/تبصرے

لاہور: ”عدم مساوات کے عالمی ہفتہ احتجاج“ کے موقع پر پریس کانفرنس کا انعقاد

لاہور (پریس ریلیز) 19 جنوری 2019ء کو لاہور پریس کلب میں مزدور اور سماجی راہنماؤں نے ”عدم مساوات کے عالمی ہفتہ احتجاج“ کے مواقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی پالیسیوں اور معاشی اقدامات کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا میں عدم مساوات اور غربت بڑھ رہی ہے۔ ان کا فائدہ صرف مٹھی بھر کچھ لوگوں کو ہوتا ہے جبکہ 99 فیصد کی دولت پر قابض ایک فیصد لوگوں کا گروپ ہے۔ ان 99 فیصد لوگوں کوبنیادی سہولیات تک سے محروم رکھا جاتا ہے۔ 2018ء میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح پہلے سے بڑھ چکی ہے۔ معاشی ترقی تبدیلی آنے کے دعویٰ کے باوجود اس کا فائدہ عام انسانوں کو نہیں ہوا بلکہ اس کا فائدہ امیر لوگوں کو ہے جوپہلے ہی سے ملکی دولت پر قابض ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق دن بدن بڑھ رہا ہے جوکہ کافی تشویش ناک بات ہے۔ آج معیشت میں ترقی کامطلب ہے امیر اور غریب کے درمیان فرق کا مزید بڑھ جانا۔ پاکستان میں 38.8 فیصد لوگ کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے ان لوگوں کی نہ صرف ماہانہ آمدنی کم ہے بلکہ دوسری بنیادی ضرورتوں تک رسائی بھی انکا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان میں سے 12 فیصد لوگ تو انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کو خوراک تک بھی میسر نہیں ہے۔ پاکستان میں پدرشاہی نظام بھی امیر اور غریب کے درمیان فرق کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس پدرشاہی نظام کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق ہمیشہ خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ امیرلوگ تمام بنیادی وسائل جیسے خوراک، پانی، صحت اورتعلیم پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور ملازمت کے مواقع دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔ مزدوروں کو اجرتیں بہت کم دی جاتی ہیں جبکہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں اور بھی کم اجرت دی جاتی ہے جیسا کہ جنوبی ایشیا میں عورتوں کومردوں کے مقابلے میں 35 فیصد اجرت دی جاتی ہے جبکہ پوری دنیا میں یہ عدم برابری 24 فیصد تک ہے۔ عورتوں کو نہ صرف معاشی استحصال بلکہ معاشرتی استحصال کا سامنا بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ عورتیں گھروں میں بیٹھ کر جوکام کرتی ہیں اوراسے سمجھا جاتا ہے کہ یہ انکا بنیادی فرض ہے جبکہ دنیا بھرمیں گھریلو کام کاج کے لیے اگر ملازم یا ملازمہ رکھی جائے تو انہیں اجرت دینی پڑتی ہے۔ عورتوں کے گھریلو کام کاج کوکام نہیں گردانا جاتا اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر کی معیشت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ بھی عدم مساوات اور نا برابری کی ایک شکل ہے۔ اس عدم مساوات کی وجہ سے ملازمتوں کا حصول مشکل سے مشکل تک ہوتا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے غیررسمی شعبہ بڑھتا جارہا ہے۔ غیررسمی شعبے میں عورتوں کا حصہ مردوں سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ غیررسمی شعبے کے بڑھنے کی وجہ سے مزدور کااستحصال زیادہ آسان ہے کیونکہ اجرت کاکوئی پیمانہ نہیں اور ٹھیکیدار اپنی مرضی سے جو چاہے کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیررسمی شعبے میں کام آنے والے مزدوروں کو سوشل سکیورٹی کی سہولت بھی میسر نہیں۔ ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے بھی پاکستان شدید عدم مساوات کا شکار ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 17سے 20 فیصد تک ٹیکس ماچس کی ڈبیا پر بھی وصول کیاجاتا ہے جبکہ بڑی بڑی کمپنیوں اورتاجروں کوٹیکس کے حوالے سے چھوٹ دے دی جاتی ہے اور یہ چھوٹ ان کی دولت میں مزید اضافے کاسبب بنتی ہے۔ عام آدمی سے جوکہ غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہا ہے خوراک کی بنیادی اشیا پر بھی ٹیکس وصول کیاجارہا ہے جوکہ بہت ناانصافی اورظلم کی بات ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی پاکستان میں عام لوگ شدید مسائل کا شکار ہیں۔ صحت اور تعلیم پر حکومت بہت کم خرچ کررہی ہے جس کی وجہ سے پرائیوٹ ہسپتال اور سکول بڑھ رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں اور سکولوں کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں جس کی وجہ سے صحت اور تعلیم عام آدمی کے لیے ایک خواب بنتی جارہی ہے۔ اس ساری صورت حال کوسامنے رکھتے ہوئے ’’Fight Inequaliy Alliance‘‘ ”عدم مساوات کے خلاف اتحاد“ جوکہ عالمی سطح بڑھتی ہوئی ہر طرح کی عدم مساوات کے حوالے سے ایک مہم ہے۔ انہوں اس کو دنیاکے سامنے نمایاں کرنے کے لیے جنوری 2020ء میں اس کے خلاف جدوجہد کا عالمی ہفتہ منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پوری دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیاں، جلوس، تھیٹراور پرامن احتجاج کے ذریعے اس ہفتے کو منایا جارہاہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان میں بھی یہ ہفتہ منایا جارہا ہے اور پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج اور پریس کانفرنس کے ذریعے اس معاشی ناہمواری اور عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔ آپ بھی ہمارے ساتھ اس جدوجہد کا حصہ بنیں اور اس عدم مساوات کو ختم کرنے میں سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔

”ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے ایک کھیت نہیں ایک دیس نہیں ہم ساری دنیا مانگیں گے“

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے:

ڈاکٹرعمار علی جان (حقوق خلق موومنٹ)، خالد محمود (لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن)، فاروق طارق (پاکستان کسان رابطہ کمیٹی)، صائمہ ضیا (پاکستان کسان رابطہ کمیٹی)، نیاز خان (پروگریسو لیبر فیڈریشن)، حسن محمد رانا(پروگریسو لیبرفیڈریشن)