خبریں/تبصرے

’کیمونسٹ مینی فیسٹو‘ آسکر کی تقریب میں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ”جب دنیا بھر کے محنت کش ایک ہو جائیں گے تو دنیا کے حالات اچھے ہو جائیں گے“۔ یہ الفاظ تھے جولیا رائی چرٹ (Julia Riechert)کے!

یہ الفاظ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی شہرہ آفاق تحریر”کیمونسٹ مینی فیسٹو“کا مشہور نعرہ:”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!“ کی طرف اشارہ تھے۔

یہ الفاظ جولیا رائی چرٹ نے گذشتہ روز آسکر جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کہے۔ انہیں ان کی ڈاکومنٹری ”امریکن فیکٹری“ پر آسکر دیا گیا۔ یہ دستاویزی فلم ایک چینی کارپوریشن کی ملکیت میں چلنے والی ایک گارمنٹ فیکٹری کی کہانی ہے جہاں مزدوروں کو یونین نہیں بنانے دی جا رہی۔

اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق عمومی طور پر آسکر ایوارڈ زکی تقریب سیاسی رنگ کم ہی اختیار کرتی ہے مگر یہ ایک سیاسی لمحہ تھااور”کیمونسٹ مینی فیسٹو“ کا ذکر شاید آسکر ایوارڈ کی تقریب میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز نے اداکار بریڈ پِٹ کا بھی ذکر کیا ہے جنہوں نے مذاق ہی مذاق میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے عمل کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: ”مجھے تقریر کے لئے 45 سیکنڈ دئیے گئے ہیں جو کم از کم جان بولٹن کی نسبت زیادہ وقت ہے“۔ یاد رہے جان بولٹن مواخذے کی تحریک میں سب سے اہم گواہ تھے۔