دنیا

اہلِ عراق امریکہ اور ایران دونوں سے نجات چاہتے ہیں

جلبیر اشقر

ترجمہ: فاروق سلہریا

بشکریہ : لی ماند دپلاماتیک

تلوار بازی کا جو تماشا روایتی طور پر خلیجی ممالک میں ہوتا ہے، کبھی دیکھنے کا اتفاق ہو تو لگتا ہے کہ دو خونی دشمن ایک دوسرے کے در پے ہیں مگر حقیقت میں دونوں تلوار بازوں کے مابین گہرا تال میل ہوتا ہے۔

بہت سے عرب سمجھتے ہیں کہ عراق میں ایران امریکہ تنازعہ اسی قسم کی کوریوگرافک تلوار بازی ہے۔ سازشی تھیوریاں پیش کرنے والے تو کہتے ہیں کہ دونوں کے بیچ ایک معاہدہ ہے۔ جو زیادہ حقیقت پسند مبصر ہیں ان کے خیال میں عراق میں موجود ڈیڈ لاک سے دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں لہٰذا دونوں کا مفاد اسی میں ہے کہ عراق میں ڈیڈ لاک برقرار رہے۔

امریکہ کو اس صورتحال کی وجہ سے خطے میں اپنے حلیفوں کی حمایت برقرا ر رکھنے میں مدد ملتی ہے اور اس صورتحال کو جواز بنا کر وہ دھڑا دھڑ اسلحہ بیچ رہا ہے۔ 2013-17ء کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، بالترتیب اسلحہ درآمد کرنے والے دوسرا اور چوتھا بڑا ملک تھے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2018ء میں سعودی عرب سب سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے والا ملک تھا جبکہ متحدہ عرب امارات تیسرے درجے پر تھا۔ 2018ء میں سعودی عرب امریکہ اور چین کے بعد اسلحے پر خرچ کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا۔

ایران میں آمریت کے نظریاتی انتہا پسندوں میں پاسداران حاوی ہیں۔ پاسداران کے معاشی و فوجی مفادات کا تقاضا ہے کہ تنازعات جاری رہیں تا کہ ان کی بالا دستی قائم رہے۔

اگر عربوں میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں تو 1979ء میں انقلاب کے بعد ایران امریکا تعلقات کی تاریخ بالخصوص ری پبلکن انتظامیہ کے ادوار میں، کے پیشِ نظریہ وسوسوے ایسے بے بنیاد بھی نہیں۔ جب جنوری1981ء میں رونالڈ ریگن نے صدارت کا حلف اٹھایا تو ایران نے امریکی سفارت خانے میں مقید امریکی عملے کو رہا کر کے خوش آمدید کہا۔ بہت عرصے بعد صحافی سیمور ہرش نے انکشاف کیا کہ ریگن کی انتخابی مہم چلانے والوں نے ایران کی مدد سے اسلحہ دینے کا معاہدہ کر لیا تھا اور ریگن کے حلف اٹھاتے ہی اسلحہ ایران کو پہنچا دیا گیا۔

1985-86ء میں پھر اسلحہ فراہم کیا گیاجسے ایران کونٹرا سکینڈل کا نام دیا جاتا ہے۔ ایران کو امریکہ نے اسرائیل کی مدد سے اسلحہ بیچا اور اس سودے سے جو منافع ہوا وہ نکاراگوا میں رائٹ ونگ گوریلا فورسز کو مسلح کرنے کے لئے استعمال ہوا۔ امریکہ اور اسرائیل تو چاہتے تھے کہ ایران عراق جنگ کو بڑھاوا ملے۔ 1991ء میں ہونے والی جنگِ خلیج تک، جس میں امریکہ نے عراق کو تباہ و برباد کر دیا، اسرائیل عراق کو اپنا دشمنِ اول تصور کرتا تھا۔

عراقی فضائیہ ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے ایرانی محاذ پر مصروف تھی۔ اسرائیل نے اس کا فائدہ اٹھا کر عراق کا وہ ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا جو فرانس کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا تھا۔ 1982ء میں جب عراق کمزور ہونے لگا تو امریکہ خوش تھا کہ فرانس صدام کی مدد کر رہا ہے اور اپنے بحری بیڑے سے صدام کو ”سوپر ایتنداد“ طیارے فراہم کر رہا ہے۔ جوں ہی عراق کا پلڑا بھاری ہونے لگا، 1985-86ء میں ایران کو اسلحہ فراہم کیا گیا تاکہ توازن برقرا رہے۔ یہ تنازعہ 1988ء میں ہار جیت کے بغیر اس وقت ختم ہو ا جب فریقین لڑ لڑ کر نڈھال ہو گئے۔

دوہری پالیسی

جارج بُش سینئر کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر 1991ء میں صدام کا تختہ نہیں الٹا۔ خدشہ یہ تھا کہ جو سیاسی خلا پیدا ہو گا اسے ایران پُر کرے گا۔ ان دنوں امریکہ کی حکمت عملی تھی کہ پابندیوں کے ذریعے دونوں ملکوں کا گلا گھونٹا جائے (اسے رُوک کی دوہری پالیسی کہا گیا) مگر بش جونیئر کے دور میں یہ حکمتِ عملی ختم کر دی گئی۔ عراق پر 2003ء میں جب بش نے حملہ کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ دو بڑی جماعتوں، اسلامی دعوة اور مجلس الاعلی الاسلامی العراق (اسلامک سپریم کونسل آف عراق) کے ایران نواز ارکان جلا وطنی ختم کر کے عراق واپس آ گئے۔

یوں عراق میں ایران اور امریکہ کے مابین نیم براہ راست تعاون کا آغاز ہوا۔ قابض امریکہ نے ان دونوں شیعہ جماعتوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان کر دیا۔ 2003ء میں قائم کی گئی عراقی گورننگ کونسل میں ان دونوں کی نمائندگی تھی۔ 2006ء میں ’مستقل حکومت‘ بننے تک یہ دونوں پارٹیاں ہر عبوری حکومت کا حصہ تھیں۔ 2005ء کے بعد جو وزیر اعظم بھی بنا، ان دو جماعتوں میں سے کسی ایک کا رکن تھا: ابراہیم جعفری (2005-6ء)، نوری المالکی (2006-14ء)، حیدر العبادی (2014-18ء)، دعوة سے تعلق رکھتے تھے، اکتوبر 2018ء میں عادل عبدالمہدی وزیر اعظم بنے جو مجلس کے رکن تھے اور 2003ء کے بعد ہر انتظامیہ کا حصہ تھے۔

2006ء میں امریکہ نے پالیسی بدلی اور اسلامک اسٹیٹ آف عراق (جو داعش کی اولین شکل تھی) کے خلاف سنی قبائل کو ساتھ شامل کیا مگر ایران نواز سیاسی جماعتوں کی برتری ختم نہ کی جا سکی ‘ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایران نواز سیاسی جماعتوں کی برتری اس فرقہ وارانہ انتخابی و سیاسی نظام کی وجہ سے ہے جو لبنان کی طرز پر بنایا گیا۔

دریں اثنا، عراق کی سنی عرب آبادی بشمول صدام کی بعث پارٹی اور سپیشل فورسز امریکی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کا حصہ بن چکے تھے مگر انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ اگر امریکہ نے فوجیں نکال لیں تو ایران نواز شیعہ جماعتیں حاوی ہو جائیں گی۔

قدس فورس (جو پاسداران کا بیرونی ونگ ہے) کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی جنہیں 3 جنوری کو بغداد میں امریکہ نے ہلاک کیا، وہ شخص تھا جس نے ایران نواز حامیوں کی مدد سے عراق کو زیر کیا۔ ایران کی علاقائی سلطنت کے عرب صوبوں میں قاسم سلیمانی کو ایران کا صوبے دار کہا جاتا تھا۔ ایک دور تھا کہ خطے میں ایران کی لشکری قوت لبنان کی حزب اللہ (جو 1985ء میں قائم ہوئی) تک محدود تھی مگر اس قوت میں عراق پر 2003ء کی امریکی چڑھائی، 2011ء میں شام اندر شروع ہونے والی خانہ جنگی اور پھر 2014ء میں یمن کی خانہ جنگی کے بعد زبردست اضافہ ہوا۔ ان سب لشکری جتھوں کی مدد سے اب ایران کی مغربی سرحد سے لے کر بحیرہ روم تک ایران نے ایک جیو پولیٹیکل محور بنا لیا ہے جو عراق، شام اور لبنان پر مشتمل ہے۔

قاسم سلیمانی کی ایک اسٹریٹجسٹ کی حیثیت سے جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ مبالغہ آمیزی پر مبنی ہے: وہ کسی بھی ایسی جنگ میں فاتح نہیں تھے جس کی کمان انہوں نے کی۔ عراق پر ایرانی کنٹرول امریکہ کی مدد سے حاصل کیا گیا۔ 2013ء میں جب ایران نے شام میں مداخلت کی تو لبنان اور عراق سے شیعہ بنیاد پرست عناصر کے علاوہ ایران میں پناہ گزین افغان مہاجرین کو بھی ریکروٹ کیا گیا مگر اس کے باوجود اسد آمریت کو وقتی سہارا ہی مل سکا اور 2015ء میں اسد آمریت کی ناﺅ پھر ڈوبنے لگی تو قاسم سلیمانی نے روس سے مدد طلب کی۔

داعش کے خلاف امریکہ کی مدد

2014ء میں جب داعش نے ایک مرتبہ پھر شام سے عراق کی حدود میں مداخلت کرتے ہوئے عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تو عراقی افواج ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ جب عراقی حکومت کو لگا کہ داعش بغداد پر قبضہ کر سکتی ہے تو ایرانی آشیر باد سے امریکہ کو درخواست کی گئی کہ وہ اپنی افواج واپس بھیجے۔ امریکہ نے پاپولر موبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کی مدد سے داعش کا مقابلہ کیا۔ پی ایم ایف میں ایک طرف تو شیعہ عرب جماعتوں کے پیرا ملٹری دستے شامل تھے اور ان دستوں کی کوشش تھی کہ وہ عراق کا پاسداران بن جائیں۔ ان کے علاوہ عراقی کرد تھے۔ ادھر شام میں امریکہ نے عربوں اور کردوں کے متحدہ محاذ”سرئین ڈیموکریٹک فورسز“ سے تعاون کیا۔

ایران پی ایم ایف کو قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی ابو مہدی المہندس کی مدد سے چلاتا رہا۔ المہندس کی سرکاری حیثیت تو پی ایم ایف میں نائب سالار کی تھی مگر وہ سالار سے زیادہ طاقتور تھے۔ 3 جنوری کو وہ بھی سلیمانی کے ہمراہ ہلاک ہو گئے۔ المہندس کا کیریئر انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔

دعوة پارٹی کے رکن کی حیثیت سے، انقلابِ ایران کے بعد المہندس ایران چلے گئے۔ قدس فورس کے رکن کے طور پر 1983ء میں کویت میں فرانس اور امریکہ کے سفارت خانوں پر حملے منظم کرائے کیونکہ دونوں عراق کی حمایت کر رہے تھے۔ 2003ء میں وہ عراق واپس آ گئے اور وزیر اعظم جعفری نے انہیں امورِ سلامتی کا مشیر لگا دیا۔ 2005ء میں رکنِ پارلیمان بنے۔ ایران کی مدد سے کتیب حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔ 2006ء میں جب امریکہ کو لگا کہ اسے عراق سے بوریا بستر گول کرنا پڑے گا تو اسے یاد آیا کہ المہندس نے کویت میں سفارت خانوں پر حملے کرائے تھے۔ المہندس ایران فرار ہو گئے اور 2011ء میں امریکی دستوں کے انخلا کے بعد عراق واپس آئے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بھی عراق اندر، ایران نواز عراقیوں کے ذریعے، امریکہ اور ایران کا تعاون جاری رہا۔ ٹرمپ نے عراق سے امریکی انخلا کی بات کبھی نہیں کی۔ وجہ بھی ظاہر ہے۔ اپنے پیش رو صدور کے بر عکس صدر ٹرمپ برملا اس حکمتِ عملی کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکی دستے وہاں تعینات کرو جہاں کوئی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ شام میں کردوں کی مدد کے لئے یا افغانستان میں زیادہ فائدہ نہیں۔ تیل سے مالا مال خلیجی ممالک میں زیادہ فائدہ ہے کیونکہ یہ ممالک امریکی افواج کا خرچہ بھی اٹھاتے ہیں۔ عراق میں بھی یہ منافع بخش سودا ہے۔

2016ء کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے متعدد بار برملا کہا کہ امریکہ کو عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لینا چاہئے تا کہ وہاں تعینات امریکی افواج کے اخراجات وصول کئے جا سکیں۔ اسی طرح وہ عراقی حکومت سے کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اسی صورت انخلا کرے گا اگر عراق ایک بھاری قیمت ادا کرے۔ بلاشبہ عراق کو بھی یہ پوراحق حاصل ہے کہ وہ امریکہ سے مطالبہ کرے کہ اس کے اس نقصان کی تلافی کرے جو امریکہ نے عراق کا کیا ہے بالخصوص وہ اربوں ڈالر جو امریکی قبضے کے دوران غائب ہوئے۔

پچھلے چند مہینوں میں عراق اندر بگڑتے ہوئے امریکہ ایران تعلقات کی دو وجوہات ہیں۔ اول: مئی 2018ء میں ایٹمی معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر معاشی دباﺅ بہت بڑھا دیا ہے۔ اس کا جواب ایران نے امریکہ کے حلیف سعودی عرب پر حملے کے ذریعے دیا۔ کم از کم یہ الزام ضرور لگایا گیا کہ 14 ستمبر 2019ء کو سعودی تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے حوثی باغیوں نے کئے۔ ادھر اس حملے پر ٹرمپ انتظامیہ کا لاپرواہی والا رویہ دیکھ کر سعودی حکمرانوں کے کان کھڑے ہو گئے۔

ایک براہِ راست خطرہ

دوسری وجہ ایک براہ راست خطرہ ہے۔ پی ایم ایف اور عراقی سکیورٹی ذرائع سے رائٹرز نے خبر دی تھی کہ قاسم سلیمانی نے اکتوبر کے وسط میں المہندس اور عراقی ملیشیا کے کمانڈروں کا ایک اجلاس بغداد میں بلایا تھا۔ یہ اجلاس اس پس منظر میں ہو رہا تھا کہ یکم اکتوبر کو عراق کی شیعہ آبادی نے عراق پر ایرانی اثر و رسوخ اور عراقی حکومت وپارلیمان میں قابلِ اعتراض ایران نواز عناصر کے خلاف عوامی مظاہرے کئے۔ تہران، بالخصوص قاسم سلیمانی، ان مظاہروں پر ہکا بکا رہ گیاکیونکہ عراق پر ایرانی اثر و رسوخ کی بنیاد فرقہ وارانہ تھی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عراق میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جائے(جس کے لئے ایران نے پہلے سے اسلحہ فراہم کر دیا تھا) مگر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کی جائے۔

سلیمانی کا مقصد تھا کہ امریکہ فوجی رد عمل دکھائے اور یوں عوامی غصے کا رخ امریکہ کی طرف موڑ دیا جائے۔ جب نومبر میں ایران کے اپنے اندر مذہبی آمریت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تو لوگوں کی توجہ بانٹنے کے لئے مندرجہ بالا حکمت عملی اور بھی ناگزیر ہو گئی۔ ایران نواز قوتوں کی جانب سے امریکی اہداف پر حملے 27 دسمبر کو عروج پر تھے جب کرکوک میں ایک عراقی فوجی اڈے پر تیس میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک اور چار امریکی زخمی ہو گئے۔ دو عراقی بھی ہلاک ہوئے۔ دو دن کے بعد امریکہ نے اس حملے کا جواب کتیب حزب اللہ کے معسکر پر حملہ کر کے دیا جس کے نتیجے میں 25 ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

31 دسمبر کو صدر ٹرمپ کی سٹپٹاہٹ عروج پر ہو گی جب بغداد میں امریکی سفارت خانے پر کتیب حزب اللہ نے حملہ کر دیا حالانکہ سفارت خانے کی حفاظت پر عراقی دستے معمور تھے۔ بہت سی یادیں تازہ ہو گئی ہوں گی: 1979-81ء تہران میں امریکی سفارت خانے کا گھیراﺅ، 2012ء میں بن غازی (لیبیا) میں امریکی سفارتی عمارت پر حملہ جس میں امریکی سفیر سمیت چار اہل کار ہلاک ہو گئے تھے اور ٹرمپ نے اس کی ذمہ داری اوبامہ اور ہیلری کلنٹن پر ڈالی تھی۔

پس امریکہ نے سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت کا فیصلہ کر لیا۔

ایران نے کافی سوچ سمجھ کر جواب دیا: اس نے الاسد فوجی اڈے اور دیگر امریکی اہداف کو نشانہ بنایاجلد ہی یہ خبریں بھی آ گئیں کہ امریکہ کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔ گو یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اطلاع کیسے دی گئی۔ ہاں مگر ڈرون اور کروز کی بجائے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ مقصد یہی تھا کہ امریکی اپنا دفاع با آسانی کر سکیں۔ حملے کا مقصد یہ تھا کہ عزتِ سادات بھی بچ جائے اور بات بھی زیادہ نہ بگڑے۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران ایک ایسے رہنما سے محروم ہو گیا ہے جس کی بہت تکریم تھی اور جس کے پاس کافی تجربہ تھا۔ قاسم سلیمانی کا جنازہ 1989ء میں خمینی کے جنازے سے بھی بڑے پیمانے پر منظم کیا گیا۔ یہ جنازہ ایرانی قوم پرستی کو اجاگر کرنے کی ایک مہم تھی۔

حزبِ اختلاف کے علاوہ، شاہ ایران کے حامی بھی اس کا حصہ بنے حالانکہ انہوں نے تو موجودہ حکومت کی وجہ سے بادشاہت کھو دی تھی مگر 8 جنوری کو یوکرینی طیارے کی تباہی، جس میں 176 افراد ہلاک ہو گئے، کے بعد ایرانی مظاہرین ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے۔ گو مظاہرین کی تعداد قاسم سلیمانی کے جنازوں کے مقابلے بہت کم ہے مگر یاد رہے جنازے حکومت نے منظم کئے جبکہ تمام جبر کے باوجود مظاہرے حکومت کے خلاف منظم ہوئے۔

ادھر عراق میں امریکی مخالفت کو اتنی ہوا دینے کے باوجود مظاہرین کو گھر نہیں بھیجا جا سکا۔ مظاہرین ایران سے بھی خفا ہیں اور امریکہ سے بھی۔ وہ ناراض ہیں کہ یہ دونوں ملک عراق کی خود مختاری کو ہڑپ کر گئے ہیں اور دونوں نے عراق کو میدان جنگ بنا رکھا ہے اوردونوں عراق پر حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ شیعہ سنی خلیج کو مٹاتے ہوئے یہ مظاہرے ممکن ہے عراقی مستقبل کا ایک اہم موڑ ثابت ہوں۔

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔