خبریں/تبصرے

محسن ابدالی کو فوری رہا کیا جائے‘ نوجوان رہنماؤں کا مطالبہ

فاروق طارق

نوجوان انقلابی رہنما محسن ابدالی کو آج صبح سویرے چار بجے مغل پورہ لاہور میں اس کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ دو بڑی جیپوں میں سوار افراد جو وردی میں نہیں تھے گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ محسن کے والد سے بدتمیزی کی اور محسن کا ٹیلیفون اور لیپ ٹاپ بھی اٹھا لیا اور اسے زبردستی جیپ میں بٹھا کر چلے گئے۔

اس علاقے کے پولیس سٹیشن سے رابطے پر معلوم ہوا کہ یہ پولیس کی کاروائی نہ تھی۔ اب لاہور میں بھی صبح سویرے نوجوانوں کو اٹھائے جانے کا رواج ڈالا جا رہا ہے۔

محسن ابدالی پنجاب یونیورسٹی شعبہ زراعت میں ایم فل کا طالب علم ہے اور پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کا رہنما ہے۔ کل 29 جنوری کو اس نے طارق علی کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی تھی بعدازاں اسلام آباد میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں لاہور پریس کلب کے باہر شرکت کی۔ اس نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا اور کہا تھا کہ”پرامن احتجاج ہر شہری اورنوجوان کا حق ہے اور اس حق کو ہم سے چھینا نہیں جا سکتا“۔

محسن ابدالی اس بات پر احتجاج کرتا تھا کہ بندوں کو اٹھانا اور احتجاج پر بندے گرفتار کرنا بند کرو، اس کے علاوہ اس کا کوئی اور جرم نظر نہیں آتا۔

محسن ابدالی کے دوست اور ان کے ساتھی اب قانونی کاروائی کے لئے اپنے وکلا سے مشورہ کر رہے ہیں۔ محسن کے اٹھائے جانے کی خبر تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہے۔ ٹویٹر پر اب یہ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے اور فیس بک بھی اس خبر سے بھری نظر آ رہی ہے۔

محسن ابدالی 29 نومبر 2019ء کو طلبہ کے لاہور مارچ کے منتظمین میں سے ایک تھااور ہمیشہ آئین کی حکمرانی پر زور دیتا تھا۔

ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے محسن ابدالی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس پر کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔