خبریں/تبصرے

سرمایہ اور محنت؟ جیف بیزوس نے 15 منٹ میں 13 ارب ڈالر کما لیے

فاروق سلہریا

جمعرات کی شام کو نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹ بند ہونے کے آخری پندرہ منٹ میں ایمازون کے حصص بڑھنا شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حصص کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی۔ ایمازون کے شیئر ایک ٹریلین ڈالر سے اوپر چلے گئے۔ یہ چوتھی امریکی کمپنی ہے جس کی اسٹاک مارکیٹ میں قیمت ایک ٹریلین سے زائد ہے۔ بلومبرگ کے بقول آخری پندہ منٹ میں جیف بیزوس کی آمدن میں 13.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گیا۔

یاد رہے، جیف بیزوس اس وقت دنیا کا امیر ترین آدمی ہے۔ وہ 129 ارب ڈالر کا مالک ہے۔ اس کی سابقہ بیوی نے بھی ان پندرہ منٹوں میں چار ارب ڈالر کے لگ بھگ کما لیے کیونکہ اگر جیف بیزوس کے پاس ایمازون کے بارہ فیصد حصص ہیں تو اسکی سابقہ بیوی کے پاس بھی چار فیصد حصص ہیں۔ وہ دنیا کی 24 ویں امیر ترین عورت ہے۔

چند ماہ قبل ہم نے ”روزنامہ جدوجہد“ میں یہ خبر دی تھی کہ 2018ء میں جیف بیزوس نے ایک ٹکے کا ٹیکس امریکی ریاست کو نہیں دیا۔ اس نے ملک کے مہنگے ترین وکیلوں کی خدمات حاصل کیں، انکم ٹیکس قوانین میں خامیاں ڈھونڈیں اور سارا ٹیکس بچا لیا۔

اب ذرا سوچئے میں اور آپ، مزدورو اور کسان، ہم ایک کروڑ سال بھی محنت کرتے رہیں تو اتنا پیسہ نہیں کما سکتے جتنا جیف بیزوس نے محض پچھلے سال ٹیکس کی صورت میں چوری کر لیا یا دو دن پہلے صرف پندرہ منٹ میں کما لیا۔ میں آپ تو کیا، ہم جیسے کروڑوں مزدور کسان کلرک، استاد انجنیئراور ڈاکٹر بھی ”محنت“ اور ایمانداری سے اتنے پیسے نہیں کما سکتے جو جیف جیسے لوگ چند منٹ میں ہتھیا لیتے ہیں۔ اسی کا نام سرمایہ داری ہے۔ یہ لوگ اس لئے امیر نہیں کہ یہ محنت کرتے ہیں بلکہ اس لئے امیر ہیں کہ انہوں نے ٹیکس چوری کیے، مزدوروں کی محنت چوری کی اور ان کے پاس طاقت ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لیجئے۔ کیا کوئی سچ میں یہ سمجھتا ہے کہ جہانگیر ترین، شریف، گجرات کے چوہدری، ملک ریاض اور بعض سابق جرنیل اس لئے امیر ہیں کہ وہ بہت محنتی اور ذہین یا ”ایماندار“ تھے؟

ابھی چند دن پہلے امریکی سوشلسٹ رکن کانگریس الیگزنیڈرا اوکاسیو کورٹیز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ”انسان سو ارب ڈالر کماتا نہیں، ہتھیاتا ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔