سماجی مسائل

وزیر اعظم کے جنسی تعصب پر مبنی رویے اور خلیل الرحمٰن قمر کی عورت دشمنی میں کوئی فرق نہیں

فاروق سلہریا

گذشتہ روز پاکستانی اور بھارتی مین اسٹریم میڈیا میں وزیر اعظم عمران خان کے شوکت خان ہسپتال کی نرسز سے متعلق نازیبا کلمات ایک نمایاں خبر بنے رہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بھی ان کے کلمات موضوعِ بحث رہے۔

میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ”2013ء میں جب وہ ایک جلسے کے دوران سٹیج سے گر پڑے تو وہ شدید تکلیف میں تھے مگر جب انہیں شوکت خانم ہسپتال میں درد کُش ٹیکا لگایا گیا تو سب درد ختم ہوگیا اور انہیں ہسپتال کی نرسیں حوریں دکھائی دینے لگیں“۔ ان کے یہ کلمات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب میڈیا پر پہلے سے خلیل الرحمٰن قمر کے ٹیلی ڈرامے”میرے پاس تم ہو“ کی وجہ سے ایک بحث چل رہی ہے۔

افسوس عمران خان کے کلمات پر ہنوز میڈیا میں کوئی سنجیدہ بحث دکھائی نہیں دی۔ توقع کی جاتی ہے کہ مین اسٹریم میڈیا میں ان افسوسناک کلمات پر آنے والے دنوں میں ایک سنجیدہ بحث ہو گی اورفیمن اسٹ حلقے نہ صرف وزیر اعظم کے اس بیان کی مذمت کریں گے بلکہ اس حوالے سے بھی ایک علمی بحث کو آگے بڑھائیں گے کہ جب ملک کا وزیر اعظم ایسے بیانات جاری کرتا ہے تو اس کا کیا نقصان ہوتا ہے۔

سب سے افسوسناک بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کا بیان محنت کش اور کارکن عورت بارے ان کے جنسی تعصب پر مبنی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پیرا میڈیکل سٹاف میں کام کرنے والی خواتین کو مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتالوں کے اندر بھی ان کے بارے میں گھٹیا جملے، ان پر اخلاقی و جنسی حملے اور ان کے بارے میں یہ عورت دشمن رویہ ایک معمول ہے۔ وزیر اعظم کا جملہ اسی عامیانہ پن کا اظہار ہے مگر جب ملک کا وزیر اعظم عامیانہ پن کا مظاہرہ کرے گاتو پھر عام شہری کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ عامیانہ پن والا یہ رویہ جائز ہے۔ آخر حکومت اور ریاست کا ایک معلمانہ کردار بھی ہوتا ہے۔

ستم ظریفی یہ کہ عمران خان نے یہ کلمات شوکت خانم ہسپتال کی نرسز کے متعلق کہے۔ وہ اس ہسپتال کے بانی ہیں۔ ان کے اس ہسپتال کی وجہ سے انہیں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب وہ کس منہ سے لوگوں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کا ہسپتال عورتوں کے لئے کام کرنے کے حوالے سے ایک محفوظ جگہ ہے۔

دوسرا اہم نقطہ اس عورت دشمن رویے کا طبقاتی پہلو ہے۔ عمران خان نے لیڈی ڈاکٹرز کے بارے میں یہ جملہ نہیں بولا۔ ہمارا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لیڈی ڈاکٹرز کے بارے میں ایسا کہنا کوئی کم گھناؤنا فعل ہوتا۔ ہم صرف اس طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ نرسز معاشرے کے پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیڈی ڈاکٹرز اکثر متوسط اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم جس طرح کی سوچ کا برملا اظہار کرتے ہیں اس کے پیشِ نظر اس مسئلے کا طبقاتی پہلو انتہائی اہم ہے۔

تیسرا پہلو: ان کا بیانیہ عورت کو جنس بنا کر رکھ دیتا ہے۔ عورت نرس کے روپ میں کتنا ہی اہم ترین کام کیوں نہ سر انجام دے رہی ہو، عمران خان جیسے طاقتور مرد کی نظر میں عورت جنسیت کا استعارہ ہی بنی رہتی ہے۔ جب عورت کو اس طرح ایک جنس بنا کر پیش کیا جائے تو اس کے خلاف نہ صرف تشدد بلکہ اس کے خلاف جنسی ہراسانی کا کلچر بھی ایک عمومی، جائزاورروزمرکا معمول والی بات بن جاتا ہے۔

افسوس پاکستان وہ ملک ہے جہاں عورت کے خلاف تشدد، اس کے حقوق کی نفی، اس سے امتیازی سلوک کے تمام پیمانے پاکستان کو ایک عورت دشمن ملک ثابت کرتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ عمران خان اور خلیل الرحمٰن قمر کے بیانئے میں رتی برابر فرق نہیں۔ دونوں عورت کو ایک جنس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمران خان نے بظاہر مذاق میں بات کی ہے جبکہ خلیل الرحمٰن قمر ان کے اپنے بقول ”فیمن ازم سے پاکستان کو بچانے“کے لئے قلمی جدوجہد کر رہے ہیں۔

دونوں ہی پاکستان میں صنفی برابری کی جدوجہدکے لئے انتہائی مضر ہیں۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔